بینکوں نے نئی حکومت کو قرضہ دینے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ۔۔۔

بینکوں نے نئی حکومت کو قرضہ دینے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ۔۔۔
بینکوں نے نئی حکومت کو قرضہ دینے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ۔۔۔

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) کمرشل بینکوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو قرضہ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے جس کے باعث لوڈشیڈنگ کے دورانئے میں اضافے کا امکان ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق گردشی قرضہ نئی حکومت کیلئے دردسربن گیا ہے اور اب لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے بجلی کے شعبے کیلئے 8 کمرشل بینکوں سے قرضہ مانگا تھا اور اس رقم سے گردشی قرضے کی مد میں 50 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنا تھیں، یہ ادائیگیاں رواں ہفتے کی جانی تھیں تاہم 8 کمرشل بینکوں کے کنسورشیم نے حکومت کو قرض دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ بینکوں کے کنسورشیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ پہلے ہی اس مد میں تقریباً 600 ارب روپے قرض دے چکے ہیں اس لئے مزید قرضہ نہیں دے سکتے۔

ذرائع کے مطابق سابقہ حکومت نے بینکوں سے قرض لے کر ادائیگیوں کافیصلہ کیا جس پر نئی حکومت نے قرض مانگا تھا اور وزارت خزانہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس بار قرض دیدیں، دوبارہ سابقہ ادائیگیوں کے بغیر نیا قرضہ نہیں مانگا جائے گا، اس یقین دہانی کے بعد بینکوں نے اگلے ہفتے درخواست پر دوبارہ غور کرنے کا وعدہ کر لیا ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد