ملکی تاریخ کی سب سے بڑے سبسڈی؟

ملکی تاریخ کی سب سے بڑے سبسڈی؟

  

وفاقی حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لئے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کے مطابق سوا کروڑ گھرانوں کو سہولت بہم پہنچانے کی خاطر ایک کھرب روپے سے بھی زیادہ رقم مختص کی جا رہی ہے، کابینہ کی اقتصادی کمیٹی نے اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اب کابینہ فیصلہ کرے گی اور یہ سبسڈی دے دی جائے گی۔ اس اجازت کے بعد حکومت کھلے بازار میں دخل دے سکے گی، گھی اور آئل پر سیلز ٹیکس میں کمی کی جائے گی اور ریونیو کا گھاٹا سبسڈی کی رقم سے پورا کیا جائے گا اس سے گھی اور آئل کے نرخوں میں کم از کم پچاس روپے فی کلو / لیٹر کمی آ جائے گی، جبکہ آٹے کے 20کلو کے تھیلے میں 150روپے کم کئے جائیں گے۔ باقی رقم سے یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے سستی اشیاء مہیا کی جائیں گی۔ گھی اور آئل پر سیلز ٹیکس میں کمی اور آٹے پر رعایت سے تمام شہری مستفید ہوں گے جبکہ دوسری سبسڈی ضرورت مند سوا کروڑ گھرانوں کے لئے ہوگی۔ ان گھرانوں کا ڈیٹا یوٹیلٹی سٹورز کو مہیا کر دیا گیا ہے اور یہ کم وسیلہ گھرانے انگوٹھے کے نشان سے شناخت ثابت کرکے ان سٹوروں سے سبسڈی والی اشیا حاصل کر سکیں گے۔ ان کو چینی 85روپے فی کلو ملے گی، اس حوالے سے یہ خبر بھی ہے کہ قلت دور کرنے کے لئے حکومت نے 23لاکھ میٹرک ٹن گندم اور چینی درآمد کی ہے۔ گندم اور 28ہزار 760میٹرک ٹن چینی پہنچ چکی ہے۔ مہنگی چینی درآمد ہونے سے یوٹیلٹی سٹورز پر چینی کے لئے 35روپے فی کلو رعائت دینا ہوگی کہ ان سٹوروں کو یہ چینی 120روپے کلو پڑے گی۔ وزیرخزانہ کے مطابق سوا کروڑ گھرانے مستفید ہوں گے۔ ان کا ڈیٹا تو نادرا کے ذریعے ہی حاصل کرکے مہیا کیا گیا ہو گا کہ نشان انگوٹھا شناخت ہوگی۔ رعائت کا ذکر تو بہتر تاثر پیدا کرتا ہے، تاہم صرف گھی، آئل اور آٹا ہی کھلے بازار میں کم قیمت پر نہیں، باقی اشیاء بھی ملنا چاہئیں کہ لوگوں کی بھاری اکثریت عام دکانوں ہی سے سودا خریدتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -