محمد نواز شریف سے میری ملاقات کا اہم پہلو

محمد نواز شریف سے میری ملاقات کا اہم پہلو

پہلی بار نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد جو مَیں نے موصوف کے ساتھ اسلام سے لاہور کا سفر بذریعہ ہوائی جہاز کیا تھا، اس سے اگلے روز ہی نواز شریف کے سیکرٹریٹ کی طرف سے میرے پاس آدمی آیا۔ اُس نے کہا کہ مشکور صاحب آپ کے کوائف درکار ہیں۔ مَیں نے کہا ”خیریت تو ہے“؟ اُس نے کہا خیریت ہی ہے، آپ اپنے کوائف عنایت فرمایئے۔ مَیں نے کوائف دیئے تو کچھ دیر بعد نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری مرحوم انور نے فون پر مجھے بتایا کہ وہ مجھے وزیراعظم کے سیکرٹریٹ میں سیکرٹری کے طور پر لے رہے ہیں اور نوٹیفکیشن جاری ہونے والا ہے۔ مَیں نے انور مرحوم سے کہا:” ارے بھائی یہ کیا غضب کر رہے ہو۔ مَیں پڑھائی کے بعد کسی بھی ملازمت کرنے کے قابل نہیں رہا“۔

انور مرحوم نے کہا:”مجھے تو وزیراعظم کا جو حکم ہوا ہے، اُس کی تعمیل کر رہا ہوں“ ....”مگر انور صاحب!مَیں کل ہی لندن جا رہا ہوں“ .... مَیں لندن پہنچا، تو وہاں بھی انور صاحب کا فون پہنچ گیا۔ میرے دوست رائے منصب علی خان بھی اُس زمانے میں لندن تھے۔کہنے لگے:”مشکور صاحب آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ وزیراعظم صاحب آپ کو کوئی عمدہ ملازمت دینا چاہئے ہیں اور آپ انکار کر رہے ہیں“۔ مَیں نے اپنے دوست رائے منصب علی خان کو بھی یہی جواب دیا کہ پڑھانے کی نوکری کے بعد ایک حساس آدمی کسی بھی قسم کی دوسری ملازمت کرنے کے قابل نہیں رہتا، یوں مَیں نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد لندن سے واپسی پر اسلام آباد میں میری ملاقات نواز شریف سے ہوئی، تو مجھے محسوس ہوا کہ نواز شریف میرے انکار سے خوش نہیں، مگر مَیں یہ بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ نواز شریف مجھے خوب سمجھتا ہے۔ مجھ سے ناراض نہیں ہو گا۔

 اس زمانے میں نواز شریف کے دوست اسحاق ڈار بھی انگلستان میں تھے۔ غالباً یہ حضرت بھی گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے طالب علم رہ چکے تھے۔ ان سے فون پر بات ہوئی ” نواز شریف مجھے کیا بنانا چا ہتے ہیں“۔ ”سر! کچھ اچھا ہی بنانا چاہتے ہیں“ اور اس کے اگلے روز ہی میاں نواز شریف کے سیکرٹری سعید مہدی کا پاکستان سے فون آیا کہ سر آپ کو فلم سنسر بورڈ کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے، بس آپ جلدی سے پاکستان آ جایئے! مَیں نے ٹالنے کے لئے سعید مہدی صاحب سے کہا: ”عزیز محترم مَیں پڑھنے لکھنے والا آدمی ہوں۔ اس طرح کی ملازمت مجھ سے کہاں اور کیسے ہو سکتی ہے“؟

دوسرے ہی روز سعید مہدی مجھے بتا رہے تھے کہ آپ کو تہران ایران میں اقبال چیئر پر لگا دیا گیا ہے، لیکن مَیں حسب ِ معمول جانا نہیں چاہتا تھا، لہٰذا ٹال مٹول کرتا رہا۔ آخر صفدر محمود جو ان دنوںوفاقی ایجوکیشن سیکرٹری تھے، اسلام آباد سے لاہور میرے پاس ویزہ وغیرہ تمام کاغذات لے کر پہنچ گئے کہ خدا کے لئے مشکور بھائی آپ تہران چلے جائیں، مَیںوزیراعظم کے سامنے جانے سے گھبراتا ہوں، وہ یہی پوچھیں گے کہ مشکور صاحب چلے گئے“۔ یوں مجھے قہرِ درویش برجان درویش تہران آنا پڑا، لیکن مَیں دو ماہ بعد ہی استعفا دے کر لاہور پاکستان آ گیا۔ اس کے بعد صفدر محمود نے اپنی عادت کے مطابق اُلٹا مجھ پر الزام لگایا کہ واپس آنا تھا تو آپ ایران کیوں گئے تھے۔

 صفدر محمود پروفیسر مرزا محمد منور کے شاہکار ہیں۔ صفدر محمود کو دیکھتے ہوئے جی چاہتا ہے مرزا محمد منور پر صفدر محمود کے استاد کی حیثیت سے کچھ لکھا جائے.... پھر خیال آتا ہے صفدر محمودکا تو کچھ نہیں بگڑتا، پروفیسر محمد منور کی اُستادی کا کیا ہو گا“؟....ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ جب میاں محمد نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے، تو ان کے ساتھ مَیں کس طرح ایک چھوٹے سے جہاز میں بیٹھ کر اسلام آباد سے لاہور آیا اور کس طرح میاں محمد نواز شریف مجھے اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اور کیوں ایسا نہ ہو سکا۔ بات دراصل یہ ہے کہ عزیزم میاں محمد نواز شریف دو بار وزیراعظم بنے، مگر اُن سے میری ملاقات یا اُن کی ملاقات مجھ سے ایک بار بھی اس طرح کھل کر نہ ہو سکی کہ ہم ایک دوسرے کا حال احوال اچھی طرح جان سکتے۔

بہرحال مَیں اب بھی حاضر ہوں۔ وہ مجھ سے کھل کر ملاقات کریں، مَیں انہیں بہت کام کی باتیں بتاﺅں گا، جو یقینا کوئی دوسرا نہیں بتا سکتا یا اس طرح کھل کر نہیں بتا سکتا، جس طرح مَیں بتا سکتاہوں، کیونکہ نواز شریف کو مَیں ہمیشہ سے ایک نہایت باادب قسم کا برخوردار سمجھتا ہوں اور وہ بھی مجھے اپنا مخلص بزرگ سمجھتے ہیں اور فی زمانہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس بات کو نواز شریف بھی خوب سمجھتے ہیں اور مجھے نہایت عزت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں، مگر یار لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ میری اور عزیزم میاں محمد نواز شریف کی ملاقات نہ ہو سکے، کیونکہ ملاقات ہوتی ہے، تو کئی ابن الوقت قسم کے لوگوں کو خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ کہیں اُن کی اصلیت نواز شریف کو معلوم نہ ہو جائے۔  ٭

مزید : کالم