آل پارٹیزکانفرنس اور میاں محمد نواز شریف 

 آل پارٹیزکانفرنس اور میاں محمد نواز شریف 
 آل پارٹیزکانفرنس اور میاں محمد نواز شریف 

  

پاکستان پیپلز پاڑٹی کی دعوت پر 20ستمبر اتوار کے روز اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد پاکستانی سیاست کے سمندر میں اگرچہ کوئی بہت بڑی ہلچل اور اس کی لہروں میں کوئی اضطراب پیدا نہیں ہوا،ا س سے موجودہ حکومت کا جانا ٹھہر گیا  "صبح گئی یا شام گئی" کا تاثر بھی نہیں ابھرا، ابھرنا بھی نہیں چاہیے کہ اسے25جولائی 2018کوملنے والا مینڈیٹ اس لیے ہر گز نہیں تھا کہ اسے دو اڑھائی سال بعد چلتا کر دیا جائے لیکن منعقد ہ کانفرنس کے بعد ایک بات ضرور واضح ہوئی ہے کہ اس سے حکومت کی مشکلات میں قدرے اضافہ ضرور ہو گیا ہے کیونکہ آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں کے تعاون سے معرض وجود میں آنے والے نئے سیاسی اتحاد جسے"

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ "کا نام دیا گیا ہے (ابھی اس پر اتفاق ہوا ہے باقاعدہ اعلان نہیں ہوا) جس کے 26 نکاتی مشترکہ اعلامیئے کا پہلا نکتہ وزیراعظم کے ستعفیٰ کا مطالبہ سامنے آیا ہے جسے تسلیم کیا جانا اتنا آسان نہیں جتناسمجھا جا رہا ہے کیونکہ خود اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا وجود تا دیر برقرار رہنا اگر ممکن نہیں تو  مشکل ضرور ہے اس لیے کہ نہ صرف بڑی اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کی نیت پر بعض شکوک و شبہات اور تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں بلکہ ایک دوسرے کو حکومت کی بی ٹیم ہونے کا طعنہ بھی دے چکی ہیں اس حوالے سے مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری ریکارڈ پر ہیں اور یہی بات ہے جو وزیراعظم عمران خان کے لیے خیر مستور اور نعمت غیر مترقبہ سمجھی جانی چاہیے لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ آل پارٹیز کانفرنس ملکی سیاست میں ہیجان پیدا نہ بھی کر سکی اور یہ ایک اہم موڑ ثابت نہ بھی ہوا  تو وقت اپوزیشن کے ہاتھ میں ضرور آتا جا رہا ہے نیز یہ کہ اگر کسی ملک گیر احتجاج کی کال دے دی گئی جیسا کہ کانفرنس میں عندیہ ظاہر ہو ا تودسمبر کے وسط تک موسم اور وقت اپویشن کا ساتھ ضرور دے گا۔ 

آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جو زبر دست بحت چھڑی ہے وہ کانفرنس کے شرکا سے پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق سربراہ (کیونکہ خودکوملنے والی عدالت کی طرف سے سزا کے بعد وہ دراصل ن لیگ کے سربراہ نہیں رہے) میاں محمد نواز شریف کی تقریر ہے جس میں ملک کی مقتدر اور بالا دست قوتوں کے کردار کومحدود کرنے کی بات کی گئی تھی،انہیں سیاست میں مداخلت سے احتراز کا مشورہ دیا گیا تھا،انہیں سیاسی آلائشوں سے اپنا دامن آلودہ ہونے سے بچانے کی تلقین کی گئی تھی،اور  انہیں وقتاً فوقتاً اقتدار پر شب خون مارنے سے ہاتھ کھینچنے اور باز رہنے کی مخلصانہ ہدایت  کی گئی تھی لیکن اس بیانئے کو اپنی پسند کے معنی پہناتے ہوئے ٹاک آف دی ٹاؤن بنا دیا گیا اور ایسا کرتے وقت اس بات پر قطعاً غور نہیں کیا گیا کہ یہ باتیں ایک ایسا سیاستدان کررہاہے جو نہ صرف یہ کہ انہی قوتوں کا پروردہ رہا بلکہ صدر ضیاء  الحق مرحوم کو 18اگست 1988کو بہاولپور کے قریبی بستی لال کمال میں پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد کئی سالوں تک اسلام آباد کی فیصل مسجد میں واقع ان کی آخری آرام گاہ پر جا کر ضیاء الحق کے مشن کی تکمیل کا عہد بھی کرتا رہا(یہ صدر ضیاء  الحق کا کون سا مشن تھا کسی کو کچھ پتا نہیں)ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج میاں محمد نواز شریف کے سجدہ سہو کوبسروچشم تسلیم کیا جاتا ان کے موجودہ سیاسی رویوں اور نظریات کی تحسین کی جاتی بلکہ الٹا انہیں مطعون کیا جانے لگا۔ یہاں تک کہا گیا کہ وہ صحت کے اعتبار سے ٹھیک ٹھاک ہیں اور انہیں کوئی بیماری نہیں وہ خرابی صحت کا بہانہ بنا کر بغرض علاج بیرون ملک گئے ہیں۔ واضح رہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیولنک خطاب سے پہلے میاں صاحب کی اپنے صاحبزادے کے ساتھ واک کرتے ہوئے تصویریں وائرل ہوئیں تو اس پر بھی طرح طرح کی باتیں ہوئیں۔

 جس  روزیہ تصویر اخبارات کی زینت بنی اس   روز میں  اپنے ایک لائق احترام دوست اور بھائی اعلیٰ سرکاری افسر کے دفتر بیٹھا تھا کہ میاں صاحب کی مذکورہ تصویر زیر بحث آگئی میرے کرم فرما دوست کہنے لگے یار شفقت! ایک شخص صبح اٹھتے ہی دس بارہ گولیاں معدے میں ڈال لے اور دن رات کے 24گھنٹوں میں بندہ بیس منٹ یا گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق ہلکی پھلکی واک بھی نہیں کرتا تو کیا وہ مزید بیمارنہیں ہو گا جس کی دوپہر اور رات کی دوائیاں اس پر مستزاد   ہیں مجھے بھی اس حوالے سے قائل ہونا پڑا یہ بات تو خیر مقطع میں سخن گسترانہ آگئی لیکن اصل موضوع آل پارٹیز کانفرنس ہے اگرچہ اس حوالے سے کافی مشکلات ہیں جنہیں عبور کرنا کار دار دہے لیکن جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا وقت اور موسم دونوں اپوزیشن کے ہاتھ آ رہے ہیں قارئین کو یاد ہو گا کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے عین آغاز کار پر ہی موسم گرما شروع ہو گیا تھا اور دھرنے کے شرکا کو شدید گرمی میں بٹھائے رکھنا خاصا مشکل تھا لیکن اب ستمبر قریب قریب ختم ہونے جا رہا ہے اور موسم قدرے خوشگوار ہو رہا ہے اور دسمبر کے آخر تک اگر کوئی ملک گیر تحریک یا لانگ مارچ یا دھرنے کا عندیہ واقعی عملی شکل اختیار کر گیا تو اس پر قابو پانا آسان نہیں رہے گا اور وزیراعظم کی مشکلات بڑھتی چلی جائیں گی، مہنگائی افراط زر اور مقتدر قوتوں کے ساتھ گہرے تال میل کی وجہ سے عوام اور اپوزیشن جماعتیں دونوں ناخوش ہیں لہذا عمران خان کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔رہی یہ بات کسی کے مارشل لایا سیاسی حکومت کی بی ٹیم بننے کی تو ایساالا ماشاء  اللہ سبھی کر چکے ہیں کسی ایک کو مورد الزام ٹھہرانا قریں انصاف نہیں۔

ہمیں یہ بھی علم ہے کہ وزیراعظم عمران خان میں قوت برداشت کی کمی بڑی نمایا ں اور اظہر من الشمس ہے۔حکومت ایک اچھا بھلا چلتا ہوا چینل محض اس وجہ سے بند کروا دے کہ اس نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا انٹرویو نشر کر دیا ہے اسے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کا مشورہ دینا خود کو دھوکہ دینے کے ہم معنی ہے حالانکہ انہی ٹی وی چینلز نے عمران خان کے دھرنے کو کامیاب کروانے میں مثالی کردار ادا کیا تھا۔126دنوں تک وزیر اعظم دن کو آرام اور شام کو سیاسی شو منعقد کرتے تو پورا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتا رہا اس وقت اگر میاں نواز شریف چاہتے تو صرف ایک کال پر پیمرا کو ہدایات جاری کرتے تو پیمرا دھرنے کی لائیو نشریات کو روک سکتا تھا اور جاری سیاسی شوکو ناکام بھی بنا سکتا تھا لیکن نہیں، وقت کی حکومت نے اپنا نقصان کر لیا مگر نشریات کی بندش کا الزام اپنے اوپر عائد نہیں ہونے دیا ماضی کبھی خوشگوار نہیں ہوتا کہ میاں صاحب بھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ریکارڈ پر ہیں جو اپنے اپنے ادوار میں ملک کے تمام اخبارات بند کر دینے کی دھمکی دے چکی   تھیں لہذا وزیراعظم اپنے اندر لچک پیدا کریں اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے اپوزیشن کے جائز مطالبات تسلیم کر لیں۔

 باقی رہے نام اللہ کا۔

مزید :

رائے -کالم -