وزیراعظم عمران خان بڑے میچ کے بڑے کھلاڑی

وزیراعظم عمران خان بڑے میچ کے بڑے کھلاڑی

 تجزیہ؛  ایثار رانا

یہ ایک فخر آمیز خطاب تھا،عمران خان نے امریکی صدر کے مسلم دشمنی کا جواب دے دیا ہے،،اسے ایک مقروض کمزور اور معاشی جال میں پھنسے ملک کے وزیر اعظم کا بہادرانہ جواب قرار دیا جاسکتا ہے۔ شاید پہلی بار کسی مسلم حکمران نے مدلل انداز میں نہ صرف اسلام کا دفاع کیا،انکا یہ کہنا کہ دنیا نے یہ طے کرنا ہے کہ اس نے انسانیت کا ساتھ دینا ہے یا ایک اقتصادی منڈی کا،،میں تو کہوں گا کہ انہونے اقوام متحدہ میں بیٹھ کر اقوام متحدہ اور یورپ کو اسکا اصل چہرہ دکھا دیا ہے،،براہ راست عالمی ضمیر کو چیلنج کیا ہے۔،اس خطاب کو ایک تاریخی خطاب کہا جاسکتا ہے، کیونکہ آج تک کسی پاکستانی یا مسلم حکمران نے اس اندار میں بات نہیں،،مجھے آج ذولفقار علی بھٹو یاد آگئے،،،اللہ عمران خان کی زندگی کو اپنی امان میں رکھے۔شاید بھٹو مرحوم کے بعد یہ پہلا خطاب ہے جو دلائل جذباتیت اور اعتماد لئے ہوئے تھا۔،،،عمران خان نے جذباتیت کے ساتھ جس اندار میں نبی پاک? سے ایک مسلمان کی عقیدت کو اجاگر کیا وہ ایک تاریخی کارنامہ ہے،اسلامی دہشت گردی کے حوالے سے یقیننا یورپی مفکر ایک بار سوچے گا ضرور،اج انہوں نے یورپ کے معاشرے میں کئی سوال چھوڑ دئے ہیں،ہوسکتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کے کان پہ جوں نہ رینگے لیکن وہ پوری دنیا میں اور تھنک ٹینکس میں کئی سوال چھوڑ گئے،ساتھ ساتھ انہوں نے بھارت کے پاکستان پر دہشت گرد کے الزامات کا بہت سمارٹ انداز میں جواب دیا،،کل بھوشن یادیو کا ذکر کرکے انہوں نے حساب برابر کردیا،،،شاید انہیں بڑے میچ میں بہتر پرفارمنس دینے کی پریکٹس ہے،وہ بڑے میچ کے بڑے کھلاڑی ثابت ہوئے،،یقینا اقوام متحدہ کی کورٹ میں گیند چلی گئی ہے اب اسکی ساکھ بھی دا? پر ہے،،،کہ وہ کسی طاقتور کے خلاف بھی کھڑی ہوسکتی ہے یا صرف تگڑوں کی باندی بن کے رہ گئی ہے،،،وزیر اعظم اکثر فی البدیہ خطاب میں کچھ نہ کچھ غلطی کرجاتے ہیں لیکن آج میں بطور صحافی توقع کرتا رہا کہ اب کچھ غلط ہوگا لیکن انہوں نے مجھ اور اپنے ناقدین کو اس حوالے سے مایوس کیا،اگر مسلمانوں میں طیب اردگان مہاتیر محمد اور عمران خان جیسی قیادت سامنے آجائے تو پوری دنیا،شام عراق افغانستان مصر لیبیا میانمار روہنگیا میں سسکتے ملسمانوں کی اشک شوئی ہوسکے،،،آخری بات جب وہ یہ کہتے ہیں کہ غریب ممالک سے قائدین کی شکل میں لٹیرے دولت یورپ بھیج دیتے ہیں اور یورپ اس پہ عیش کرتا ہے اور نہایت باریکی سے انہوں نے ان غیر ملکی آقاؤں کو بھی شرم دلائی جو غریب ممالک میں منصوبہ بندی سے نااہل حریص اور کند ذہن قیادت مسلط کرتے ہیں۔یعنی عمران خان نے کرپٹ قیادت کے حوالے سیاپنا بیانیہ پاکستان کے ساتھ پوری دنیا تک پہنچا دیا

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ /رائے


loading...