”ہم اپنے کھلاڑیوں کے مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں جنہیں ماضی میں نظرانداز کر دیا جاتا تھا“ ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کے اعلان پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان نے بھی موقف دیدیا

”ہم اپنے کھلاڑیوں کے مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں جنہیں ماضی میں نظرانداز کر دیا ...
”ہم اپنے کھلاڑیوں کے مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں جنہیں ماضی میں نظرانداز کر دیا جاتا تھا“ ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کے اعلان پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان نے بھی موقف دیدیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ہائی پرفارمنس سینٹر کے ڈائریکٹر ندیم خان نے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ معیار اور کارکردگی پر یقین رکھتا ہوں اور ڈومیسٹک سیزن 21-2020ءکے اعلان کردہ کنٹریکٹ بھی اسی کی ایک مثال ہیں، ہم نے تمام کھلاڑیوں کیلئے ایک مقررہ وظیفے کے بجائے اس مرتبہ مختلف کیٹیگریز پر مشتمل ایک ڈھانچہ متعارف کروایا ہے جو کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے، تجربہ کار اور نئے آنے والے کرکٹرز کی تنخواہوں میں فرق واضح کرتا ہے اور یہ سنٹرل کنٹریکٹ سے متعلق ہماری پالیسی کے بھی عین مطابق ہے۔

ندیم خان نے کہا کہ کنٹریکٹ کے اس نئے ڈھانچے سے ہم مختلف ایج گروپ کرکٹ کھیلنے والے اپنے کھلاڑیوں کے مستقبل کو محفوظ بنارہے ہیں جنہیں ماضی میں نظر انداز کردیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) انڈر19 کرکٹ ورلڈکپ 2020ءکھیلنے والے 8 کرکٹرز اور پاکستان شاہین میں شامل 11 ایمرجنگ کرکٹرز اب اس نظام کا حصہ رہیں گے اور اس دوران انہیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواکر آگے بڑھنے کے مختلف مواقع بھی پائیں گے۔

ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس کا مزید کہنا تھا کہ ان 192 کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں میں سے 146 کے پاس کوئی دوسری ملازمت نہیں ہے جبکہ 24 کے پاس کنٹریکٹ پر ملازمتیں تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی سی بی اپنے ٹیلنٹڈ اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کا خیال رکھتا ہے۔

مزید :

کھیل -