لیہ کا جلسہ: نواز شریف اور معصوم اولکھ!

لیہ کا جلسہ: نواز شریف اور معصوم اولکھ!
لیہ کا جلسہ: نواز شریف اور معصوم اولکھ!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سرائیکی وسیب کا شہر لیہ میرا آبائی وطن ہے۔ اس کے بارے میں آخری کالم شاید اپریل1997ءمیں ”جہاں پریس سوتی ہے، وہاں مسائل جاگتے ہیں“ کے عنوان سے نوائے وقت میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد عزیز رو¿ف کلاسرا تسلسل کے ساتھ لیہ کے مسائل لکھتے رہے اور اربابِ اختیار تک علاقے کے لوگوں کی مشکلات پہنچاتے رہے، لیکن کیا کبھی لیہ ، بھکر، کوٹ ادو ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان کے لاکھوں ووٹروں نے یہ سوچا کہ 1970ءسے آج تک کسی بھی حکمران نے ان کے علاقوں میں کوئی دلچسپی لی۔ ذرا یاد کریں، مصطفی کھر گورنر بھی بنے، چیف منسٹر بھی اور پھر وفاق میں پانی اور بجلی کے وزیر بھی....(حالانکہ اُن سے پہلے بھی مشتاق گورمانی،عبدالحمید دستی، گورنر اور وزیراعلیٰ رہ چکے تھے) ....پھر فاروق لغاری وزیر پیداوار بھی بنے اور 5 برس تک ملک کے صدر بھی رہے، اُن کے بیٹے وفاقی وزیر مواصلات رہے۔ کیا کسی نے بھی مُڑ کر وسیب کے اس علاقے کی قسمت بدلنے کے لئے سوچا، حالانکہ سنٹرل پنجاب کی طرف آئیں تو یہاں پر ایم پی اے، ایم این اے ہی نہیں، بلکہ میونسپل کمیٹی کے چیئرمین یا ناظم بننے والوں نے بھی انڈسٹریل زون بنوائے اور صنعتیں لگانے والوں کے لئے ٹیکس کی پانچ برس کی چھوٹ حاصل کی، تاکہ کارخانے لگیں، لوگوں کو نوکریاں ملیں، پھر یہ سب کچھ علاقے کی ترقی کے کام آئے۔

کھیت سے منڈیوں تک سڑکیں بنیں، تاکہ روزگار بڑھے اور لوگ ٹرکوں میں نہیں تو کم از کم سائیکل ریڑھیوں پر اور گدھا گاڑیوں پر ہی اپنی سبزیاں، فروٹ منڈی میں لا کر آسانی کے ساتھ فروخت کر سکیں۔ آپ40 برس پہلے کے بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) کو ہی دیکھیں،وہاں اس وقت 4 کروڑ کے قریب سائیکل ریڑھیاں ہیں اور آج اُن کی قسمت ایسی جاگی ہے کہ وہ کارخانوں کو بجلی مفت دے رہے ہیں۔ سمندر سے بجلی پیدا کر کے بھوٹان، برما اور بھارت کو بجلی اور گیس فروخت بھی کر رہے ہیں، نہ تو 16 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کوئی بے روزگار ہے....(ماسوائے ضعیف بوڑھوں کے).... اور نہ ہی اَن پڑھ۔ وہاں کی سو فیصد آبادی اب پڑھائی میں مصروف بھی ہے اور پڑھ بھی چکی ہے۔ گھر میں دس افراد ہوں یا چار، سب کام پر جاتے ہیں۔ دنیا کے 14 اہم ممالک( امریکہ، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، فرانس سمیت) وہاں اپنا کپڑا لے جاتے ہیں اور وہاں پر قائم سلائی کے کارخانوں سے کپڑے سلوا کر واپس اپنے ممالک میں فروخت کرتے ہیں ۔ صرف اس ایک کام میں 5 کروڑ بنگلہ دیشی عورتوں اور مردوں کو روزگار مِلا ہوا ہے۔ حالات اب یہ ہیں کہ ہمارے کراچی، فیصل آباد، گوجرانوالہ کے کارخانے دار خصوصاً کپڑا بنانے والے کارخانے، بنگلہ دیش میں شفٹ ہو رہے ہیں اور اس تیزی سے وہاں جا رہے ہیں کہ آپ کو آنے والے پانچ دس برسوں میں کپڑا چین، کوریا اور بنگلہ دیش سے دو گنا نرخوں پر منگوانا پڑے گا۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی لیہ کی.... آج تو ماشاءاللہ وہاں کا میڈیا جاگ رہا ہے اور مسائل سو نہیں رہے، بلکہ حل ہو رہے ہیں۔ آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی، اب کام ہو رہا ہے۔ میاں نواز شریف1985ءمیں وزیراعلیٰ بنے، پھر 1990ءاور1997ءمیں وزیراعظم بنے۔ پورے ضلع میں اُن کے نام کی کتنے منصوبوں کی تختیاں نصب ہیں؟.... اس کا سروے لیہ پریس کلب کے صدر کرالیں اور فہرست مجھے بھجوا دیں تو مَیں اُن کی تعریف میں ایک کالم ضرور لکھوں گا۔ ویسے نوائے وقت سے لے کر سرکاری نوکری تک، خصوصاً بطور ڈی جی پی آر (سرکاری میڈیا منیجر) مَیں نے بیس برس سے زیادہ ہی اُن کے ساتھ کام بھی کیا ہے اور تعلق بھی برقرار رکھا ہے۔ صرف ریٹائر ہونے کے بعد اب میں گوشہ نشین ہوں۔ ویسے بھی تاجر جب اپنا کام نکال لیں تو پھر وہ ہیرے جواہرات بھی بیچ دیتے ہیں اور پرانے دوست اور گھر بار بھی۔ میاں نواز شریف تو اب سعودی عرب سے واپسی کے بعد ”محل“ سے کم جگہ پر رہنا ہی اپنی توہین خیال کرتے ہیں۔ مجھے تو حیرانی اس وقت ہوئی جب وہ لیہ جیسے پس ماندہ علاقے میں چکر لگانے چلے گئے۔

جن لوگوں کے ووٹ بڑھانے کے لئے وہ وہاں گئے، کاش! اس سے پہلے وہ فرداً فرداً اپنے ان ”نگینوں“ کی داستانیں ہی سُن لیتے۔ مجھے اس امر کا اندازہ تو نہیں ہے کہ احمد علی اولکھ ، جنہیں میاں نواز شریف نے ” معصومکا خطاب دیا ہے، اُن کی اب الیکشن پوزیشن کیسی ہے؟ لیکن جب وہ وزیر زراعت پنجاب بنے تھے تو بدقسمتی سے ایک ذاتی کام کے سلسلے میں مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ یہ خدا کی قدرت تھی کہ ساری سرکاری نوکری، جس میں تقریباً بیس برس کا عرصہ مجھے بطور محکمہ انچارج (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ) چاکری کرنے کا موقع ملا۔ مَیں کبھی اپنے محکمے خصوصاً اطلاعات کے وزیر سمیت کسی وزیر سے بھی کبھی نہیں ملا تھا۔ میرا تعلق صرف چیف منسٹروں سے ہی رہا، البتہ ماتحت ڈائریکٹرز وغیرہ کو وزیروں کے پاس بھیجتا رہا۔ ویسے بھی میرے وزراءہر شام میرے دفتر میں ہوتے تھے، خصوصاً حسین حقانی وغیرہ، کیونکہ ڈی جی پی آر کا دفتر اس وقت رات کے ایک دو بجے تک کھلا رہتا تھا اور پورے ملک سے اخبارات کا رابطہ ہمارے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ رہتا تھا۔ اسی احمد علی اولکھ کو اس کے ہی ایک ماتحت کنٹریکٹ ملازم (ڈاکٹر مبارک علی) نے ایسی ڈانٹ پلائی اور ایسا کھرا جواب دیا کہ یہ صاحب وزیر نہ سہی، وکیل کی حیثیت سے بھی اس کا غلط جواب سُن کر کچھ نہ بولے، بلکہ خوف زدہ ہوگئے۔ میرے لئے اب اُن کی مزید ”سبکی“ دیکھی نہیں جا سکتی تھی، اس لئے مَیں چائے پئے بغیر ہی اپنے اوپر لعنتیں بھیجتا ہوا وہاں سے اُٹھ کر آگیا کہ اس ”بگو گوشے“ کے پاس نہ جاتا تو بہتر تھا۔

گیامَیں صرف اس لئے تھا کہ یہ مجھے میاں نواز شریف کا ہر جگہ استقبال کرتے ہوئے اچھے لگتے تھے اور اُن دنوں خصوصاً 1988ء۔ 1990ءکی الیکشن مہموں میں نواز شریف اپنے تمام جلسوں میں مجھے ساتھ رکھتے تھے۔ اب صاحب زادہ فیض الحسن انہیں اپنے علاقے سے کامیاب کراتے ہیں یا نہیں....کچھ کہا نہیں جا سکتا ....لیکن اگر یہ ” معصوم “ امیدوار وہاں سے ایک سو ووٹ کی بھی جیت حاصل کر لے تو پھر ان پر لازم ہوگا کہ یہ میاں نواز شریف کی مالش بھی کریں۔(انہیں یاد کراتا چلوں کہ میاں نواز شریف باقاعدہ ورزش کے عادی ہیں اور اکھاڑہ بھی محل میں بنایا ہوا ہے، جہاں وہ کشتی کی پریکٹس کرتے ہیں، لہٰذا انہیں مالش کی ضرورت رہتی ہے).... اور میاں نواز شریف کے پاو¿ں بھی دھوئیں، کیونکہ آج کل وہ اپنے ”بونوں“ کا قد اونچا کرنے کے لئے ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پرواز کر کے تھک جاتے ہیں).... نواز شریف کے کون سے نئے خیر خواہ اب لیہ میں پیدا ہوگئے ہیں، مجھے ٹھیک سے معلوم نہیں، لیکن اس غلام حیدر تھند کا کیا بنا جو میرے سامنے ہر آئے روز بیس بیس برس عمر بڑے امیدواروں کی تقرری کے لئے چودھری پرویز الٰہی کی گاڑی میں بیٹھنے تک منتیں کرتے دکھائی دیتے تھے اور جنہیں پرویز الٰہی ہاتھ باندھ کر یہ کہتے سنائی دیتے تھے کہ تھند صاحب، خدا کا خوف کرو۔ اب کتنے اور پرچے لوگوں کے خلاف کرانے ہیں؟ کتنی زمینوں پر قبضہ کرنا ہے؟ اللہ سے دعا کرو کہ تمہیں دو گز زمین ہی آرام سے عطا کردے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہیں پٹرول ڈال کر جلا ڈالے یا تم ڈوب کر ہی غرق نہ ہو جاو¿، وہ بھی سندھ کی طغیانی میں۔

اب یہ حضرت کہاں ہیں اور کس طرح لیہ والوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بن رہے ہیں؟ یہ تو اہل لیہ ہی بتا سکتے ہیں۔ میرے علاقے کے لوگوں کی ایک صفت پوری دنیا میں مشہور ہے کہ یہ اپنے ساتھ کئے گئے ”بھیڑے“.... یعنی بُرے سلوک کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ بدلہ تو نہیں لیتے، لیکن آنکھیں ہی نہیں، بلکہ اپنے دل پھیر لیتے ہیں اور صبر کی بات کریں تو یہ لوگ ” صبر و قناعت“کے مجسمے دکھائی دیتے ہیں۔ مَیں تو ہمیشہ کہتا ہوں کہ اگر کوئی لیہ کے لوگوں کی کسی اچھی بات کے بارے میں پوچھے تو یہ ہے، ان کی گھٹی میں صبر و قناعت کی عادت بہت زیادہ ہے۔ آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ گزشتہ کئی برس سے پورا ملک لوڈشیڈنگ کی زد میں ہے۔ واپڈا کے درجنوںدفاتر جلائے جا چکے ہیں اور احتجاج کی سینکڑوں رپورٹیں چینلوں پر بھی دکھائی جا چکی ہیں، لیکن تھل کے یہ باسی، سبی اور جیکب آباد جیسی سخت گرمی کے باوجود بھی کبھی اُف تک کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ کیا ان کے معصوم بچے گرمی کی شدت سے نہیں بِلک اُٹھتے۔ کیا ان کی راتوں کی نیندیں حرام نہیں ہوتیں؟ لیکن احتجاج کرنے کی بجائے عموماً صبر و قناعت پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔

 ملک نیاز احمد جھکڑ بھی میدان میں ہیں اور شاید مسلم لیگ قائداعظم کی حمایت بھی اُنہیں حاصل ہے۔ ویسے بھی دریائے سندھ کے متعدد پل، بند اور سڑکیں بنوانے میں انہوں نے جو کردارادا کیا ہے، اس کی روشنی میں شاید اس مرتبہ پی پی پی سارے پنجاب میں اپنے منہ پر کالک ملنے کے باوجود لیہ کے عوام کے ہاتھوں سرخرو ہو جائے، کیونکہ لیہ کے عوام بدلہ لینے کے عادی نہیں، لیکن وہ محسنوں کو کبھی نہیں بُھولتے۔ ہو سکتا ہے کہ جلد ہی بلاول بھٹو بھی لیہ کے عوام سے ٹیلیفونک خطاب کریں۔ ہو سکے تو پریس کلب لیہ کے صدر کو کسی لگی لپٹی کے بغیر ایسی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ تمام اہم پارٹیوں کے لیڈروں کو لیہ آنے اور خطاب کرنے کی دعوت دیں۔ میاں نواز شریف تو اب یہاں آ بھی چکے اور لیہ کے عوام اُنہیں شکریہ ادا کر کے فارغ بھی کر چکے، جو تھوڑا بہت باقی ہے وہ 11 مئی کو کر دیں گے، کیونکہ اجلانہ ٹائپ لوگوں نے تو اب ”کَھلے“ ( جُوتے) کھانا بھی شروع کر دئیے ہیں....(کوٹ سلطان سے خبر آئی ہے کہ اجلانہ نے جو کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے، جلسے میں مار کھائی۔ اُن پر جُوتے بھی پھینکے گئے اور اُن کا جلسہ کرنے والے سپورٹر کو بھی ”کَھلے“ (جوتے) دکھائے گئے)

یہ وہی حضرت ہیں، جنہوں نے پرویز الٰہی کے ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے منصوبے کو رکوا کر وہاں اسے زکریا یونیورسٹی ملتان کے کیمپس میں تبدیل کرایا، لیکن نہ تو پرویز الٰہی کے منصوبے کو کامیاب ہونے دیا اور نہ ہی یونیورسٹی کا کام شروع ہوا۔ ایسے لوگوں کو تو شاید اب صرف درجنوں کے حساب سے اُنہیں اپنے ہی گھر والے ووٹ دیں، ورنہ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ” معصومکا لقب بانے والے احمد علی اولکھ کو بھی مشورہ ہے کہ وہ فوراً صاحب زادہ فیض الحسن کے پاو¿ں پکڑ لیں اور اُنہیں یقین دلوا دیں کہ وہ ہر گز معصوم نہیں، کیونکہ آنے والے دور میں اب معصوموں کی کوئی گنجائش نہیں۔ میاں صاحب در پردہ اُنہیں ایسی بات کہہ گئے ہیں، جس کا شاید ہی وہ مطلب سمجھ سکیں۔ وہ دراصل اولکھ کے مخالفین سے کہہ گئے ہیں کہ وہ ایک ہینڈ بل تقسیم کریں، خاص کر اولکھ کے حلقے میں جس پر تحریر ہو ” معصوم اولکھ “ تینوں رب دیاں رکھاں“.... ووٹ شوٹ تو ووٹروں اور رب کی مرضی سے ہی ملتا ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ لیہ کالج کے طلباءو طالبات بھیڑ بکریوں یا کسی معصوم جانور پر ہی” معصوم اولکھ “ کے کتبے لگا کر اُن کا ہی جلوس علاقے میں نہ نکال دیں۔ ویسے بھی بھیڑ بکریوں، اونٹوں، گدھوں کے لئے یہ علاقہ بڑا زرخیز ہے اور یہاں پر ماشاءاللہ گائیں بھی کثرت سے ہیں۔ اُنہیں تو آپ صرف چارہ دکھائیں اور کسی بھی جلوس میں اُنہیں لے جائیں، بھلا وہ کیوں انکار کریں گے۔ مجھے صاحب زادہ فیض الحسن کا بڑا احترام ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ میاں نواز شریف سے مجھے لاہور یا لیہ میں پلاٹ دینے کی بھی سفارش کی تھی، لیکن مَیں نے منع کر دیا تھا، بلکہ جب میاں صاحب نے مجھ سے پوچھا تو مَیں نے کہا کہ مَیں تو صحافیوں میں پلاٹ تقسیم کرنے کی ڈیوٹی پر ہوں۔ خود لے لیا تو اس سے بڑی بدنامی اور کیا ہوگی؟ چنانچہ نہیں لیا اور یہی صورت حال اس وقت بھی رہی، جب چودھری پرویز الٰہی5 برس تک برسر اقتدار رہے۔ ایسا صرف اس لئے کیا کہ مجھے اہل لیہ کی عزت اپنے دھن دولت کمانے سے زیادہ عزیز ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہی میرے لئے دو گز زمین کا انتظام کردیں، لہٰذا ایسا کرتے وقت مَیں نہیں چاہتا تھا کہ میرے کسی بھی لیہ والے دوست کو ندامت کا سامنا کرنا پڑے اور وہ میری کسی بھی کوتاہی یا بددیانتی پر اُنگلی اُٹھا پائیں۔

اگر آپ لیہ کے ووٹروں کا نتیجہ سامنے رکھیں اور آج بھی بڑی بڑی سروے کرانے والی ایجنسیاں وہاں سروے کرالیں تو جو تھوڑا بہت نقشہ اس خادم نے کھینچا ہے، تقریباً وہی آپ کو بھی دکھائی دے گا۔ صاحب زادہ فیض الحسن چاہیں تو چودھری الطاف کو ساتھ لے کر اپنی سیٹ بچا سکتے ہیں۔ نیاز احمد جھکڑ اور میرانی کو کم از کم پارٹی نہیں تو اپنی شہرت کو ضرور بچانا ہوگا۔ رہی معصوموں کی بات تو میاں صاحب یہاں آکر اُن سب کو فارغ کر گئے ہیں۔ خواہ مخواہ بجلی کی بات کر گئے ہیں، اُنہیں شاید یاد ہی نہیں رہا کہ بجلی کے جو منصوبے 1988ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے پورے ملک کے لئے بنائے تھے، اُنہیں نواز شریف نے ہی منسوخ کیا تھا۔ اُن کی یہی انتقام کی سیاست ہی تو تھی، جس میں انہوں نے آصف علی زرداری کو قید کیا تھا۔ آج ووٹر باشعور ہے۔ وہ درست فیصلے کرے گا۔   ٭

مزید : کالم