لاہور میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں بڑھنے لگیں ، ’’نئے پاکستان ‘‘ میں بھی پولیس کے ’’پرانے ‘‘طور طریقے نہ بدلے

لاہور میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں بڑھنے لگیں ، ’’نئے پاکستان ‘‘ میں بھی ...
لاہور میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں بڑھنے لگیں ، ’’نئے پاکستان ‘‘ میں بھی پولیس کے ’’پرانے ‘‘طور طریقے نہ بدلے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)شہر لاہور میں چوری ،ڈکیتی اور موبائل چھیننے کی وارداتیں بڑھنے لگیں ،پولیس کا رویہ ’’نئے پاکستان ‘‘ میں بھی تبدیل نہ ہو سکا ،تھانہ نصیر آباد کی حدود میں معروف صحافی کے گھر میں چوری کی واردات ،دو نامعلوم چور علی الصبح گھر میں گھس کر قیمتی موبائل فون اور اپلائیڈ فار موٹر سائیکل لے اڑے ،پولیس مقدمہ درج کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لینے لگی ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور پریس کلب کے کونسل ممبر اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘کے سینئر صحافی خالد شہزاد فاروقی کے گھر علیٰ الصبح ساڑھے چار بجے دو نامعلوم چور دوسری منزل میں داخل ہوئے اور کمرے میں موجود  لکڑی کی الماری کھول کر تلاشی لینے لگے ،شور کی آواز سن کر اہل خانہ کی آنکھ کھل گئی اور شور مچانے پر چورفرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تاہم جاتے جاتے  نامعلوم چور کمرے میں پڑا قیمتی موبائل فون اور گھر کے باہر کھڑی اپلائیڈ فار موٹر سائیکل کا لاک توڑ کر لے گئے ،شور کی آواز سن کر اہل محلہ بھی جاگ گئے اور چوروں کا پیچھا کیا تاہم وہ تیزی کے ساتھ بائیک پر رفو چکر ہو گئے ۔سینئر صحافی نے کئی بار ون فائیو پر کال کی تاہم پولیس نے روایتی سستی کا مظاہرہ کیا اور دو گھنٹے بعد بھی نہ پہنچی جس پر صحافی چوکی فردوس مارکیٹ میں خود چلا گیا اور گھر میں پیش آنے والی واردات سے چوکی میں موجود  اہلکاروں کو آگاہ کیا ،اس کے باوجود پولیس اہلکار ایک گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے اور روائتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوکی میں آ کر درخواست دینے کا کہہ کر چلتے بنے ۔صحافی خالد شہزاد فاروقی نے جب چوکی جا کر درخواست دی تو محرر نے انہیں تھانہ نصیر آباد جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی کارروائی نہیں کر سکتے ۔متاثرہ صحافی جب آٹھ بجے تھانہ نصیر آباد پہنچا تو اہلکاروں کا کہنا تھا کہ آپ بہت جلدی آ گئے ہیں،دس بجے کے بعد آئیں جس پر مقامی صحافی  صبح  10 بجے ایک بار پھر تھانے پہنچا اور  آن لائن سسٹم میں چوری کی درخواست کا اندراج کروایا ۔اس حوالے سے جب چوکی انچارج فردوس مارکیٹ  وسیم اقبال سے رات ساڑھے نو بجے رابطہ کر کے ایف آئی آر کی بابت پوچھا گیا تو سب انسپکٹر ٹال مٹول سے کام لینے لگا اور کہا کہ آپ کی درخواست پر کارروائی کے لئے ہمارے پاس  تین دن کا ٹائم ہے،آپ کی ایف آئی آر  کٹ جائے گی ۔

صحافی خالد شہزاد فاروقی نےکہاہے کہ پولیس کی تبدیلی کے دعویٰ اب تک صرف    دعویٰ ہی ہیں ،پولیس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ تھانے میں جانے والے سائلین کے ساتھ پولیس اہلکار ایسا سلوک کرتے ہیں کہ عام آدمی خود کو ہی مجرم محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے ،شہر میں چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں لاہور پولیس کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے جب ون فائیو پر کئی بار کال کرنے کے باوجود تھانہ نصیر آباد ڈیوٹی پر موجود اہلکار سے رسپارنس نہ ملنے کی شکایت کی تو اہلکار کا کہنا تھا کہ جب وائرلس ہوئی اس وقت پولیس ایک دوسرے ’’مشن ‘‘ میں مصروف تھی آپ کے پاس کیسے آتی ؟۔صحافی خالد شہزاد فاروقی نے سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے ساتھ پولیس سٹیشنز میں بد سلوکی اور فوری قانونی کارروائی کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لینے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے گھر میں چوری کرنے والے نامعلوم چوروں کو تلاش کر کے ان کی موٹر بائیک اور قیمتی موبائل برآمد کروایا جائے ۔  

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور