غداری کیس،پرویز مشرف سمیت تمام معاونین کیخلاف کارروائی کریں: وکلاءصفائی ، موکل سے ملاقات کی اجازت ، دیکھناہوگاکہ آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوتاہے یا نہیں : سپریم کورٹ

غداری کیس،پرویز مشرف سمیت تمام معاونین کیخلاف کارروائی کریں: وکلاءصفائی ، ...
غداری کیس،پرویز مشرف سمیت تمام معاونین کیخلاف کارروائی کریں: وکلاءصفائی ، موکل سے ملاقات کی اجازت ، دیکھناہوگاکہ آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوتاہے یا نہیں : سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) غداری کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکلاءنے پاکستان کی تاریخ میں مارشل لاءلگانے والے تمام آمروں کیخلاف کارروائی کی استدعاکرتے ہوئے موقف اپنایاکہ اُن کے موکل کیخلاف اکیلی کارروائی ہوئی تویہ امتیازی سلوک ہوگا، صدر اپنے حلف سے ہٹ کر کچھ بھی کرسکتاہے اوریہ اختیار اُنہیں ماضی کے عدالتوں فیصلوں نے دیاہے جبکہ سپریم کورٹ نے سابق صدر کے وکلاءکو فارم ہاﺅس سب جیل میں ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت کردی ۔ فاضل بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ ہمارے سامنے کوئی کردار نہیں ، صرف آرٹیکل چھ کے اطلاق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرناہے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی نے بنچ غداری کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت وکیل صفائی ابراہیم ستی نے موقف اپنایاکہ پہلے فل کورٹ یا لارجر بنچ سے متعلق فیصلہ کیاجائے ، نومارچ سے اب تک دور کردار ہیں ، ایک چیف جسٹس اور دوسرا پرویز مشرف ۔جس پر جسٹس خلجی نے کہاکہ ہمارے سامنے کوئی کردار نہیں ، ہمیں یہ دیکھناہے کہ چھ کا اطلاق ہوتاہے یا نہیں؟ اُن کاکہناتھاکہ عدالت کو صرف تین نومبرکا اقدام سامنے رکھ کر فیصلہ کرناہے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ سماعت جاری رہے گی ، تمام معاملات کا فیصلہ آخر میں کیاجائے گا۔ ابراہیم ستی کا کہناتھاکہ اُن کے موکل جسمانی ریمانڈ پر ہیں ، اُنہیں اپنے موکل سے چار دن سے ملنے نہیں دیاجارہا، وکیل کا موکل سے ملناقانونی حق ہے جس پر جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ آپ چاردن کیوں رُکے رہے ، پہلے ہی بتادیتے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کاکہناتھاکہ ملاقات کیلئے آج ہی حکم نا مہ جاری کریں گے ۔ سابق صدر کے وکیل ابراہیم ستی کا کہنا ہے کہ صرف میرے موکل کے خلاف کارروائی کی گئی تو یہ امتیازی سلوک ہو گا، کارروائی کرنی ہے تو سب کا ٹرائل کریں چاہیے ، کوئی مرا ہو یا زندہ ہو۔ابراہیم ستی نے لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے بھارتی سپریم کورٹ اور احادیث مبارکہ کے حوالے دیئے، ابراہیم ستی نے دلیل دی کہ صدر اپنے حلف سے باہر فیصلہ کر سکتا ہے جس پر جسٹس جواد نے استفسار کیا کہ صدر کو ماورائے آئین اقدامات کا اختیار کس نے دیا؟ وکیل ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ صدر کو یہ اختیار ماضی کے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں وراثت میں ملا جس پر جسٹس جواد نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب کوئی موقع آئے تو صدر آئین و قانون کو بالائے طاق رکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ وکیل نے کہا کہ صدر اور آرمی چیف کے حلف ناموں کے متن میں فرق ہے، 1975ءسے 1999ء تک آئین کی خلاف ورزیوں کی عدالت نے توثیق کی، ججوں کے علاوہ تمام ادارے کام کررہے تھے، کس نے تین نومبر کے اقدامات پر عملدرآمد کروایا سب کو شامل تفتیش کیا جائے۔بعدازاں عدالت نے سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے فارم ہاﺅس سب جیل حکام کو ہدایت کی کہ ابراہیم ستی اور احمد رضاقصوری وغیرہ کو پرویز مشرف سے ملاقات کی اجازت دی جائے ۔

مزید : اسلام آباد /Headlines