گیس کے مجرم

گیس کے مجرم
گیس کے مجرم

  

وزیراعظم عمران خان نے قوم پر ایک اور بڑا احسان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سال سردیوں میں گیس کا بحران آئے گا۔واہ جی مزا آ گیا، پاکستان کو پہلی بار ایسا وزیراعظم نصیب ہوا ہے جو آنے والے کسی بحران کے بارے میں پہلے سے مطلع کر دیتا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ اس بحران کا سد باب کیسے کرے گا۔ ہاں البتہ، اس کی ذمہ داری پچھلی حکومت پر ڈالنا کبھی نہیں بھولتا۔ پچھلے دو سال سے احتساب کا ادارہ نیب بھی چونکہ صرف یکطرفہ انتقامی کاروائیاں کر رہا ہے اِس لئے وہ پچھلی حکومت میں ذمہ دار عہدوں پر براجمان لوگوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دیتا ہے تاکہ اس تاثر کو مزید تقویت مل جائے کہ واقعی اس بحران کی ذمہ دار پچھلی حکومت کی کرپشن تھی۔ گیس کے معاملہ میں بھی نیب نے پچھلی حکومت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو گرفتار کیا، لیکن کئی مہینے گذر جانے کے بعد بھی مقدمہ کا چالان احتساب عدالت میں پیش نہیں کر سکا،کیونکہ مقدمہ میں کوئی جان ہی نہیں تھی۔ بے بنیاد مقدمات اور گرفتاریوں نے حکومت اور نیب کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے، لیکن نہ حکومت کو اس بات کی کوئی پرواہ ہے اور نہ نیب کو۔ گیس کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ حکومت خود کچھ کرنے کی بجائے پچھلی حکومت پر ملبہ ڈال کر جان چھڑانا چاہتی ہے، لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔

میاں نواز شریف حکومت نے جنوری 2016ء میں قطر سے ایل این جی کا طویل المدتی معاہدہ کیا تھا،جس میں گیس کی قیمت خرید Brent کی 13.37 فیصد مقرر ہوئی تھی۔ یہ اس وقت تک دنیا میں کہیں بھی ہونے والے کسی بھی طویل المدتی معاہدہ کی کم ترین قیمت خرید تھی۔ پاکستان کے معاہدہ کے ایک ماہ بعد بھارت اور دس گیارہ مہینوں بعد بنگلہ دیش نے ایل این جی کے جو معاہدے کئے تھے ان کی قیمت خرید پاکستان قطر معاہدہ سے کہیں زیادہ تھی۔ 2017ء کے بعد گیس کی عالمی قیمتیں نیچے آنا شروع ہوئیں تو شاہد خاقان عباسی حکومت نے یکے بعد دیگرے دو اور طویل المدتی معاہدے، پانچ سال والا Brent کے 11.99 فیصد اور دس سال والا 11.59 فیصد پر کئے اور یہ دونوں بھی اس وقت تک دنیا میں ہونے والے گیس کے کسی بھی معاہدہ سے کم قیمت پر تھے۔ پاکستان میں 2018ء کے بعد عمران خان حکومت آئی تو توقع ہوئی کہ2019 ء میں گیس کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کم قیمت کے طویل المدتی معاہدے کرے گی اور خاص طور پر 2020ء میں کرونا وبا کی وجہ سے عالمی انرجی مارکیٹ کے کریش ہونے کے بعد ایسے معاہدے نہ کرنا مجرمانہ غفلت تھی، لیکن عمران خان حکومت نے شور مچانے کے علاوہ کچھ نہ کیا۔شنید ہے کہ حکومت اب Brent کے 11

.39 فیصد قیمت پر سپاٹ معاہدہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو پچھلی حکومت کے معاہدہ سے صرف 0.20 فیصد کم ہو گا، لیکن سپاٹ معاہدہ کے لئے طویل المدتی معاہدہ سے اتنا کم فرق شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو نیب نے کراچی میں بنائے گئے ایل این جی ٹرمینلزپر لگائے گئے الزامات پر گرفتار کیا تھا۔ المیہ یہ ہے دونوں ٹرمینل اب تک دنیا میں کہیں بھی بنائے گئے کسی بھی ٹرمینل سے کم قیمت پر بنے ہیں۔ ان دونوں کا غالباً قصور یہ ہے کہ انہوں نے کرہئ ارض پر سب سے کم قیمت والے ٹرمینل کیوں بنائے۔ اسی طرح پچھلی حکومت نے درآمدی گیس کو ٹرمینل سے ملک کے دوسرے حصوں تک ترسیل کے لئے کراچی سے لاہور تک پائپ لائین بچھائی جس کی گنجائش 1200 ملین مکعب فٹ گیس ہے اور یہ دونوں ٹرمینلز پر درآمد شدہ گیس کو تمام ملک میں پہنچانے کے لئے کافی ہے۔ اس وقت سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کے سسٹم میں 3500 ملین مکعب فٹ گیس دستیاب ہے لیکن آنے والی سردیوں میں چونکہ طلب 5000 ملین مکعب فٹ کی ہو گی اس لئے 1500 ملین مکعب فٹ کا شارٹ فال رہ جائے گا۔ یہ شارٹ فال کبھی نہ ہوتا اگر عمران خان حکومت پچھلے دو سال ضائع کرنے کی بجائے (تاریخ کی کم ترین عالمی سطح کی) خریداری معاہدے کرتی، نئے ٹرمینل بناتی اور ملک میں نئی پائپ لائنیں بچھاتی۔ ناجائز مقدمات میں وقت ضائع کرنے کے بعد بحران سے محض خبردار کر نے سے بجلی اور گیس کے بحران نہیں ٹلیں گے اور عوام کو درپیش مشکلات کم نہیں ہوں گی۔ 

وزیراعظم عمران خان کی مستقبل شناسی دیکھئے کہ انہوں نے صرف اس سال آنے والی سردیوں (نومبر 2020ء سے)میں گیس بحران کے بارے میں خبردار نہیں کیا، بلکہ کہا کہ اگلے سال (نومبر 2021ء سے) تو اس بھی کہیں شدید گیس کا بحران ہو گا۔ ایک ایسی حکومت جسے اقتدار سنبھالے ہوئے سوا دو سال ہو چکے ہیں وہ بتا رہی ہے کہ ڈیڑھ سال بعد تو ایسا بحران ہو گا کہ لوگ چیخیں ماریں گے۔ کوئی وزیراعظم سے یہ پوچھنے کی جسارت کرے کہ جس وقت سے آپ ڈرا رہے ہیں اس وقت آپ کی حکومت اپنے چار سال پورے کرنے کے قریب ہوگی اور اگر واقعی اتنا بڑا بحران آنا ہے تو ان چار سالوں میں آپ (سوائے نشاندہی کرنے اور شور مچانے کے) کیا کرتے رہے۔ کیا آپ وزیراعظم صرف اعلانات اور تقریروں کے لئے بنے ہیں یا کچھ کرنا بھی ہے؟ جہاں تک گیس بحران کا تعلق ہے، یہ اس وقت تک حل نہیں ہو گا جب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہوئے حکومت اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے عملی اقدامات نہیں کرتی۔ بائی دے وے،گیس بحران کا مطلب صرف گیس شارٹیج نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں نصف سے زیادہ بجلی ساز پلانٹ گیس پر چلتے ہیں اِس لئے گیس کے بحران کا مطلب گیس سے زیادہ بجلی کا بحران ہے۔ عمران خان کی وارننگ پر غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اس سال بجلی کی ٹھیک ٹھاک لوڈ شیڈنگ ہو گی اور اگلے سال تو خدا کی پناہ۔ گویا پچھلی حکومت نے جو لوڈ شیڈنگ ختم کر دی تھی، تبدیلی سرکار اسے ایک بار تبدیل کرکے ملک اور عوام کو اندھیروں میں پھینک دے گی۔ یہ تو حکومت کہہ ہی چکی ہے کہ گھریلو صارفین کو صرف کھانا پکانے کے اوقات میں گیس ملے گی، لیکن ابھی تک حکومت یہ بات عوام سے چھپا رہی کہ کس کو کتنی دیر کے لئے بجلی ملے گی۔ خیر، سردیوں میں جب بجلی غائب ہو گی تو لوگوں کو خود ہی پتہ چل جائے گا۔ ظاہر ہے اس کا الزام بھی پچھلی حکومت پر ہی تھوپا جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -