مشرق کی جانب شہروں کے باشندوں کو بیماریاں زیادہ نہیں ہوتیں

مشرق کی جانب شہروں کے باشندوں کو بیماریاں زیادہ نہیں ہوتیں
مشرق کی جانب شہروں کے باشندوں کو بیماریاں زیادہ نہیں ہوتیں

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:27

-3 مشرق کی جانب شہر

وہ تمام شہر جو سورج کے مشرق کی جانب ہوں۔ ایسے شہروں کے باشندے بہت صحت مند ہوتے ہیں جبکہ گرم ہواﺅں کی جانب شہر کے باشندے اتنے زیادہ صحت مند نہیں ہوتے۔ مشرق کی جانب شہروں کے باشندوں کو بیماریاں زیادہ نہیں ہوتیں۔ اس کی بڑی وجہ فطری ماحول، صحت مند دھوپ، لطیف ہوا اور صاف پانی ہے۔ ایسے شہروں کے پانی نہایت شفاف، نرم اور زود ہضم ہوتے ہیں۔ ان شہروں کی ہوا سخت نہیں ہوتی کیونکہ سورج کی شعاعیں اس ہوا کی سختی کے درمیان لطیف لہریں پیدا کر دیتی ہیں۔ ان شہروں کے لوگ صحت مند اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ مردوں کے مزاج تیز غصے والے ہوتے ہیں۔ ان شہروں میں پیدا ہونے والے اناج، پھلوں اور دیگر اجناس میں بہت طاقت ہوتی ہے۔

 ان شہروں کے موسم معتدل ہوتے ہیں اور زیادہ تر موسم بہار ہی رہتا ہے اس لیے ان شہروں میں بہت کم بیماریاں ہوتی ہیں۔ عورتیں تمام ایام میں یکساں طبعتیں رکھتی ہیں اور بہت زیادہ بچے پیدا کر سکتی ہیں ان کو حاملہ ہونے اور بچہ پیدا کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

 ان کی عورتوں کے مزاج معتدل اور نرم ہوتے ہیں اور آنکھیں بڑی ہوتی ہیں۔ ان شہروں کے نوجوان جلد بالغ ہو جاتے ہیں۔ بچوں میں پھیپھڑوں کی بیماریاں ہوتی ہیں لیکن بڑا ہونے پر ان کو اس بیماری سے نجات مل جاتی ہے۔ ان شہروں کے لوگوں کو متعدی اور وبائی بیماریاں بہت کم لگتی ہیں۔

4 -مغرب کی جانب شہر

 ایسے تمام شہر جو مغرب کی جانب ہیں۔ یہ شہر مشرقی گرم ہواﺅں سے دور ہونے کی وجہ سے سرد ہواﺅں کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ سرد ہوائیں ان شہروں میں کئی قسم کے امراض پیدا کرتی ہیں۔ ایسے شہروں کے پانی زیادہ صاف نہیں ہوتے اور اپنے بھاری پن کی وجہ سے پیٹ کی کئی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے شہروں میں سورج طلوع ہونے میں بہت دیر لگاتا ہے۔ ان شہروں کے باشندے اگرچہ محنتی اور سخت جان ہوتے ہیں لیکن ان میں اکثر کی طبعیتیں صفراوی ہوتی ہیں۔ ان شہروں کے مردوں کے رنگ سرخی مائل زرد ہوتے ہیں اور ان کو سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں عام رہتی ہیں۔ ایسے شہروں کے نوجوان جلد بالغ ہو جاتے ہیں اور پھر ان پر جلدی بڑھاپا آ جاتا ہے۔ ان کی عورتوں کو بکثرت خون آتا ہے اور اکثر اسقاط ہو جاتا ہے اور بچہ پیدا کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -