کسی اچھے مقام پر پہنچنے کے بعد انسان یہ نہ بھولے کہ اس نے برا دور دیکھا ہے

کسی اچھے مقام پر پہنچنے کے بعد انسان یہ نہ بھولے کہ اس نے برا دور دیکھا ہے
کسی اچھے مقام پر پہنچنے کے بعد انسان یہ نہ بھولے کہ اس نے برا دور دیکھا ہے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:3 

جو لوگ بے انتہا غربت کے بعد زندگی میں ایک بڑا مقام حاصل کرتے ہیں ان میں2 طرح کے رویئے ملتے ہیں اوّل تو یہ کہ انسان غربت کی گھاٹیوں سے نکل کر بلند مقام پر پہنچنے کے بعد اپنے ماضی سے شرمائے‘ غربت کے ساتھیوں سے ملنے سے گریز کرے ۔دوسرا رویہ یہ ہوتا ہے کہ کسی اچھے مقام پر پہنچنے کے بعد انسان یہ نہ بھولے کہاس نے برا دور دیکھا ہے نہ صرف اس دور کے ساتھیوں کو یاد رکھے بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد بھی کرے۔ یہ ایک خوش کن بات ہے کہ صدیق سالک کا شمار دوسری قسم کے لوگوں میں ہوتا ہے وہ کبھی اپنے خاندان کی مالی اور تعلیمی پس ماندگی پر نہیں شرمائے اس بارے میں وہ کچھ چھپانا نہیں چاہتے ایک انٹرویو میں لکھتے ہیں: 

”میرے ننھیال میں تو کچھ لوگ معمولی سے پڑھے لکھے تھے لیکن ددھیال میں تو کوئی بھی حرف شناس نہ تھا ان کے ہاتھ ہل پرتھے مگر قلم تک کسی کی رسائی نہ تھی اس لیے میں نہیں کہہ سکتا کہ جی! میں لندن کے البرٹ اسپتال کے ایک شاندار وارڈ میں پیدا ہوا اور مجھے تمام بےمار یوں کے ٹیکے لگائے گئے۔ یہ غلط ہے ہم ان مراعات سے محروم تھے-“

سالک نے اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے بعد اپنے گاﺅں کی ترقی کے لیے بہت سے اقدامات کئے ان کے متعلق لکھتے ہیں:

”پھر میں نے مشن کا اگلا مرحلہ طے کیا یعنی ذاتی افلاس کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پسماندہ گاﺅں کی حالت بہتر بنائی۔ اب ماشا اللہ وہاں پکی سڑک ہے۔ اسپتال ہے‘ لڑکیوں کا ہائی سکول ہے- ٹیکنیکل سکول بھی ہے ‘ شفاخانہ حیوانات ہے ٹیلی فون ہے بینک ہے گویا علاقے کی کایا پلٹ گئی ہے- میں اس پر فخر نہیں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اپنے علاقے کی خدمت کرنے کی توفیق اور ہمت دی-“ 

صدیق سالک کے ان اقدامات کی تائید کرتے ہوئے ان کے گاﺅں کے ایک رہائشی محمد اسلم ملک کا کہنا ہے:

”صدیق سالک نے گاﺅں کی ترقی میںبہت اہم کردار ادا کیا۔ہمارا گاﺅں ”منگلیہ“ 1978ءتک بجلی سے محروم تھا۔ ان کی کو ششوں سے بجلی کی تنصیب ہوئی۔ ان کا ایک بہت اہم کام لالا موسیٰ سے منگلیہ تک پختہ سڑک کی تعمیر ہے- جو 1979ءمیں ہوئی جس سے اہل علاقہ کو بہت سہولت ہوئی۔1982ءمیں بنیادی مرکز صحت منگلیہ کے قیام میں بھی ان کا کردار نمایاں تھا-1984ءمیں ان کی کوششوں سے لڑکیوں کے پرائمری سکول کو ہائی سکول کا درجہ ملا- اسی طرح1986ءمیں نیشنل بنک کی برانچ قائم کرنے میں بھی ان کا کردار شامل تھا۔ ان ترقیاتی کاموں کے باعث گاﺅں کے لوگوں کی مشکلات میں کمی واقع ہوئی۔ صدیق سالک نے واقعی اپنے گاﺅں کی مٹی کا قرض ادا کر دیا۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -