وہ سارا وقت موج مستی میں گزارتا، رات بھر محفلوں میں مزے کرتا اور دن چڑھے گھر جاتا

وہ سارا وقت موج مستی میں گزارتا، رات بھر محفلوں میں مزے کرتا اور دن چڑھے گھر ...
وہ سارا وقت موج مستی میں گزارتا، رات بھر محفلوں میں مزے کرتا اور دن چڑھے گھر جاتا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:29

یورگس گھر پہنچا تو اس کا سر بھائیں بھائیں کر رہاتھا پھر بھی وہ ان باتوں پر یقین نہیں کر پا رہا تھا۔ ٹموزئیس تو منفی باتوں کا شوقین تھا۔ وہ سارا وقت موج مستی میں گزارتا، رات بھر محفلوں میں مزے کرتا اور دن چڑھے گھر جاتا۔ اس لیے اس کا دل کام کو چاہتا ہی نہیں تھا۔ پھر اس کا قد بھی چھوٹا تھا جس کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گیا تھا، شاید یہی اس کے مزاج تلخی کی وجہ بھی تھی۔ اسی طرح روز نئی نئی باتیں یورگس کے علم میں آتی رہیں۔ 

اس نے اپنے ابا کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اس قسم کی پیش کشوں پر دھیان نہ دے لیکن وہ ہر دروازے پر جاکر سوال کر کر کے تھک چکا تھا اور اب اس کی ہمت بالکل ہی جواب دے گئی تھی۔ اسے نوکری چاہیے تھی، کسی بھی قسم کی نوکری۔ چنانچہ اگلے دن اس نے نوکری دلوانے والے آدمی سے وعدہ کر لیا کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک تہائی اسے دے دے گا اور اسی دن اسے ڈرہم کے تہ خانوں میں نوکری مل گئی۔ یہ جگہ pickle-room کہلاتی تھی۔ یہاں پاؤں رکھنے کو بھی خشک جگہ نہیں تھی۔ چناں چہ اس نے ہفتے بھر کی تقریباً ساری آمدنی سے اپنے لیے موٹے تلے کے بوٹ خرید لیے۔ اس کا کام پوچا لگانا تھا۔ وہ سارا دن پُچارا لیے فرش پونچھتا رہتا۔ نمی اور اندھیرے کے باوجود کم از کم گرمیوں میں یہ زیادہ ناگوار کام نہیں تھا۔

 آنٹاناس دنیا کا سب سے دھیما اور حلیم آدمی تھا لیکن جب نوکری کے دوسرے ہی دن وہ ڈرہم والوں کو گالیاں دیتے ہوئے لوٹا تو یورگس کو باقی لوگوں کے جذبات کی بھی سمجھ آگئی۔ وہ گھر والوں کو اپنے کام کے متعلق بتانے لگا۔ وہ ایسے کمرے میں کام کرتا تھا جہاں بڑا گوشت ڈبوں میں بند کرنے کےلئے تیار کیا جاتا تھا۔ گوشت کیمیکل بھرے بڑے ٹبوں میں رکھا ہوتا تھا جسے آدمی بڑے بڑے ترنگلوں سے اٹھاکر باہر نکالتے اور ٹرکوں پر لادتے تھے جہاں سے یہ پکائی والے کمرے میں لے جایا جاتا تھا۔ ٹب میں نیچے رہ جانے والے گوشت کو الٹا کر فرش پر ڈال لیا جاتا، پھر بیلچوں سے کھرچ کر تہ میں جما ہوا گو شت بھی نکالا جاتا اور اسے بھی ٹرک پر لاد دیا جاتا۔ فرش انتہائی گندا تھا۔ آنٹا ناس کا کام یہ تھا کہ بچے کھچے گوشت کو اس سوراخ میں دھکیل دے جو ایک گڑھے سے جڑا ہوا تھا۔ وہاں اسے جمع کر کے مزید کام میں لایا جاتا تھا۔ اس پائپ میں بھی ایک چھلنی لگی ہوئی تھی جس میں گوشت کے ریشے اور ٹکڑے پھنس جاتے تھے۔ بوڑھے آدمی کا یہ بھی کام تھا کہ ہر چند دن بعد اسے کھول کر وہ گوشت نکالے اور باقی گوشت کے ساتھ ٹرک پر لدوا دے۔

یہ تو آنٹا ناس کا تجربہ تھا۔ یونس اور ماریا کے پاس اپنی کہانیاں تھیں۔ ماریا کسی پیکنگ کرنے والے کے ساتھ کام کر رہی تھی اور ڈبوں پر پینٹ کر کے اچھے پیسے کما رہی تھی۔ ایک دن وہ گھر آئی تو اس کے ساتھ زرد چہرے والی پتلی سی عورت بھی تھی جو اس کے ساتھ کام کرتی تھی۔ اس کا نام یادویگا مارسِنکس تھا۔ جد ویگا نے ماریا کو بتایا تھا کہ ماریاکو کیسے نوکری ملی تھی۔ وہ دراصل ایک آئرش عورت کی جگہ آئی تھی جو 15 سال سے بھی زیادہ سے اس فیکٹری میں کام کر رہی تھی۔ اس کا نام میری ڈینس تھا۔ عرصہ پہلے کسی نے اسے بہکایا تھا اور اب اس کے پاس ایک چھوٹا لڑکا تھا جو معذور اور مرگی کا مریض تھا۔ یہی اس دنیا میں اس کا سب کچھ تھا۔ وہ ہالسٹیڈ سٹریٹ کے پچھواڑے کسی کمرے میں رہتی تھی جہاں باقی آئرش لوگ رہائش پزیر تھے۔ میری کو ٹی بی تھی اور وہ کام کرتے ہوئے سارا دن کھانستی رہتی تھی۔ ماریا آئی تو فور لیڈی نے اس کی چھٹی کروادی۔ یادویگا نے بتایا کہ فور لیڈی کا اپنا معیار تھا اور وہ کسی بیمار کےلیے کام کی رفتار سست نہیں کر سکتی تھی۔ اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ میری وہاں ایک طویل مدت سے کام کر رہی تھی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس کو اس بات کا علم ہی نہ ہو کیوں کہ فور لیڈی اور سپرنٹنڈنٹ دونوں نئے تھے اور انہیں آئے دو تین سال ہی ہوئے تھے۔ ید ویگا کو اندازہ نہیں تھا کہ بعد میں اس بے چاری کا کیا بنا۔ وہ اس کا پتا کرنے جانا چاہتی تھی لیکن خود بیمار پڑ گئی تھی۔ یادویگا نے بتایا کہ اس کی کمر میں ہر وقت درد رہتا ہے۔ اسے ڈر تھا کہ اس کے رحم میں کوئی مسئلہ ہے۔ ایک عورت کےلئے دن بھر چودہ چودہ پاؤنڈ کے ڈبوں کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ یونس کو بھی نوکری کسی اور کی بدنصیبی کی وجہ سے ملی تھی۔ یونس سؤر کے گوشت سے لدے ایک ٹھیلے کو دھکا لگا کر سموک روم سے لفٹ تک لے جاتا اور وہاں سے پیکنگ روم تک۔ سارے ٹھیلے لوہے کے تھے اور بہت بھاری بھی۔ ان میں سے ہرٹھیلے پر تقریبا ً60 من گوشت لادا جاتا تھا جو چوتھائی ٹن سے زیادہ تھا۔ نا ہموار فرش پر اس ٹھیلے کو دھکا لگاکر چلانا اور پھر چلائے رکھنا کسی انسان کا نہیں جن کا کام تھا۔ ارد گرد ہمیشہ باس ہوتے تھے جو ایک لمحے کی تاخیر پر گالیاں بکنے لگتے تھے۔ جب کام کرنے والے مزدوروں، جن میں زیادہ تر لیتھواینئین، سلووَک وغیرہ تھے ان گالیوں کی سمجھ نہ آتی تو باس غصے میں انہیں ٹھڈے مارتے۔ اس لیے زیادہ تر یہ ٹھیلے چلتے رہتے تھے۔ یونس سے پہلے والا مزدور ٹھیلے اور دیوار کے درمیان آکر کچلا گیا تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -