نوازشریف زیادہ کرپٹ ہیں یا آصف علی زرداری ؟ عمران خان کا موقف آگیا

نوازشریف زیادہ کرپٹ ہیں یا آصف علی زرداری ؟ عمران خان کا موقف آگیا
نوازشریف زیادہ کرپٹ ہیں یا آصف علی زرداری ؟ عمران خان کا موقف آگیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری کو پاکستان کی قیادت کرنے والوں میں کرپٹ ترین رہنما قرار دیا اور کہا کہ نواز شریف بھی آصف زرداری سے مختلف نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں مضمون لکھا ہے جس میں ان کا کہنا تھاکہ سابق صدر آصف زرداری نے امریکیوں کو پاکستان میں اہداف پر حملوں کی اجازت دی، افغان جنگ کی ناکامی کی ذمے داری پاکستان پر نہ ڈالی جائے، دنیا نئی افغان حکومت سے تعاون کرے اور ماضی کی غلطی دہرائی تو دہشت گردی ہی بڑھے گی۔

عمران خان نے یہاں امریکی کتاب ’اوباماز وار‘ کا ذکر کیے بغیر کتاب میں درج آصف زرداری کا جملہ ازسرِ نو تحریر کیا کہ ’اہداف پر حملوں کے دوران معصوم شہریوں کا قتل امریکیوں کو پریشان کرتا ہوگا، اُنھیں ( یعنی آصف زرداری کو ) نہیں‘،  2001سے دنیا کو بار بار آگاہ کیا کہ افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی، افغان جنگ کے نتائج پر پاکستان کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ امریکی کانگریس میں پاکستان پر الزامات لگائے جانے پر حیرانی ہوئی۔

وزیراعظم نے لکھا کہ نائن الیون کے بعد ماضی کے مجاہدین کو دہشتگرد قرار دیا گیا، پاکستانی حکومتیں ماضی میں قانونی حیثیت کے حصول کے لئے امریکا کو افغانستان کے معاملے پر خوش کرتی رہیں۔ دہشت گردی کیخلاف امریکا کی جنگ کی حمایت کرنے کے بعد عسکری گروپس نے پاکستان کی ریاست کے خلاف جنگ شروع کر دی۔عمران خان نے لکھا کہ ہم اپنی بقا کے لئے لڑے، بہترین فوج اور انٹیلی جنس آلات کے ذریعہ دہشتگردی کو شکست دی۔ نائن الیون کے بعد یکے بعد دیگرے آنے والی افغان حکومتیں افغانوں کی نظروں میں مقام پیدا نہ کرسکیں یہی وجہ تھی کہ کوئی بھی بدعنوان اور ناکام حکومت کے لئے لڑنے کو تیار نہ تھا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 3 لاکھ افغان سکیورٹی فورسز کا ہتھیار ڈالنے کا ذمے دار پاکستان ہے؟ حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے افغان اور مغربی حکومتوں نے پاکستان پر الزام لگانے کے لئے بھارت کے ساتھ مل کر جعلی خبریں پھیلائیں، بے بنیاد الزامات کے باوجود پاکستان نے سرحد کے بائیو میٹرک کنٹرول اور سرحد کی مشترکہ نگرانی کی پیشکش کی۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے مضمون میں لکھا کہ اب الزام تراشی کا رویہ ترک کردینا چاہیے اور افغانستان کے مستقبل کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے نئی حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ طالبان کی حکومت اور بین الاقوامی برادری کی شمولیت ہر ایک کے لئے مثبت مفادات لائے گی۔انہوں نے مزید لکھا اگر درست اقدامات کئے گئے تو دہشتگردی سے پاک اور معاشی طور پر خوشحال افغانستان کے مقاصد حاصل کر لیں گے اور اگر ماضی کی غلطیوں کو دہرایا تو بڑے پیمانے پر مہاجرین اور دہشتگردی جیسے مسائل بڑھیں گے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -