پائیدار سیاحت مضبوط معیشت

پائیدار سیاحت مضبوط معیشت
پائیدار سیاحت مضبوط معیشت

  

سیاحت کا عالمی دن ہر سال 27ستمبر کو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر سیاحت، اس کی معاشرتی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے عالمی سیاحت اور عالمی سفر اور سیاحت کونسل کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال آنے والے بین الاقوامی سیاحوں کی کل تعداد تقریباً10لاکھ کے قریب تھی جو کہ اس سے پیشتر گزرے سالوں میں آنیوالے سیاحوں کی تعداد سے کہیں بہتر تھی۔ ظاہر ہے، ملک کی سلامتی اور سکیورٹی حالات میں بہتری نے سیاحوں کو اطمینان بخشا اور لاکھوں لوگوں نے ملک کے طول و عرض کو سیاحت کی غرض سے دیکھا۔ ان سیاحوں نے پاکستان میں قریب اکتیس کروڑ ستر لاکھ امریکی ڈالر خرچ کئے۔ وطن عزیز کی سفر اور سیاحت سے کل حاصل ہونے والی آمدن، قومی آمدنی کا 8%رہی۔ سیاحت کے لحاظ سے دنیا کے دس بہترین ملکوں میں جانیوالے سیاحوں کی تعداد اور ان ملکوں کو حاصل ہونیوالی آمدن کا موازنہ اگر پاکستان میں آنیوالے سیاحوں کی تعداد اور آمدن سے کیا جائے تو موخر الذکر آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ ملک خوبصورتی، موسموں اور ثقافت کے لئے اپنی مثال آپ ہے، جہاں سیاحت کو فروغ دے کر اس تعداد اور آمدن کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔

وطن عزیز کو قدرت نے ان تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے، جو ایک سیاح کی آنکھ اور روح کے لئے سکون، راحت اور دلکشی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ یہاں موجود مغلیہ طرز تعمیر کی عمارتیں (لاہور، ملتان، پشاور، بہاولپور وغیرہ) قدیم تہذیبوں کے آثار(موہنجووڑو، تخت بھائی، ٹیکسلا ٹھٹھہ) عجائب گھر، بدھ مت اور سکھوں کی متبرک عمارتیں (ننکانہ حسن ابدال، کرتار پور) لمبی ساحلی پٹیاں (گوادر، گڈانی اور ملحقہ علاقے) اور چولستان کے صحرا سیاحوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہیں۔ اس جنت نظریہ خطہ میں ایک سو سے زائد ایسی پہاڑی چوٹیاں ہیں جن کی بلندی 7000سے بلند ہے۔ دنیا کی 14بلند ترین چوٹیوں میں سے 5پاکستان کے شمال میں واقع ہیں اور ان کی بلندی 8000 میٹر سے زیادہ ہے۔ ہر سال پوری دنیا سے ان پہاڑوں کو سر کرنے کوہ پیما یہاں آتے ہیں۔ یہاں لاتعداد مرغزار، بلند میدان(شندور، دیوسائی) اور دنیا کے بڑے گلیشیر ہیں خوبصورت ترین قراقرم شاہراہ، دنیا کے عجوبوں میں سے ایک ہے۔

ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو ایڈونچر ٹورازم ”قدرتی خوبصورتی“ مذہبی سیاحت اور تاریخی مقامات سے مالا مال ہے۔ چشمے وجھرنے، سرسبز گھنے جنگلات سے بھرے پہاڑ اور وادیاں، خوابوں سے بھری رومان خیز جھیلیں اور وسیع و عریض دنیا کے مشہور صحرا شامل ہیں۔ یہاں ہندوؤں کے تاریخی مندر، سکھوں کے قدیم مذہبی مقامات اور بدھ مت کی تاریخی نشانیاں ٹیکسلا اور گندھارا کی قدیم تہذیبوں کی صورت میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ صدیوں پرانی تہذیب کے آثار قدیمہ، ثقافت اور صوفی ازم بھی سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ ملک کے دلکش قدرتی مناظر کے بیشتر علاقے صوبہ کے پی کے اور شمالی علاقہ جات میں واقع ہیں ان میں (مشرق کے سوئٹرزر لینڈ) وادی سوات کے علاوہ رومان پر وروادی کاغان، گلیات، وادی کیلاش، وادی ہنزہ، شنگر یلا وغیرہ ملکی وغیرہ ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کے مرکز ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں مناسب ذرائع آمد و رفت اور دنیا سے براہ راست فضائی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے خواہش کے باوجود سیاحوں کی اکثریت یہاں نہیں پہنچ پاتی۔

بلند و بالا پہاڑ حسین وادیاں سطح مرتفع اور پوٹھو ہار وسیع و چٹیل میدان لہلہاتے کھیت شور مچاتے ندی نالے دریا اور سمندر دنیا بھر کے سیرو سیاحت کے شوقین حضرات کو ان خوبصورت جگہوں پر آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ناران، کاغان، گلگت اور بلتستان اس زمین پر جنت کے ٹکڑے ہیں۔ ان ٹکڑوں میں درجنوں وادیاں، ان گنت جھرنے اور آبشاریں ہیں۔ آزاد کشمیر کی خوبصورت وادیاں، آبشاریں قدرت کا الگ شاہکار ہیں۔ ملک میں جنوب سے شمال تک سو کے قریب جھیلیں ہیں۔ کچھ جھیلیں سطح سمندر سے تین سے چار ہزار فٹ کی بلندی پر ہیں۔ منچھر جھیل ایشیا کی بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔ الغرض وہ تمام لوازمات جو سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں، یہاں موجود ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان، اس شعبے سے کس قدر فائدہ اٹھا پاتی ہے اور کس طرح اس شعبے کو سیاحوں کے لئے مزید پرکشش بنا سکتی ہے کہ یہ ملک بین الاقوامی و قومی سیاحوں کے لئے ترجیح بن جائے۔ اطالوی کوہ پیما میسز نے ایک بار کہا تھا کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو محفوظ شدہ قرار دے دیتا تاکہ آج سے سینکڑوں برس بعد جب یہ دنیا آلودگی کی لپیٹ میں ہو گی اور تب اگر کوئی بچہ اپنے باپ سے پوچھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا تخلیق کی تھی تو کیسی تھی؟ تو وہ باپ اس بچے کی انگلی تھامے اور اسے ان علاقوں میں لے آئے اور کہے، بیٹا!، تب یہ دنیا ایسی تھی۔

وطن عزیز میں مختلف ادوار حکومت میں سیاحت اور اس سے منسلک صنعتوں کی نمو اور بہتری کے لئے کام کرنے کی نیت اور دلچسپی کا اندازہ اس سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ سرکاری سطح پر سیاحت کی پہلی پالیسی کا اجراء1990ء میں ہوا، اس کے بعد 2010ء میں ایک نئی پالیسی کی ضرورت کومحسوس کیا گیا، مگر چونکہ احساس سطحی اور ترجیحات اور تھیں، لہٰذا یہ پالیسی جاری نہ کی جا سکی۔ چونکہ وفاق کی سطح پر اس شعبے میں کوئی سنجیدہ کوشش پہلے نہ ہوئی تھی، اس لئے صوبوں نے بھی اس روش کو قائم رکھا اور کوئی خاطر خواہ پالیسی متعارف نہ ہو سکی۔ صرف خیبرپختونخواہ نے 2015ء میں ایک پالیسی متعارف کرائی اور اس پر عمل کرنے کی مخلصانہ کوشش کی اور نتیجے کے طور پر پچھلے چند سالوں میں ملکی اور غیر ملکی سیاحت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ شنید ہے کہ پاکستان ٹور ازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن، وفاقی سطح کی ایک سیاحتی پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کا اعلان جلد ہو گا۔ لیکن بات تو تب ہے کہ یہ پالیسی نہ صرف یہ کہ دور حاضر کی تمام جملہ ضروریات سے ہم آہنگ ہو بلکہ سیاحت کو ایک باقاعدہ ایمرجنسی کے طور پر لے اور متعلقہ اقدامات بھی کرے۔

ملک کو اب ایک ایسی نئی سیاحتی پالیسی کی ضرورت ہے، جو ان تمام عوامل اور عناصر کا احاطہ کرے جن پر عمل کرتے ہوئے سیاحت کے لئے مشہور ممالک نے سیاحت کو اپنی معیشت کا اہم حصہ بنا لیا اور دنیا کے قابل اعتبار ادارے انہی عوامل کا جائزہ لے کر کسی ملک کو ایک سیاح دوست ملک کے طور پر تسلیم کرتے اور درجہ بندی کرتے ہیں۔ کے  ان عناصر میں، قدرتی ذرائع جیسے پہاڑ، عمارات، مقامات اور سرسبز قدرت اور سکیورٹی کے حالات، صحت عامہ ریسورس کی موجودگی، ٹریننگ  انٹرنیٹ کی سہولتیں، حکوم اور بنیادی انفراسٹ باآسانی دستیابی اور باہمی عالمی معاہدے، کھیلوں  کے ملک میں اجلاس و دفاتر، عام اشیائے خوردون ریلوے کی ٹکٹ وغیرہ ماحولیاتی صفائی اور اس کی حفاظت کے عالمی معیار کے مطابق ہونا، سیاحوں مشین، زمینی سفری ذرائع کا ہونا تو انہی سیاحت جہاں کسی بھی ملک کی بلاواسطہ آمدنی کا باعث بنتی ہے، بلکہ اس سے جڑی دوسری صنعتیں بھی نموپاتی ہیں اور لوگوں کے لئے روزگار کا بندوبست علیحدہ ہوتا ہے۔ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدن اس ملک کو کئی احسن اقدامات کرنے کے لئے بھی مجبور کرتی ہے۔ جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے کوئی سیاح کسی ملک میں جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست کو اپنی ثقافت کو محفوظ کرنے کی فکر رہتی ہے کہ سیاح کسی ملک کے فن تعمیر، کھانے، رواج، فنون لطیفہ اور لباس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ چونکہ ایک صاف ستھرا ملک سیاح کے لئے دلکشی کا باعث ہوتا ہے لہٰذا ریاست ماحولیاتی آلودگی سے پاک رہنے کے لئے کئی جتن کرتی ہے چونکہ ماضی میں حکومت کی اسی کوئی نیت نہ تھی سو ملک میں موجود لاتعداد سیاحتی مقام گندگی سے آٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایک پائیدار امن والا معاشرہ سیاح کو بے فکری فراہم کرتا ہے چنانچہ ملکی سطح پر سیکیورٹی ایک ترجیح بن کر سامنے آتی ہے جس میں نہ صرف یہ کہ اس ملک کے اپنے شہری امن و آشتی سے رہتے ہیں بلکہ غیر ملکی سیاح بھی ایسے ملک کو امن پسند سمجھنے لگتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں بالخصوص وہ جو سیاحت سے منسلک ہیں ان کے ویزہ فراہم کرنے کے طریقوں کو سادہ اور سہل بنایا جائے۔ سیاحتی مقامات پر سہولیات کی دستیابی، سیاحوں کے لئے بین الاقوامی معیار کے ہوٹلز، ریسٹورنٹ، ٹوائلٹ، بچوں کی تفریح کا سامان، مقامی مصنوعات پر مشتمل شاپنگ سنٹر، ملک کے باقی علاقوں سے زمینی اور ہوائی رابطہ، مقامی لوگوں کو سیاحوں کی مہمان نوازی کی تربیت و آداب سے آگہی، سیاحوں کی حفاظت کے لئے جدید آلات سے مزین پولیس کے دستے اور لینڈ سلائیڈنگ یا کسی بھی ہنگامی حالات میں فوری مدد (ایئر ایمبولینس اور ریسکیو 1122) جیسے اقدامات سے نہ صرف دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے بلکہ زرمبادلہ میں بھی یقینی اضافہ ممکن ہے۔ موجودہ حکومت بادی النظر میں سیاحت کی اہمیت سے آشنا نظر آتی ہے جس کا ثبوت خیبرپختونخوا میں سیاحت کی پلاسی بنانا ا ور اس پر عملدرآمد کرانے سے ملتا ہے۔ مگر جب تک اس موضوع کووفاقی سطح پر اہمیت دے کر ایک قومی سیاحتی پالیسی مرتب نہیں ہوتی اس وقت تک اس شعبے کی بہتری کی امید قائم نہیں کی جاسکتی۔ مزید یہ کہ اگر کوئی پالیسی بنا بھی لی جائے اور اس میں سیاحت کے لئے تسلیم شدہ اور اہم عناصر کو بتدریج بہتری کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں ہوتا تو سیاحت سے، پاکستان جیسے ملک کی قومی آمدنی بڑھانے کا منصوبہ محض دیوانے کا خواب ہی رہ جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -