”ہینڈل و دکئیرپلیز“

”ہینڈل و دکئیرپلیز“

ہم بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے ہیں اور( غالباً )اس واقعہ کا ذکر جناب جسٹس اے آر کیانی مرحوم نے اپنی خود نوشت میں بھی کیا ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ مغربی پاکستان کے گورنر امیر محمد خان کے دورِحکومت میںپُرانے لاہور کا مقامی عبدالرحمن نامی ایک شخص اپنے ایک ہم نام شخص کے قتلِ عمد کا سرِعام مرتکب ہوا ، اور بعد ازاںموقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ موقع پر موجود لوگوں نے آناً فاناً ایک احتجاجی جلوس کی شکل اختیارکی اور ”زندہ دلانِ لاہور“ کا یہ قافلہ مقتول کی نعش اُٹھائے سیدھے گورنر ہاوس لاہور کی جانب رواں دواں ہوا۔ احتجاج کرنے والوں کا بس ایک ہی مطالبہ تھا کہ ”مقتول عبدالرحمن “ کے مبینہ ”قاتل عبدالرحمن “ کو فی الفور گرفتارکر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ یہ ہجوم تمام راستے ایک ہی نعرہ بار بار دھرا رہا تھا کہ ”قاتل عبدالرحمن کو پھانسی دو، قاتل عبدالرحمن کو پھانسی دو“ ....

ابھی یہ احتجاجی جلوس اپنی منزلِ مقصود تک نہ پہنچ پایا تھا کہ اِس تمام واقعہ کی اطلاع قاتل کی بیوی کو ملی جو اپنی سات بیٹیوں کو ہمراہ لے کر گورنر ہاوس کے لئے روانہ ہوئی ۔چونکہ یہ مذکورہ قتل عمداً اور سرِعام کیا گیا تھا اور وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کی کثیر تعداد کی بنا پر اس بات کا قوی امکان تھا کہ قاتل عبدالرحمن کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا اوریہ بھی عین ممکن تھا کہ اُسے اپنے جُرم کی باداش میں پھانسی کی سزا بھی سنا دی جاتی۔ لہذا،گورنر ہاوس پہنچتے ہی قاتل عبدالرحمن کی بیوی وہاں پہلے سے موجوداِس احتجاجی جلوس سے، جو مسلسل اُس کے شوہر کی پھانسی کا مطالبہ کر رہا تھا، اپنا تعارف کروانے کے بعد انتہائی جذباتی انداز میں ملتجی ہوئی ۔اُس نے احتجاجی ہجوم کوامخاطب کر کے اپنے شوہر کی گرفتاری اورممکنہ پھانسی کے نتیجہ میں اپنی سات بیٹیوں کی کفالت کے سلسلے میں اپنی بے بسی اور لاچاری کی ایسی پُراثر تصویر کشی کی کہ آپ یقین نہیں کریں گے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ وہی جلوس جو کچھ دیر پہلے مقتول عبدالرحمن کی میت کے ہمراہ گورنر ہاوس کے باہر فاتل عبدالرحمن کی فوری گرفتار اور بہر صورت پھانسی دلوانے کے درپے تھا، وہی ہجوم قاتل کی بیوی کی بپتا سننے کے بعد وہاں سے یہ نعرے لگاتا ہوا روانہ ہو گیا کہ ©”عبدالرحمن کا قاتل زندہ باد، عبدالرحمن کا قاتل زندہ باد“

وطنِ عزیز کی سیاست اِن دنوں کچھ ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ محترم پرویز مشرف صاحب جب سے ©”قانون“ کی گرفت میں آئے ہیں، اُن سے روا رکھے جانے والے”خصوصی“ سلوک کی بنا پر اِس بات کا اندیشہ بدرجہ اتم موجود ہے کہ اگر موجودہ سلسلہ اِسی طرح جاری و ساری رہا تو وہ تمام غیر جانبدار لوگ جو اِس وقت تک اِس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ موصوف کو اپنے تمام کردہ گناہوں کی سزا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ملنی چاہیے، اپنی جانبداری کا وزن محترم پرویز مشرف صاحب کے ”حق“ میں جانے والے پلڑے میںڈال سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مقتول عبدالرحمن کے غم میں برابر کے شریک عوام الناس قاتل عبدالرحمن کے حق میں نعرے بلند کرنا شروع کر سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو صورت حال مزید خرابی کی طرف جا سکتی ہے۔

یہ ایک حقیت ہے کہ اِس تمام وقت بین الاقوامی قوتیں پاکستان کے اندرونی معاملات پر گہری نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ لہذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ پرویز مشرف صاحب کے ساتھ تمام عدالتی معاملات میں مکمل اور انتہائی غیر جانبداری برتی جائے، نہ صرف یہ کہ انصاف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ وطن عزیز کی تاریخ اِس بات کی غماض ہے کہ سیا سی شخصیات کے ٹرائل کے معاملہ میں ہماری عدلیہ کا دامن بہت زیادہ صاف شفاف نہیں ہے۔ اِس لئے بدلتے وقت کا تقاضا ہے کہ پُرانے فرسودہ طریقہ ہائے کار سے حتی المقدور اجتناب کیا جانا چاہیے۔ بقول شاعر ” نیا سفر ہے پُرانے چراغ گُل کر دو“

انگریزی زبان کے مشہور عالم محاورے کے مطابق ہر ملزم اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک کہ اس پر جرم ثابت نہ ہو جائے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سابقہ صدر کے عدالتی معاملات کے سلسلے میں ہمیں کسی جلد بازی کا مظاہرہ ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔ایسا تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ پرویز مشرف صاحب کے معاملہ میں کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک برتا جا رہاہے۔ ہماری قابل ِ صد احترام عدلیہ پچھلے کچھ سالوں سے انصاف اور حقیقی انصاف بہم پہنجانے کے سلسلہ میں جو نئی تاریخ رقم کر رہی ہے اس تاریخ کے سب کے سب باب کسی بھی قسم کے تعصب، جانبداری اور دیگر ممکنہ آلائشوں سے مکمل طور پر پاک ہونے چاہییئں ہماری عدلیہ کے تمام معاملات ایسے صاف، شفاف اور باقی اداروں کے لئے قابلِ تقلید ہونے چاہیئںکہ جن پر ہم ہی نہیں ہماری آنے والی نسلیں بھی فخر کر سکیں۔   ٭

مزید : کالم