جب دیوان مو لراج نے ملتان قلعے کی چابیاں حضرت بہاﺅالدین زکریاؒ کے مزار پر رکھ دیں

جب دیوان مو لراج نے ملتان قلعے کی چابیاں حضرت بہاﺅالدین زکریاؒ کے مزار پر ...
جب دیوان مو لراج نے ملتان قلعے کی چابیاں حضرت بہاﺅالدین زکریاؒ کے مزار پر رکھ دیں

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:57 

انگریز اس وقت پنجاب کے معاملات میں اس قدر الجھے ہوئے تھے کہ ملتان کے تنازعے میں پھنسنا نہیں چاہتے تھے اس لیے ریذیڈنٹ نے مولراج کو اپنا استعفیٰ ایک سال مؤخر کرنے کےلئے کہا۔دیوان مولراج نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ریذیڈنٹ سے درخواست کی کہ استعفیٰ کی بات باہر نہ نکلنے پائے کیونکر اگر یہ بات پھیل گئی تو زمیندار مالیہ ادا کرنے سے انکار کر دیں گے۔ ریذیڈنٹ نے مولراج کے اس خدشے سے اتفاق کرتے ہوئے وعدہ کر لیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد پنجاب کے نئے ریذیڈنٹ فریڈرک کری نے مولراج کے استعفیٰ کی خبر پھیلا دی۔ دیوان نے نئے ریذیڈنٹ کی اس حرکت کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے نظامت سے علیٰحدہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ نئے ریذیڈنٹ نے نہ تو وعدہ خلافی کی معذرت مانگی اور نہ ہی مولراج کی خفگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ کیونکہ وہ تو پنجاب میں بغاوت برپا کرانے کا مشن لے کر آیا تھا۔ اس نے بلاتاخیر مولراج کا استعفیٰ منظور کرنے کے بعد سردار کاہن سنگھ مان کو ملتان کا ناظم مقرر کر دیا۔اس کے ہمراہ 2 انگریز مشیر وانس اگنیو اور لیفٹیننٹ اینڈرسن روانہ کیے۔ 

16 اپریل 1848 کو یہ افسر ملتان پہنچے۔ مولراج نے انہیں قلعے میں بلا کر خزانے کا چارج حوالے کر دیا۔ پرانی ریت پر عمل کرتے ہوئے قلعہ کی چابیاں حضرت  بہاﺅالدین زکریاؒ کے مزار پر رکھ دی گئیں۔ نئے ناظم نے چابیاں وہاں سے اٹھا لیں۔ اس کام سے فارغ ہو کر مولراج لاہور دربار سے آئے ہوئے افسروں کے ہمراہ قلعہ سے باہر نکلا۔ 

اس وقت تک مولراج کے استعفے کی خبر سارے شہر میں مشتہر ہو چکی تھی اور اس پر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ دیوان مولراج عوام میں مقبول تھا۔ دلی طور پر استعفیٰ دینے پر وہ خود بھی خوش نہیں تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ریذیڈنٹ استعفی منظور کرنے کی بجائے مولراج کی خفگی دور کرنے کی کوشش کرتا۔ اس نے جو طریقہ اختیار کیا اس کی وجہ سے مولراج بھی ناراض ہوا اور ملتان کے عوام بھی مشتعل ہوگئے۔ سرہنری ڈیورنڈ کے کہنے کے مطابق ایسے حالات میں اگینو اور اینڈرسن کو ملتان بھیجنا ایسا ہی تھا جیسے بارود کو آگ لگانا۔ جب یہ بات سارے شہر میں پھیلی کہ مولراج کو زبردستی معزول کرکے سکھ ناظم اور انگریز افسر بھیجے گئے ہیں تو چاروں طرف بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ دیسی سپاہیوں بھی شورش میں شامل ہوگئے جنہیں خدشہ تھا کہ ان کی ملازمت جاتی رہے گی۔

جب مولراج قلعے کا چارج دے کر کاہن سنگھ اور انگریز افسروں کے ساتھ قلعہ سے باہر آیا تو دروازے کے باہر پہلے سے موجود مشتعل ہجوم میں سے نکل کر امر سنگھ ڈوگرے نے اگنیو پر حملہ کر دیا کوئی دوسرا شخص اینڈر سن پر ٹوٹ پڑا۔ دونوں انگریز افسر حملہ آوروں کے ہاتھوں شدید زخمی ہوگئے۔ کاہن سنگھ ان دونوں کو پالکی میں ڈال کر فوجی دستے کی حفاظت میں عید گاہ لے گیا جہاں دربار کی فوج پڑاﺅ ڈالے بیٹھی تھی۔

ملتان میں لوگوں نے بغاوت کا اعلان کر دیا۔ پہلے تو مولراج اس بغاوت میں شامل ہونے سے گریز کرتا رہا بلکہ اس کا ایک رشتہ دار رام رنگ باغیوں کو روکنے کی کوشش میں جان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ رات کو باغیوں نے عید گاہ کیمپ پر حملہ کرکے دونوں انگریز افسروں کو قتل کر دیا اور کاہن سنگھ کو گرفتار کرلیا۔ مولراج بغاوت سے سراسیمہ تھا اور اس شورش سے الگ تھلگ رہنا چاہتا تھا لیکن نہ چاہنے کے باوجود اسے بھی آندھی پر سوار کرنی پڑی۔ باغیوں کو ہمیشہ لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔ سو ملتانیوں نے اسے قیادت فراہم کرنے پر مجبور کر دیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -