افغان حکومت اور روس کے درمیان اچھے تعلقات کے لیے اہم اقدام

افغان حکومت اور روس کے درمیان اچھے تعلقات کے لیے اہم اقدام
افغان حکومت اور روس کے درمیان اچھے تعلقات کے لیے اہم اقدام

  

کابل(ڈیلی پاکستان آن لائن)افغانستان کی طالبان حکومت نے روس کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ اپنے عام کی خوراک اور ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے گندم اور تیل کی خرید سکے۔ رعائتی نرخوں پر گندم کے اس معاہدے سے طالبان کے لیے اپنے عوام کے خوراک کے مسائل کم کرنے کا موقع ملے گا، نیز علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔

طالبان حکومت کے وزیر تجارت و صنعت عبدالسلام جواد اخوندزادہ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'اس معاہدے کے تحت گیس، ڈیزل، روس سے آسکے گا مگر کم قیمت کی بنیاد پر۔مل سکیں گے۔' کسی ملک کے ساتھ طالبان حکومت کا یہ اب تک کا سب سے بڑا باضابطہ تجارتی معاہدہ اپنی حکومت قائم ہونے کے ایک سال بعد ہوا ہے۔

وزیر تجارت و صنعت نے فون پر کابل سے بات کرتے ہوئے کہا 'تیاری جاری ہے تاکہ گندم اور دیگر اشیا کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ ان کے بقول جب سے طالبان حکومت میں آئے ہیں۔ یہ سب سے بڑی ڈیل ہے۔ ان میں سے تیل اور ڈیزل ایک ملین ٹن کی مقدار میں شامل ہوں گے۔ جبکہ پانچ لاکھ ٹن پٹرولیم گیس کی درآمد ہو گی۔'انہوں نے گندم کے بارے میں بتایا یہ دو ملین ٹن ہو گی اور ہر سال آتی رہے۔ معلوم ہوا ہے کہ گندم کا یہ معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے ہے۔ اخوند زادہ نے مزید کہا کہ روسی حکومت کے ساتھ لمبی مدت کے مزید کئی معاہدات ہوں گے۔ واضح رہے اس معاہدے سے پہلے طالبان کے وزیر تجارت ایک ماہ قبل روسی دورے پر گئے تھے۔ ماہ جون میں طالبان حکومت نے ایران کے ساتھ 350000 ٹن کی پٹرولیم مصنوعات کا معاہدہ کیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -