عمران خان کی مبینہ آڈیو لیکس پر فواد چودھری کا بھی ردعمل آ گیا

عمران خان کی مبینہ آڈیو لیکس پر فواد چودھری کا بھی ردعمل آ گیا
عمران خان کی مبینہ آڈیو لیکس پر فواد چودھری کا بھی ردعمل آ گیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے چیئر مین پاکستان تحریک انصاف کی مبینہ آڈیو لیکس پر کہنا ہے کہ "نئی  لیکس سے صرف یہ کنفرم ہوتا ہے کہ امریکی مراسلہ وزیر اعظم سے چھپانے کی کوشش کی گئی "۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فواد چودھری نے عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان ہونے والی مبینہ آڈیو لیکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے  کہا کہ یہ لیکس صرف کنفرم کرتی ہے کہ امریکی مراسلہ وزیر اعظم سے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی ۔

واضح رہے کہ ایک آڈیو لیک ہو ئی ہے جس میں مبینہ طورپر عمران خان کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ " اب ہم نے صرف کھیلنا ہے۔۔ نام نہیں لینا امریکہ۔۔۔ بس صرف کھیلنا ہے اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی ".

اعظم خان کہتے ہیں کہ" سر! میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ جو سائفر ہے نا۔۔۔ میرا خیال ہے ایک میٹنگ کرلیتے ہیں اس کے اوپر, دیکھیں اگر آپ کو یاد ہے تو آخر میں ایمبیسیڈر نے لکھا ہوا تھا کہ ڈیمارچ کریں, اگر ڈیمارچ نہیں بھی دینا تو کیونکہ رات میں نے بہت سوچا ہے اس کے اوپر۔۔۔ آپ نے کہا کہ انہوں نے اٹھایا لیکن نہیں پھر میں نے سوچا کہ اس کو کور کیسے کرنا ہے؟ ایک میٹنگ کریں شاہ محمود قریشی اور فارن سیکرٹری کی ,شاہ محمود قریشی یہ کریں گے کہ وہ لیٹر پڑھ کر سنائیں گے تو جو بھی پڑھ کر سنائیں گے  اس کو کاپی میں بدل دیں گے,وہ میں منٹس میں کرلوں گا کہ فارن سیکرٹری نے یہ چیز بنادی ہے۔۔۔ بس اس کا یہ کام ہوگا مگر یہ کہ اس کا اینلسز ادھر ہی ہوگا,پھر اینلسز اپنی مرضی کے منٹس میں کردیں گے تاکہ منٹس آفس کے ریکارڈ میں ہو،اینلسز یہ ہوگا کہ یہ تھریٹ ہے، ڈپلومیٹک لینگوئج میں اسے تھریٹ کہتے ہیں دیکھیں منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں نا وہ اپنی مرضی سے منٹس ڈرافٹ کرلیں گے "۔

 عمران خان پھر پوچھتے ہیں کہ "  تو پھر کس کس کو بلائیں اس میں؟ شاہ محمود، آپ ،  میں اور سہیل ؟ ٹھیک ہے کل ہی کرتے ہیں"۔اعظم خان کہتے  ہیں کہ تاکہ وہ چیزیں ریکارڈ میں آجائیں،  آپ یہ دیکھیں کہ وہ قونصلیٹ فار سٹیٹ ہیں ، وہ پڑھ کر سنائے گا تو میں کاپی کرلوں گا آرام سے، تو آن ریکارڈ آجائے گی کہ یہ چیز ہوئی ہے،آپ فارن سیکرٹری کو بلائیں تاکہ پولیٹیکل نا رہے اور بیوروکریٹک ریکارڈ پہ چلا جائے"۔

عمران خان  نےپھر استفسار کیا کہ " نہیں تو اسے  ایمبیسیڈر نے ہی لکھا ہے؟ جس پر اعظم خان کہتے ہیں کہ  ہمارے پاس تو کاپی نہیں ہے نا یہ کس طرح انہوں نے نکال دیا؟

مزید :

اہم خبریں -قومی -