اپوزیشن کی صف بندی اور حکومت کی بے پروائی

اپوزیشن کی صف بندی اور حکومت کی بے پروائی
اپوزیشن کی صف بندی اور حکومت کی بے پروائی

  

کیا اپوزیشن واقعی حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے سنجیدہ ہو چکی ہے؟ آصف علی زرداری بھی کہہ رہے ہیں حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جا سکتا، نوازشریف نے بھی کہہ دیا ہے حکومت مزید رہی تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، شہباز شریف نے بھی یہی بات کی ہے، مولانا فضل الرحمن تو پہلے دن سے کہہ رہے ہیں یہ حکومت جعلی ہے، جبکہ اسفند یار ولی اور آفتاب شیر پاؤ بھی حکومت کے خاتمے کو ملکی مسائل کا حل سمجھتے ہیں، کیا ان سب کا بیانیہ اتنی طاقتور سیاسی آواز بن جائے گا کہ حکومت کی رخصتی ممکن ہو سکے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسی باتیں پہلے بھی کی جاتی رہی ہیں سب جماعتیں پہلے بھی حکومت کے خلاف اکٹھی بیٹھتی رہی ہیں بلند بانگ دعوے بھی کئے جاتے رہے ہیں، مگر حکومت کا بگڑا کچھ نہیں الٹا اپوزیشن کے حصے میں ناکامی و رسوائی آئی۔ کہا یہ جاتا رہا کہ بظاہر اپوزیشن متحد نظر آتی ہے لیکن اندر خانے سب جماعتوں کا ایجنڈا اور اہداف اپنے اپنے ہیں، اس لئے یکسوئی نظر نہیں آتی، کیا اس بار ایسا نہیں ہوگا، کیا واقعی اپوزیشن کی سب جماعتیں اس نکتے پر متفق ہو چکی ہیں کہ حکومت کے خلاف آخری سطح تک جانا ہے؟ کیا انہوں نے حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ تخت یا تختے کا وقت آ گیا ہے۔؟

بظاہر یہی نظر آ رہا ہے کہ اپوزیشن فیصلہ کن جدوجہد کی تیاری کر چکی  ہے جب سے آل پارٹیز کانفرنس ہوئی ہے اپوزیشن کی سب جماعتیں مسلسل اس ارادے کو دہرا رہی ہیں کہ اس میں جن فیصلوں پر اتفاق رائے پایا گیا، ان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔ گویا اب یہ بات یقینی ہے کہ جنوری میں حکومت کے خلاف بڑی تحریک چلے گی، اس سے پہلے اکتوبر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اس بار حکومت کو اس لئے بھی مشکل پیش آ سکتی ہے کہ نوازشریف خود خاصے متحرک ہو چکے ہیں انہوں نے سیاسی رہنماؤں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ اس تاثر کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، جو مسلم لیگ (ن) کی عدم فعالیت اور اس کی قیادت میں اختلافات کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ انہوں نے مسلسل یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کا وقت آ گیا ہے، ان کا یوں متحرک ہونا واحد تبدیلی ہے جو پچھلے دو برسوں کے دوران اپوزیشن کے رویئے میں آئی ہے حال ہی میں انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے اسمبلیوں سے استعفا دینے کے آپشن پر غور کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے اور پیپلزپارٹی سے بات کرنے کی حامی بھری ہے۔ یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو ہے اپوزیشن اس پر عمل کر گزرتی ہے تو سیاسی بحران حکومت کو بہا لے جائے گا۔

دوسری طرف حکومت اس سارے معاملے سے بالکل بے پروا ہ نظر آتی ہے یا پرواہ  ہونے کا تاثر دے رہی ہے حتیٰ کہ اسے اس امر کی بھی پروا ہ نہیں کہ عوام میں اس کے فیصلوں سے کیا بے چینی پھیل رہی ہے۔ یکطرفہ فیصلے عوام کو مایوس کر رہے ہیں اور ان کی حکومت کے ساتھ ہمدردی میں کمی آتی جا رہی ہے۔ اب یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ آئی ایم ایف نے اگلی قسط جاری کرنے کے لئے بجلی، گیس، یوٹیلٹی سٹور سمیت ہر قسم کی سبسڈی ختم کرنے کی شرط عائد کر دی ہے پہلے ہی حالات عوام کے بس سے باہر ہو چکے ہیں اب ان پر مزید بوجھ ڈالا جاتا ہے تو ان کی یہ اضطراری حالت اپوزیشن کی تحریک کا ایندھن بن جائے گی۔ جس طرح معاشی لحاظ سے حکومت عوام پر دباؤ بڑھاتی جا رہی ہے، اس کی وجہ سے عوام کو اپوزیشن کی یہ بات سچ لگنے لگی ہے کہ اس حکومت کو مزید موقع دیا گیا تو یہ ملک کو تباہ کر دے گی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے کسی سول یا آمر حکمران نے یہ رسک نہیں لیا کہ عوام کو معاشی طور پر بے یارو مددگار چھوڑ دو، ہر حکمران کبھی سبسڈی اور کبھی تنخواہیں بڑھا کر غربت کی شدت کو کم کرتا رہا، حالانکہ آئی ایم ایف کا دباؤ اس وقت بھی ہوتا تھا۔ پاکستان میں سبسڈی کیوں ضروری ہے؟ اس کا ادراک سبھی معاشی مینجروں کو ہوتا ہے۔ یہاں کروڑوں عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور جو خطِ غربت سے اوپر ہیں ان کی اقتصادی حالت بھی زیادہ بہتر نہیں اگر انہیں حکومت سبسڈی نہ دے تو وہ بھوکے مر جائیں یا پھر خانہ جنگی کے لئے میدان میں آ جائیں۔ آئی ایم ایف کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ پاکستان میں کون جیتا ہے کون مرتا ہے، اسے تو اپنے اقتصادی ایجنڈے سے غرض ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف کی حکومت کچھ زیادہ ہی آئی ایم ایف کے سامنے سرنگوں ہو گئی ہے جس کا نتیجہ مہنگائی اور بے روزگاری کی شکل میں برآمد ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ان کے اسٹیبلشمنٹ اور فوج سے تعلقات ٹھیک ہیں، اس لئے انہیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں لیکن وہ اس اہم نکتے کو بھول گئے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ یا فوج اپوزیشن سے تو کسی حکومت کو بچا سکتی ہے لیکن اگر عوام کے اندر اضطراب پیدا ہو جائے تو اس کا تدارک  نہیں کر سکتی۔ اس وقت بیورو کریسی اور پولیس حکومت کے اندر حکومت قائم کئے ہوئے ہیں۔ گڈ گورننس عنقا ہو چکی  ہے۔ ہر طرف کرپشن نے پنجے گاڑھ لئے ہیں مرے کو مارے شاہ مدار ضروریات زندگی کی اشیاء حکومتی سرپرستی میں مہنگی کی جا رہی ہیں یہ سب کچھ حکومت کے خلاف کسی تحریک کو منظم کرنے کے لئے کافی ہے اور اس بنیاد پر شروع ہونے والی تحریک کو شاید اسٹیبلشمنٹ بھی نہ روک سکے۔ بظاہر یہی نظر آ رہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑا میچ پڑنے والا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اپوزیشن کے تنِ مردہ میں جان خود حکومت نے ڈالی ہے، پے در پے غیر دانشمندانہ اقتصادی فیصلوں نے عوام کو اپوزیشن کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ وہ نئے پاکستان میں آکر اسے بھول بھال چکے تھے۔

مزید :

رائے -کالم -