گلوبل وارمنگ اورموسمیاتی تغیر

گلوبل وارمنگ اورموسمیاتی تغیر
گلوبل وارمنگ اورموسمیاتی تغیر

  

تحریر: علی رضا (ایم اے او کالج)

گلوبل وارمنگ اورموسمی تغیرات نے کرہ ارض کے ہرگوشے کوشدید متاثر کیا ہے ۔ ماہرین  کا خیال ہے کہ گزشتہ 30  برسوں  کے دوران  زمین پربڑی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ کہیں درجۂ حرارت میں اضافہ،کہیں بارش،کہیں سیلابوں کے سلسلے توکہیں خشک سالی وغیرہ۔برطانیہ سمیت یورپ کے دیگرممالک میں گرمی کی شدت محسوس کی جارہی ہے۔برطانیہ میں خشک سالی میں ہرسال اضافہ ہورہا ہے۔بارشوں میں کمی ہوتی جارہی ہے۔جون سے اگست 2022 تک مسلسل گرمی کی لہروں نے یورپ کے بڑے  حصے  کو متاثر کیا،  14 جولائی کو پنہاؤ، پرتگال میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ صرف جولائی کے مہینے میں یورپ میں اموات کی شرح 16 فیصد زیادہ رہی۔ 16 ستمبر 2022 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی کے مہینے میں یورپ میں 53 ہزار اضافی اموات ہوئیں جن کی بڑی وجہ ہیٹ ویو تھی۔ موسمیاتی تبدیلیاں صرف یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر بر اعظم کو متاثر کر رہی ہیں، چین میں خشک سالی کی وجہ سے کئی دریا خشک ہوچکے ہیں جب کہ جاپان اور امریکہ  سمیت دیگر ممالک سمندری طوفانوں کی لپیٹ میں ہیں۔

رواں سال وطنِ عزیز موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی تباہ کن بارشوں اور سیلاب  نے چاروں صوبوں میں تباہی کی وہ داستانیں رقم کیں کہ پوری دنیا ہل کر رہ گئی۔ سیلابی ریلوں نے کھڑی فصلوں،گھروں اورپلوں کوزبردست نقصانات  پہنچائے۔بیشترعلاقوں کا ایک دوسرےسے رابطہ منقطع  ہے،  لاکھوں  مویشی،سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق پاکستان کا انگلینڈ کے رقبے جتنا حصہ زیر آب ہے۔  حالیہ سیلاب کے دوران پاکستان  میں نہ صرف ڈیڑھ ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا  بلکہ معاشی طور پر بھی ملک کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔ ایک اندازے کےمطابق پاکستان میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں 30 ارب ڈالر زسے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی کوئلہ، تیل اور  گیس کے استعمال میں  اضافہ قدرتی ماحول کو بری طرح متاثرکررہا ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کا درجۂ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کو گلوبل وارمنگ کا نام دیا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں  گلیشئیر تیزی سے پگھل رہے ہیں جو سمندروں کی سطح میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ پچھلے 20 برسوں میں سمندر کی سطح میں 20 سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ ماحولیاتی مطالعات کی روشنی میں برابر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ زمین کا درجہ حرارت لگاتار بڑھ رہا ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق پچھلی صدی میں زمین کا درجہ حرارت0.75 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا تھا۔ انٹرنیشنل پینل آن کلائمٹ چینج کی جائزہ رپورٹ جو کہ 2018 میں شائع ہوئی تھی اس کے مطابق  آنے والے وقت میں زمین کا اوسط درجہ حرارت 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ سے  4.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔   ایک اور اندازے کے مطابق یہ اضافہ 6  ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی ہو سکتا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث دنیا بھر میں جنگلات کے جلنے، سیلاب اور خشک سالی کے امکانات میں کافی اضافہ ہوا۔

آج پوری دنیا جو کاٹ رہی ہے وہ انسان کا خود اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا ہے، اگرچہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے ہر ملک اپنے اپنے طور پر آواز تو اٹھاتا ہے لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حالیہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی موسمیاتی تبدیلی کا معاملہ اہم موضوع رہا لیکن ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں پڑے ہوئے ممالک اس حوالے سے کوئی عملی قدم بھی اٹھائیں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -