ہماری, سیاست, اور, امیدِ, سحر

ہماری, سیاست, اور, امیدِ, سحر
ہماری, سیاست, اور, امیدِ, سحر

  

انقلاب ،انقلاب آ رہا ہے ۔پاکستان کو بچانے والے زندہ ہو گئے ہیں ۔پاکستان کی تقدیر اب بدل جائے گی ۔اب ایک نیا پاکستان بنے گا ....ایسے نعرے ایسی باتیں سن سن کے اب تو کانوں میں بھی کھجلی ہو نے لگی ہے۔ انقلاب تو ہم ہر روز دیکھتے ہیں ۔ہر روز ایک نیا انقلاب آتا ہے ،کہیں بم دھماکے سے ،کہیں گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے ۔کئی گھروں سے لوگ اپنے گھر میں انقلاب لانے کی کوشش میں محنت مزدوری کرنے نکلتے ہیں ،شام کو لاش گھر آ جاتی ہے۔ یہ بھی تو انقلاب ہی ہے ۔صبح بچے اُٹھے ،ناشتہ مانگا تو جواب ملا کہ گیس نہیں آ رہی ،بچے بھوکے پیٹ سکول چلے گے ،یہ بھی تو انقلاب ہی ہے آج کل مچھر انقلابی بنا ہوا ہے ۔بجلی نہ ہونے سے جسم میں خون کی گردش کو انقلابی مچھر گرما رہا ہے ۔پاکستان کو بچانے والے پہلے مرے ہوئے تھے جو اب زندہ ہو گئے ہیں ؟ اور کیا پاکستان کو بچانے کے لئے سیاست میں آنا ضروری ہے ؟ اور پاکستان کو بچانا کس سے ہے ؟پاکستان کو اغیار سے بچانا ہے یا اپنوں سے؟ اور پاکستان کی تقدیر خراب کیسے ہوئی جو اب بدلنے جا رہی ہے؟کیا نیا پاکستان بنانے کی ضرورت ہے ؟

میری ناقص رائے کے مطابق تو پاکستان یہی ٹھیک ہے ،جسے ہمارے بزرگوں نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا، اگر بدلنے کی ضرورت ہے تو حکمرانوں کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔اگر بدلنا ہے تو گیارہ مئی کے بعد ایوانِ اقتدار میں براجمان ہونے والوں کے دماغوں کو بدلنا ہو گا ،پاکستان پہلے والا ہی ٹھیک ہے ۔آج کل الیکشن کا موسم ِ بہار ہے ۔شب و روز سیاسی جلسوں کا انعقاد زور شور سے ہو رہا ہے ۔نہ چاہتے ہوئے بھی امید سحر کی آوازیں (جن کے پوری ہونے کی امید تو ہے ہی نہیں) قوت سماعت سے ٹکراتی رہتی ہیں ۔یہ جو امید کی نئی کرنیں عوام کو سنائی اور دکھائی جا رہی ہیں، یہ تو عوام عرصہ دراز سے سن رہے ہیں اور سنانے والی زبانیں بھی وہی ہیں ،دکھائی دینے والے چہرے بھی وہی ہیں ۔

ان کے خطابات سن کر میرے جیسے کند ذہن انسان کے دماغ میں تو اسی طرح کے سوالات جنم لینا شروع کر دیتے ہیں ، پھر جواب تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتا ،پا کستان کے عوام کو چکنی باتوں سے بہلا نے والو، ان عوام کواس پہلے والے پاکستان میں ہی ان کے بنےادی حقوق کی فراہمی کو ےقینی بنایا جائے ،اتنا ہی کافی ہے ۔ عوام کو نئے پاکستان کی ضرورت نہیں، بلکہ اسی قائداعظم ؒ کے پاکستان میں ہی عوام کو امن ، پیار ، روزگار، پانی، بجلی ،گیس اور دیگر ضروریاتِ زندگی چاہئیں، وہی دلا دو کافی سے بھی زیادہ ہو گا ۔ملک میں جان لیوا مہنگائی، بے روز گاری، کرپشن ،بم دھماکوں سے قبرستانوں کی ترقی روک دو، ہمارے لئے کافی ہے ۔امیدوار حضرات چکنی چپڑی باتوں کی بجائے اگر خلوصِ دل سے اپنی کہی ہوئی باتوں پر عمل کر دکھائیں تو آئند ہ الیکشن میں شاید بن مانگے ووٹ مل جائیں ۔عوام کو دکھائی جانے والی امید سحر اگر واقعی امیدِ سحر ہوئی تو،پھر آنے والے الیکشن میں بغیر ووٹ مانگے ہی ووٹ مل جائیں گے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ جھوٹ نہیں بولنا پڑے گا، پھر دوبارہ عوام کی منتیں نہیں کرنا پڑیں گی ۔      ٭

 مکرمی!2002ءمیں ایل ڈی اے نے ایک رہائشی سکیم کا آغاز ایل ڈی اے ایونیو1 کے نام سے کیا تھا۔ یہ رہائشی سکیم خصوصی طور پر سرکاری ملازمین کے لئے بنائی گئی تھی۔ محکمہ ایل ڈی اے نے بذریعہ اخبارات وعدہ کیا تھا کہ وہ دو سال کے اندر اپریل2005ءتک اس سکیم کو تمام ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے بعد الاٹیوں کو دے دیں گے، لیکن بدقسمتی سے آٹھ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس کے ترقیاتی کام مکمل نہیں ہوئے اور نہ ہی اس کا قبضہ دیا گیا، بلکہ اس میں طرح طرح کے تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ مجبوراً ہم ہزاروں متاثرین چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہیں کہ متاثرین کی داد رسی کرتے ہوئے اُن کو انصاف فراہم کریں اور انہیں قبضہ دلوائیں تاکہ الاٹی ان پر سرچھپانے کے لئے مکان تعمیر کر سکیں۔

بابر منبر، مکان نمبر9، طاہر سٹریٹ

اتفاق کالونی مسلم روڈ ساندہ خورد، لاہور

0334-9709791

مزید : کالم