30 ستمبر کو مزید آڈیو زلیک کا اعلان کرنے والے مبینہ ہیکر نے لیکس رکوانے کیلئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ’انکشاف‘ کر دیا 

30 ستمبر کو مزید آڈیو زلیک کا اعلان کرنے والے مبینہ ہیکر نے لیکس رکوانے کیلئے ...
30 ستمبر کو مزید آڈیو زلیک کا اعلان کرنے والے مبینہ ہیکر نے لیکس رکوانے کیلئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ’انکشاف‘ کر دیا 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم آفس کی آڈیو لیکس کرنے والے مبینہ ہیکر نے جمعہ 30 ستمبر کے روز مزید آڈیو ز جاری کرنے کا اعلان کر رکھاہے لیکن اب مبینہ ہیکر کی جانب سے ٹویٹر پر ان لیکس کو رکوانے کیلئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق مبینہ ٹویٹر اکاﺅنٹ پر جاری پیغامات میں ہیکر نے دعویٰ کیاہے کہ حکومت کے ساتھ مزید لیکس کو رکوانے کیلئے مذاکرات جاری ہیں لیکن انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں ۔

مبینہ ٹویٹر اکاﺅنٹ سے جاری پیغامات میں کہا گیاہے کہ ”حکومت کو پرزور مشورہ دیتا ہوں کہ وہ انٹیلی جنس بیورو کے ذریعے مذاکرات کو پس پشت ڈالنے کی پالیسی جاری نہ رکھے ، اس طرح کا رویہ فائدہ مند نہیں ، خصوصی طور پر اس وقت جب دونوں جانب سے اعتماد قائم کرنے کیلئے اقدامات کیے گئے ہوں “۔

مبینہ ہیکر کا مزید کہناتھا کہ ”یہ صرف اشتعال دلانے کا ذریعہ ثابت ہو گا ، اور مجھے ایسے راستوں پر جانے پر مجبور کرے گا جس کا طاقتور کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ،مذاکرات کا دوبارہ آغاز ریاستی اداروں کے ذریعے حکومت کی طرف سے نا روا رویئے کیلئے گرین سگنل نہیں ہے ۔“

”اس وارننگ کو سمجھنا چاہیے جسے دوبارہ دہرایا نہیں جائے گا، مذاکرات میں ایک اور رکاوٹ خود ساختہ کشیدگی کے مترادف ہوگی ،کشیدگی وفاقی حکومت کے حق میں نہیں ہے اور نہ ہی اس کے معاونین کے ۔“

”آخری بات، اگر بات چیت کو برقرارر کھنا ہے تو وہ میری شرائط پر ہونی چاہئیں ، مجھے پورا یقین ہے کہ مسٹر طارق فاطمی اپنی یقین دہانیوں پر پورا اتریں گے ۔“

مزید :

قومی -