امریکی دباﺅ

امریکی دباﺅ
امریکی دباﺅ

  

امریکی صدر بارک حسین اوباما نے2014ءمیں پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان سے اپنی تقریباً 34 ہزار فوج واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔ بارک اوباما نے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد امریکی سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ اِس وقت القاعدہ کی پوزیشن بہت کمزور ہو چکی ہے، امریکہ کو القاعدہ سے پہلے کی طرح کا خطرہ نہیں ہے، لیکن اِس کے باوجود ہم امریکہ کے خلاف دُنیا میں کسی بھی ملک کے اندر کسی بھی تنظیم کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ امریکی صدر کی حیران کن پالیسی ہے کہ ایک طرف وہ اِس خطے سے جنگ کو ختم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ساری دُنیا میں کارروائیاں کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، اِس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی سازوں کو بھی اپنی آزادی اور خود مختاری کو سامنے رکھ کر ہی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی ہو گی، پاکستان کی خارجہ پالیسی الیکشنوں کے بعد نئے آنے والے حکمرانوں کی ذمہ داری میں نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہو گی۔

 الیکشنوں کے بعد پالیسی ساز تو شاید تبدیل نہیں ہوں گے، پالیسی ساز تو پاکستان کی بیورو کریٹ ٹیم ہوتی ہے، وہ ماشاءاللہ ہر حکومت میں موجود ہوتی ہے، الیکشنوں میں بیورو کریسی کے لئے نمائندے منتخب ہو کر آتے ہیں، جن کو تقریباً بیورو کریٹ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ افغانستان میں2001ءسے جنگ کے حالات چل رہے ہیں۔ اس وقت صدر بش نے امن و امان کو تباہ و برباد کیا۔ اس خطے میں افغانستان کی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اُٹھانا پڑا۔ امریکہ ساری دُنیا سے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے تیار ہوا تھا، امریکہ نے اپنے اتحادی پاکستان کو فرنٹ لائن پر رکھا، لیکن دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی ذمہ داری بھی پر ڈالتا رہا۔ امریکی جنرل کمانڈر نے گزشتہ روز پاکستان پر الزام لگایا کہ پاکستانی دہشت گرد اپنی کارروائیاں کر کے پاکستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ جاتے ہیں اور پاکستان کے علاقے میں دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کے لئے لوگ موجود ہیں۔ امریکی کمانڈر کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان پر اپنا مزید دباﺅ بڑھانا چاہتا ہے اور الیکشنوں سے پہلے ہی آنے والے نمائندوں پر اپنی دھونس طاقت کو قائم رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہو گیا ہے، حالانکہ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کی وجہ سے دباﺅ کا شکار ہے۔

امریکی اور اس کے اتحادی فوجوں نے کئی بار پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کر کے پاکستانی فوجیوں اور سویلین لوگوں کو شہید کیا ہے، بلکہ پاکستان کے شمالی علاقوں پر ڈرون حملے تواتر سے ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملے افغانستان کی سرحد کی طرف سے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے کئی بار یادداشت اتحادی فوجوں کو پیش کی جا چکی ہے کہ افغانستان کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکا جائے، لیکن اتحادی فوجوں نے پاکستان کی بات کا مثبت جواب نہیں دیا۔ افغانستان کی صورت حال کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بہت نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالات انتہائی خراب حالت میں پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ خراب صورت حال میں حاضر سروس امریکی کمانڈر کا الزام پاکستان کے خلاف مزید گھناﺅنی کارروائیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ اتحای فوجیں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے پاکستانی علاقوں کے اندر جا سکتی ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اتحادی ملکوں فرانس، اٹلی، جرمن نے نیٹو سے اپنی فوجیں واپس بلا لی ہیں، بلکہ چند اتحادی ملک اب کہہ رہے ہیں کہ طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ برقرار رکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ مسئلہ افغانستان کے حل کے لئے مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا، جس کا گزشتہ روز برسلز میں اہتمام کیا گیا، جس میں امریکی کمانڈر افغانستان کے صدر اور پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی شریک ہوئے۔ یہ کانفرنس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی اور کئی اتحادی ملک امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کر کے اِس خطے میں امن بحال کرنے کی کوشش کی جائے، چونکہ افغانستان پر دس سال سے امریکہ گولہ بارود کا استعمال کر رہا ہے، لیکن پھر بھی امن قائم نہیں ہو سکا۔ طالبان امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے پہلے اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر امریکہ اِس خطے میں امن قائم کرنے کا خواہش مند ہے، تو اُس کو اِس خطے میں رہنے والے تمام لوگوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے پالیسی ترتیب دینے کی کوشش کرنا ہوگی۔

امریکہ کو افغانستان کے حکمرانوں اور عوام کا مطالبہ تسلیم کر کے وہاں سے اپنی تمام فوجوں کو واپس بُلا لینا چاہئے، چونکہ افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کا موجود ہونا بھی افغانستان اور اس کے ہمسایہ ملکوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں اس خطے کے تمام ملک کمزور ہیں، جو امریکہ سے برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے خواہش مند ہیں، جو کہ ناممکن ہے۔ امریکہ اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ حالات بتاتے ہیں کہ افغانستان سے متعلق امریکی صدر اوباما کا حالیہ بیان ، جس میں فوجوں کا انخلاءشامل ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے نہیں، بلکہ خود امریکی معاشی حالات کو سدھارنے کے لئے ہے۔ پاکستان نے امریکہ کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہو کر ہر سیاسی و معاشی سطح پر بے حد نقصان اُٹھائے ہیں۔ ان میں پاک افغان تعلقات کے سیاسی و سفارتی پرابلم بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں رائے عامہ بھی امریکی پالیسیوں کے خلاف ہے۔ چند روز پہلے پاکستان کے کسی ادارے میں تقریباً 400 طلباءنے امتحانی سوالات کا جواب دیا، جس میں تمام طلباءنے امریکہ کو پاکستان کا دشمن ملک قرار دیا۔ ان طلباءو طالبات کو پانچ دشمن اور پانچ خیرخواہ ملکوں کے نام لکھنے کو کہا گیا تھا۔ امریکہ کو تمام نے نمبر ون لکھا تھا۔

 امریکہ کے لئے پاکستانی نوجوانوں کے دِلوں میں نفرت ان کے بزرگوں اور پاکستان کے حالات دیکھ کر سن کر پیدا ہوئی ہے۔ امریکہ کبھی بھی مشکل وقت میں ساتھ نہیں دیا، صرف قرضے دلوانے یا جنگی ہتھیار فروخت کرنے میں فراخدلی کا مظاہر کرتا ہے۔ افغانستان کی صورت حال میں بھی امریکہ پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کو ترجیح دے رہا ہے۔ امریکہ کے سامنے پاکستان چین کے تعلقات بھی پریشانی کا باعث ہیں، چونکہ چین نے ہمیشہ پاکستان کو اچھے دوست کے طور پر دیکھا ہے امریکہ ایران کے خلاف بھی نفرت رکھتا ہے، جبکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ مسلمان ملک ہے اور پاکستان نے امریکی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ گیس کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ امریکی حکومت کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔

 اخباری اطلاعات کے مطابق امریکہ سے پاکستانی لوگ زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں اور کبھی کبھی امریکہ پاکستان کو امداد بھی فراہم کرتا ہے، لیکن پھر بھی حالات و واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو طاقتور اور خود مختار ملک تسلیم کرنے کو تیار نہیں، پاکستان کو ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے بھی مغربی ملکوں کی آنکھ میں پاکستان کی سلامتی کھٹکتی ہے، اس کی بھی چند وجوہات ہیں، دُنیاوی حالات کے سامنے اسرائیلی طاقت بھی مسلمان ملکوں کے لئے چیلنج ہے اور مغربی ملک ہر حال میں اسرائیل کو طاقتور ملک بنانے پر تلے ہوئے ہیں، حالانکہ پاکستان نے بہت مدت سے اسرائیل کے خلاف بیان بازی بند کر دی ہے۔ شاید ایران ہی مسلمان ملک ہے، جو کھل کر اسرائیل اور امریکہ کو للکارتا ہے، پاکستان میں الیکشن ہو رہے ہیں، اس لئے امریکہ کو اپنی پاکستان پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ الیکشنوں میں عوام اپنے ووٹ کے ذریعے کسی بھی سیاسی پارٹی کو امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نئے سرے سے بحالی پر مجبور کر سکتے ہیں، حالات کچھ بھی ہوں امریکہ بے شک اس خطے میں ہندوستان کو نمبردار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن امریکہ کے لئے پاکستان کی اہمیت کو بھی مدنظر رکھ کر خارجہ پالیسی بنانا ہو گی۔      ٭

مزید : کالم