وقت کسی کی جاگیر نہیں، فیصلہ ہم نے کرناہے

وقت کسی کی جاگیر نہیں، فیصلہ ہم نے کرناہے
 وقت کسی کی جاگیر نہیں، فیصلہ ہم نے کرناہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج سے 35سال پہلے تک ہمارے گاﺅں میں اکثرمقامات پر بیلوں کی مدد سے چلنے والے لوٹوں والے کنویں موجود تھے۔ اُن دنوں لوگوں کی توجہ کامرکز جانور ہوتے تھے اور کوئی کسی کے مکان یا گاڑی پر توجہ نہیں دیتاتھا۔ کسی کے پاس اعلیٰ نسل کا بیل موجود ہوتاتولوگ اُس کو دیکھنے کی کوشش کرتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی جگہ مشینری نے لی اوربیل کی جگہ کنویں سے پانی نکالنے کے لیے انجن آگئے۔ ایک لمبے عرصے بعدجلے ہوئے کالے موبل آئل سے چلنے والا ’تُک تُک‘ انجن آگیا جسے چلانے کے لیے پورے محلے کو نہیں تو کم ازکم پورے گھر انے کوضرور اکٹھا ہوناپڑتا۔ اُس انجن سے کام میں آسانی آئی کیونکہ جانوروں کی نسبت دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری کم ہوگئی تھی۔ کہیں بھی انجن چلتاتوپورے علاقے میں پتہ چلتاتھا کیونکہ اُس کی آواز بہت زیادہ تھی اور انجن کے قریب بیٹھے افراد کوکان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔جلے ہوئے کالے تیل کی وجہ سے انجن کے اردگرد ہر جگہ کالے نشان موجود ہوتے اور مالک کی پہچان ہی یہی ہوتی۔کالے انجن کی اگلی نسل میں ڈیزل سے چلنے والے پیٹرانجن آئے جو بڑے انجن کی نسبت چلاناآسان اورہیت میں چھوٹاتھا۔اِس کا شوربھی کم ہوتاتھا۔ پرویزمشرف کے دورمیں پورے ملک میں ہرجگہ بجلی پہنچادی گئی تو میرے گھر والوں نے بھی اُس کا فائدہ اُٹھایا۔ پیٹر انجن کی جگہ بجلی سے چلنے والی موٹریں لگالیں۔ کچھ عرصہ موٹریں چلتی رہیں اور اہل محلہ کی بھی ’تُک تُک‘سے جان بخشی ہوئی ۔موٹریںلگانے کے بعد پیٹرانجن اورمتعلقہ سٹرکچر بیچنے کی کوشش کی گئی لیکن میرا خاندان پیٹرانجن کے علاوہ دیگر اشیاءنہیں بیچ سکا۔ پچھلے دنوں والد صاحب سے میری بات ہوئی تو اُنہوں نے مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اب ہمیں کہیں سے پیٹرانجن خریدناہوگا ،چند لمحوں کی خاموشی کے بعدبولے کہ ڈیزل بھی بہت مہنگاہے، وقت ہمیں پیچھے لے گیاہے۔ میں نے زبان پر الفاظ لائے بغیر والد سے اختلاف کرتے ہوئے کہاکہ وقت تو چلتاہی رہتاہے، یہ فیصلہ ہم عوام کو کرناہے کہ وقت کے ساتھ چلناہے یانہیں، وقت کسی کی جاگیر نہیں ہوتا۔ دنیا میں ترقی کرنے والی اقوام وقت کی بہت قدر کرتی ہیں۔ اگر ہم نے بھی قدرکرتے ہوئے توانائی کے منصوبوں پر توجہ دی ہوتی تو آج ہمیں پرانی چھوڑی ہوئی چیزوں کو دوبارہ اختیار کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ زبیراعوان

مزید : ڈیلی بائیٹس