طاقت کا توازن

طاقت کا توازن

  

امرِ واقع یہ ہے کہ سال 2019میں بھی امریکہ ہی دنیا کی سپر پاور ہے۔اس کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور تمام برِ اعظموں میں اسی کا سِکہ چلتا ہے۔ لیکن سیاسی پنڈتوں کے مطابق یہ پچھلی دہائیوں کا تسلسل ہے،جو اُسے اب تک اقتدار کے راج سنگھاسن پر بٹھائے ہوئے ہے۔ وہ پالیسیاں جو امریکہ کی ترقی اور اثر کو قائم رکھے ہوئے تھیں وہ کمزور ہو چکی ہیں۔ حالانکہ چین کا جی ڈی پی بہت پہلے کا امریکیوں کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ امریکہ میں انحطاط اور نقصان کا احساس بڑھ رہا ہے۔ طاقت کا توازن تبدیل ہونا کوئی آسان بات نہیں، اس دقیق سوال کا جواب اگلی دہائی میں ہی ملے گا۔ کیا یہ تفاوت کسی تباہ کن جنگ کی طرف لے جائیگی یا جنگ جیسی کسی صورتحال کی متقاضی ہو گی، یہی قابلِ فکر بات ہے۔

ستمبر 2019میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے فخریہ انداز میں چین کے اقتصادیاتی حربوں کے جواب میں کہا کہ چین میں 30لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ یہ فقط عذرِ لنگ تھا جو امریکہ اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا تھا۔ ادھر چین نے بار بار یہ اظہار کیا ہے کہ وہ امریکی گیڈر بھبکیوں کا جواب ساؤتھ چائنہ سی اور کورین جزیرہ نما میں دینے کے لیے تیار ہے۔ صدیوں پہلے یونانی مؤرخ”تھیوسیڈس“ نے جب دیکھا کہ ایتھنز کے مقابلے میں سپارٹا کہیں زیادہ ترقی کر رہا ہے تو اس نے وجوہات و عوامل کا تفصیلی جائزہ لے کر اس صورتحال کوتحقیقی شکل دی جسے اُس نے”تھیوسیڈس ٹریپ“کا نام دیا۔ اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ جب ایک قوم دوسری قوم سے قوت، مالی ترقی اور فوجی استعداد میں آگے بڑھنے لگتی ہے تو اس عدم توازن سے ان کے مابین جنگ کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے۔ اس تھیوری کو ڈھائی ہزار سال گزر گئے لیکن یہی بات آج امریکہ کا مشہور سیاسی مفکر ہنری کسنجر کہہ رہا ہے۔ یہ وہی ہنری کسنجر ہے جس نے 1970میں چین کا پہلا دورہ کر کے امریکہ اور چین کے مابین پہلی بار برف پگھلائی تھی۔ کسنجر کہتا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تھیوسیڈس ٹریپ موجود ہے اور اسے اس جنگ سے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ وہ کہتا ہے کہ پچھلے پانچ سو سالوں میں کہیں بھی دو ممالک کے درمیا ن ایسی صورتحال سامنے آئی تو 16میں سے 12بار جنگ ہوئی۔ بہت سے محاذوں پر امریکہ اور چین مدِ مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ اُن میں سب سے پہلامحاذ جنوبی اور شمالی کوریا کا قضیہ ہے۔ جو مفکر یہ سوچتے ہیں کہ ان دونوں میں جنگ جیسی کوئی صورتحال نہیں ہے، وہ بھول جاتے ہیں کہ 1952کی کورین جنگ میں چینی فوجوں نے امریکہ کو بحر الکاہل کے جنوبی حصوں کی طرف دھکیل دیا تھا۔

آج بھی اگر جزیرہ نمائے کوریا میں طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو دونوں فوجوں کا ٹکراؤ بعید از قیاس نہیں ہو گا۔ دوسرا نقطہءِ تصادم ساؤتھ چائینہ سی کا قضیہ ہے جہاں امریکن نیوی کے جہاز لنگر انداز ہیں۔ بین الاقوامی ادارے جیسے ورلڈ بینک، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور آئی ایم ایف، جو امریکہ کے کہنے پر چلتے ہیں،انہوں نے چین کو نظرانداز کر کے اس قضیے کو اور سنجیدہ بنا دیا ہے۔ چینی افواج کی تربیت ہی ان خطوط پر ہوئی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے ایک انچ سے بھی کسی بیرونی طاقت کے سامنے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ چین کے پاس نیو کلیائی ہتھیاروں کا بھی وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ چینی فوج کا ماٹو ہے ”ایک فوج جو جیتنے کے لیے لڑتی ہے“۔دوسری جانب امریکی حکومت غیر متعلقہ پانیوں میں، دشمن کی طاقت کا اندازہ لگائے بغیر وہاں جنگ کا انتظار کر رہی ہے۔ سووویت یونین محض ایک دھمکی ہے جبکہ چین کی حکومت کے پیچھے ایک بڑی افرادی قوت بھی ہے اور قومی جذبہ بھی۔

صورتحال یہ ہے کہ ژی چن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے راستے متصادم ہو رہے ہیں۔ٹرمپ چین پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتا رہتا ہے جبکہ چینی امریکی اوردوسری ملٹی نیشنل کمپنیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو چین کے لیے تجارتی خسارے کا باعث بنتی ہیں۔ امریکی حکومت نے چین کا قرض چکانے کے لیے چینی برآمدات پر بہت سے ٹیکسوں اور ٹیرف میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ سیاسی اور ثقافتی اختلافات ایک طرف ان دونوں کے اقتصادی اختلافات بھی ہیں جو اس حد تک آ گئے ہیں۔2018تک چین اور امریکہ اقتصادی شراکت دار تھے اور بظاہر اختلافات نظر نہیں آتے تھے۔ آج وہ وقت آن پہنچا ہے جب امریکہ اور اس کی سرپرستی میں چلنے والے اداروں نے چینی تجارت کو مشکل بنا دیا ہے۔ امریکہ اس وقت جج، جیوری اور جلّاد کے تینوں کردار اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ چین نے امریکی اقتصادی پابندیوں کا جواب جوابی پابندیاں لگا کر دیا ہے جو کہ کسی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ورلڈ بینک یا اقوامِ متحدہ کی محتاج نہیں۔

ون بیلٹ ون روڈ چینی حکومت کا ایک منصوبہ ہے جس سے وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ ژی چن پنگ کے الفاظ میں چین 2049تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بننا چاہتا ہے اور یہ حقیقت پیپلز ری پبلک آف چائنہ کے آئین میں شامل ہے۔ اوبور ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی وجہ سے زمین اور سمندر دونوں میں نقل و حمل کا جال پھیل جائے گا۔ اس سے نا صرف پرانی شاہراہِ ریشم بحال ہو گی بلکہ اس سے ایشیاء اور یورپ کے بہت سے ممالک تک چین کی تجارت پھیل جائے گی۔اس منصوبے کا امریکہ کے پاس کوئی جواب نہیں۔کیونکہ ایران ترکی پاکستان اور روس اس منصوبے کو کامیاب کرانے کے لیے تہہِ دل سے کوشاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اوبور کا اقتصادی پہلو دیکھتے ہوئے خوفزدہ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ہونا یہ چاہیے کہ ایک تلخ محاذ آرائی کی بجائے باہمی عزت کی پالیسی اپنائی جائے کیونکہ کہا جاتا ہے”وہ جو ماضی سے سبق حاصل نہیں کرتے وہ غلطیوں کو دہرانے کی حماقت کرتے ہیں“۔دونوں قوموں کو اپنے راستے اسطرح متعین کرنے چاہئیں کہ وہ”تھیوسیڈس ٹریپ“ سے بچ جائیں۔اگر امریکہ اور چین کے درمیان جنگ ہوئی تو پھر کچھ نہیں بچے گا اور کوئی نہیں جیتے گا۔ باہمی تباہی کے ہتھیار اتنے مہلک ہیں کہ شاید نسلِ انسانی ہی باقی نہ رہے۔ آگ کو پانی سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے نہ کہ اسے اور ہوادی جاتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ دونوں عظیم اقوام طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کو خوف کی بجائے عزت کی نگاہ سے دیکھیں گی۔

مزید :

رائے -کالم -