بے بنیاد مماثلث!

بے بنیاد مماثلث!
بے بنیاد مماثلث!

  



شاہنواز بھٹو کی برسی کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ملک میں بحالی ئ جمہوریت کے لئے جاری عوامی جدوجہد میں بھٹو خاندان کی جانب سے بھرپور قائدانہ کردار ادا کرنے کی پاداش میں شاہنواز بھٹو کو گہری اور گھناؤنی سازش کے تحت شہید کیا گیا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ آمریتی عناصر شاہنواز بھٹو کی انقلابی سوچ سے خائف اور پاکستان کے نوجوانوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ تھے!

شاہنواز بھٹو، بھٹو خاندان کا ایک روشن چراغ تھا،جو قضا کی ہوا سے بے وقت بجھ گیا۔ فرانس کے شہر کینز کی ایک سڑک ایوالبرٹ پر فلیٹ نمبر64، جو کہ خوبصورت و سرسبز پہاڑیوں کے درمیان سمندر کے قریب واقع ہے، مَیں 18جولائی1985ء کو وہ پُراسرار طریقے سے جاں بحق ہو گئے۔ یہاں وہ اپنی افغان نژاد بیوی ریحانہ اور اکلوتی بیٹی سسّی کے ہمراہ گزشتہ کئی ماہ سے مقیم تھے۔ان کی 34ویں برسی پر جناب بلاول بھٹو کا بیان پڑھ کر مجھے کئی بھولی بسری یادوں اور تاریخی حوالوں نے آ گھیرا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کچھ غلط نہیں کہا۔شاہ، واقعتا ایک گہری اور گھناؤنی سازش کے نتیجے میں مارے گئے،نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کا قاتل کون تھا؟ تاہم انگلیاں ان کی بیوی ریحانہ کی بہمیّت پر اُٹھتی رہی ہیں۔

شاہنواز بھٹو اندھیرے میں ہلاک ہوا اور وجہ ئ قتل کی کہانی اندھیرے میں ہی رہ گئی،لیکن ایک اور بھٹو عین شام کے وقت نشانہ بنایا گیا تھا۔ تب رات کے سائے گہرے نہیں ہوئے تھے،میر مرتضیٰ بھٹو! محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت کے خاتمہ سے پہلے کی بات ہے۔ وزیراعظم صاحبہ اور ان کے صدرِ مملکت فاروق احمد لغاری میں سرد مہری، بلکہ کشیدگی اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ بے نظیر حکومت کوئی ہفتہ دس دن کی مہمان ہے۔روز و شب پھیلتی افواہوں سے عوام نے قیاس پکڑا۔ 88ریلوے روڈ، لاہور پر واقع مطب حکیم محمد موسیٰ امرتسری میں بزعمِ خود ایک باخبر آدمی نے اپنے ”تعبیر“ ذرائع سے اس امر کی تائید کی، اور داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا: ”پیپلزپارٹی کی حکومت اِسی ہفتے جا رہی ہے“۔

”ایسا ہی طے پایا تھا،مگر حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ حفظ ِ ماتقدم کے طور پر فی الحال موخر کر دیا گیا ہے“۔ حکیم صاحب سے مخاطب ہو کر ایک اور شخص نے فیصلہ کن انداز میں بات آگے بڑھائی! کیونکہ اِس وقت بے نظیر کی اقتدار سے علیحدگی کی صورت میں پی پی پی کی قیادت بلاواسطہ مرتضیٰ کے ہاتھ میں چلی جائے گی، جوقابل ِ قبول نہیں۔ دوا اور دُعا لینے کے بعد یہ چوتھا شخص چلا گیا۔ ”گو، ایک اور ظلم ہونے جا رہا ہے“۔ قبلہ حکیم صاحب نے باقی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا?

میر مرتضیٰ بھٹو کی سر شام ہلاکت، شاہ نواز کے قتل سے بھی ایک بڑی سازش تھی، جس میں بدقسمتی سے اکثر لوگ آج تک آصف علی زرداری کو ذمہ دار سمجھتے چلے آئے ہیں، پھر چند برس ہی گزرے تھے کہ راولپنڈی میں رات اُترنے سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ماری گئیں۔ساتھ ہی قومی انتخاب کا مرحلہ آیا تو ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور بلاول کے والد ِ محترم آصف علی زرداری صدرِ مملکت! یہ بھی ایک بھیانک سازش تھی،کیا آخری؟ خدا کرے کہ آخری ہی ہو! خاکم بدہن! قابلیت و جذبہ رکھنے والا کبھی کوئی اور بے گناہ نہ مارا جائے!

یہ کیسی سازشیں ہیں کہ ابھی تک بے نقاب نہیں ہو پائیں، کہا جا سکتا ہے اور کہا بھی جاتا ہے کہ ”قاتل“ بہت طاقتور ہیں۔حضور! اگر یہ منطق، اگرچہ قاتل طاقتور نہیں، کمزور ہوتے ہیں، مان بھی لی جائے تو ”مردِ حُر“ کا معنی؟ جو اپنے ”کاروبار“ اور کاروبارِ سیاست و ریاست میں کسی کے سامنے جواب دہ نہیں،وہ ”سازشوں کا دیباچہ“ پڑھنے میں ہنوز ناکام کیوں؟ سازشیں تہہ در تہہ ہیں، یا محجوب سازشی؟ حقیقت کھل نہیں رہی، یا کوئی کھولنا نہیں چاہتا؟

کل ایک شخص کہہ رہا تھا کہ زرداری ”خانوادہ“ شاید عباسیوں کے مصداق ہے۔ عوام تو خاندان اہل ِ بیت کی محبت و حمایت میں اُٹھے تھے، لیکن پھل انہوں نے کھایا، اور پھر خود عباسیوں نے علویوں کے ساتھ کیا کِیا؟ اس کا موقف یہ تھا کہ لہو ہمیشہ بھٹوؤں کا گرا، جبکہ ثمرات زرداریوں نے سمیٹے! یہاں تک کہ سکہ رائج الوقت دیکھ کر ایک طرح سے زرداری چُغہ ہی اتار پھینکا، اور بھٹو ہو گئے! میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ ٹاٹ میں گلاب کا پیوند لگانے والی بات ہے، وگرنہ شجر سادات اور آلِ عباسیہ سے بھٹو خاندان یا زرداری قبیلہ کو کیا نسبت ہو سکتی ہے؟ بات کرنی ہو تو لازم ہے کہ منہ سنبھال کر کی جائے!

مزید : رائے /کالم