فطرت کی تعزیریں

فطرت کی تعزیریں
فطرت کی تعزیریں

  

 جنرل پرویز مشرف، آخر مکافاتِ عمل کے گھیرے میں آہی گیا ہے۔ اسے توپوں کی سلامی کے ساتھ رخصت کرنے والے اور اسے بیس مرتبہ وردی میں منتخب کرانے کا ذلت ناک اعلان کرنے والے بھی یا تو منقار زیر پر، خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں یا اپنے اس ”محسن“ کو لعن طعن کر رہے ہیں۔ یہ لعن طعن ان لوگوں کی زبان سے تو سمجھ میں آتی ہے،جنہوں نے اس جرنیل کا مقابلہ کیا، اس کے مظالم برداشت کئے، مگر کوئی سمجھوتا نہ کیا۔ رہے اس کے دورِ اقتدار کے درباری و حواری یا این آر او کے ذریعے راہِ فرار اختیار کرنے والے مادھو، تو ان کو ہر گز یہ زیب نہیںد یتا کہ آج وہ طعن و تشیع کریں۔

پرویز مشرف نے اپنے دورِ سیاہ میں بے شمار جرائم کئے۔ انہی میں سے ایک حدود آرڈیننس میں ردّوبدل (15 نومبر 2006ئ) تھا ،جس کے ذریعے اسلام کے سنہری اصولوں کی جگہ نام نہاد ”روشن خیالی“ اور مغرب پرستی کو قانونی حیثیت دینے کا جرم کیا گیا۔ اس کے خلاف متحدہ مجلس عمل نے عوامی احتجاج اور مظاہروں کا فیصلہ کیا۔ جماعت اسلامی کے قائدین و کارکنان اس تحریک میں پیش پیش تھے۔ دیگر دینی جماعتوں کے لوگ بھی تحریک کا حصہ تھے ،مگر گرفتاریاں اور مقدمات بحیثیت مجموعی جماعت ہی کے حصے میں آئے۔ یہ ایک آزمائش بھی تھی اور اعزاز بھی۔ لاہور سے ایک کارواں 30 نومبر 2006ءکو محترم قاضی حسین احمد (مرحوم) کی قیادت میں چلنا تھا ،جسے گجرات کے فوارہ چوک میں جلسہ کرنا تھا۔ چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے، انہوں نے یہ جلسہ اپنی توہین سمجھا اور انتظامیہ کو ڈبل پرویزی حکم ملا کہ کسی صورت بھی پروگرام نہ ہونے دیا جائے۔

لاہور سے کارواں پروگرام کے مطابق چل تو پڑا ،مگر اسے راہوالی سے آگے نہ بڑھنے دیا گیا۔ اتفاق سے مَیں اس روز اپنی ایک قریبی عزیزہ کی وفات کی وجہ سے گجرات میں اپنے گاﺅں میں تھا۔ مجھے موبائل فون پر مرکز ، صوبے اور ضلع کے قائدین جماعت نے کہا کہ ہر حال میں گجرات پہنچوں اور فوارہ چوک میں حسب پروگرام جلسے کا اہتمام کیا جائے۔ اس وقت کے امیر ضلع ڈاکٹر طارق سلیم اور سابق امیر ضلع سید احسان اللہ شاہ گجرات میں تھے ، انہوں نے ایک بہت زبردست حکمت عملی طے کر رکھی تھی۔ مَیں اپنے گھر سے نکلا تو قدم قدم پر پولیس ناکے، گجرات کا راستہ اور ہر سڑک مسدود۔ بہرحال میں دیہاتوں کے اندر سے، کچے پکے راستوں سے گزرتے ہوئے اللہ کی خصوصی رحمت سے کئی ناکے عبور کرکے گجرات آپہنچا۔ مَیں نے یہ پورا سفر بھیس بدل کر کیا۔ شہر میں اپنی گاڑی چھوڑ کر گلیوں سے ہوتا ہوا، اپنے تین مقامی ساتھیوں کے ساتھ اس مقام پر جاپہنچا جہاں ضلعی قیادت اور کارکنان انتظار کر رہے تھے۔ الحمد للہ ہم نے گلیوں سے گزرتے ہوئے فوارہ چوک میں پہنچ کر احتجاجی جلسہ کیا اور وہیں گرفتاری بھی پیش کی ۔ ہم پر دہشت گردی کی دفعات لگیں اور میری نظر بندی کے احکام بھی جاری ہوگئے۔

میری نظر بندی کے خلاف میرے وکیل اسد منظور بٹ نے ہائی کورٹ میں رٹ کی تو 12 دسمبر کو مجھے بہاول پور جیل سے لاہور لا کر رہا کر دیا گیا۔ اسی دور میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر مَیں نے اپنی کتاب ”اسیرانِ روشن خیالی “ لکھی۔ پرویز مشرف کی گرفتاری پر مجھے ایک دوست نے اس عبارت کی طرف متوجہ کیا جو اس کتاب کے صفحات میں موجود ہے۔ مَیں نے کتاب کھول کر اپنی ہی چھ سالہ پرانی تحریر دیکھی تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھ عاصی کے عاجزانہ الفاظ کو سچ کر دکھایا۔ یہ اس کا فیصلہ ہے، اس میں اس بندہ¿ ناتواں، مبتلائے عصیاں کا کوئی ذرّہ برابر بھی کمال نہیں۔ میں اسی عزیز دوست کی فرمائش پر اس عبارت کو اپنے قدر دانوں کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ گوجرانوالہ میں دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا کے نمائندگان کے سامنے اظہارِ خیال کا خلاصہ ہے۔

”گوجرانوالہ میں دہشت گردی عدالت میں پہنچنے سے قبل ہی اظہر اقبال حسن نائب امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب نے بلال قدرت بٹ، امیر ضلع گوجرانوالہ کو ہماری آمد کی اطلاع کردی تھی۔مقامی وکلا کے ساتھ ساتھ گجرات سے وکلا ءکی بڑی تعداد بھی پہلے سے عدالت میںموجود تھی۔عدالت میں پیشی سے قبل کارکنوں نے بڑے پرُجوش انداز میں نعرے لگائے۔عدالت میں موجود جماعتی کارکنان اور عام لوگ بھی نعروں کا جواب دے رہے تھے....”فروغ بدکاری بل نامنظور۔“ ”امریکہ کا جو ےار ہے غدار ہے غدار ہے“اور ”جھوٹے پر لعنت بار بار“ کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ےہ عدالت جج انسداد دہشت گردی،جناب مجاہد فہیم کی تھی۔انہوں نے ایف آئی آر دیکھ کر ہی سمجھ لیا کہ اس میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے۔پولیس افسران اور سرکاری وکیل کے پاس ان کے کسی سوال کا کوئی معقول جواب نہیںتھا۔جج صاحب نے ریمانڈ دیتے ہوئے ضمانت کے لئے 4دسمبراورپیشی کے لئے 8اور9دسمبر کی تاریخیں مقرر کیں۔عدالت سے نکلتے ہی جیو ٹی وی،اے آروائی،انڈس ٹی وی اور آج ٹی وی کے نمائندوں نے میرا انٹرویو کیا۔مقامی پریس کے نمائندے بھی موجود تھے۔

اس موقع پر مَیں نے کہا:”ہم نے تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ہم ملک کی سالمیت اور حدود اللہ کی حفاظت کریں گے۔فحاشی وعرےانی کے کلچر کے سامنے ہتھےار ڈالنے کے بجائے بند باندھ دیںگے۔آج ہمیں ہتھکڑےاں لگا کر دہشت گردی کی دفعات کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا ہے، حالانکہ ایک کنکر بھی نہیں پھینکا گیا نہ کوئی توڑ پھوڑ ہوئی ہے اور نہ ہی کسی گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہے۔پرامن اور جمہوری انداز سے ہم نے احتجاج کیا ہے۔ ےہ ہمارا جمہوری حق ہے“۔

ایک سوال کے جواب میں ،مَیںنے کہا:”وزیراعلیٰ پنجاب جھوٹ بولتے ہیں کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ےہ ہتھکڑےوں کے زےور پہنے ہوئے چالیس پاکستانی شہری گرفتار نہیں تو کیا آزاد ہیں؟دوسری جانب حکومتی گماشتے ےہ بھی کہتے پھرتے ہیں کہ فوارہ چوک میں کارواں پہنچ ہی نہیںسکا،نہ کوئی جلسہ ہوا ہے۔ان کے سارے جھوٹ کی حقیقت خلقِ خدا اچھی طرح جانتی ہے اور خالق نے تو جھوٹوں پرلعنت اپنی آےات محکمات میں بہت پہلے فرما دی ہے۔ےہ دہشت گردی کی دفعات جومحافظین حدود اللہ کی پُر امن جدوجہد پر لگائی گئی ہیں :اس کے مستحق تو امریکہ کے پٹھو، نام نہاد مسلمان، پاکستانی حکمران ہیں جو امریکی دہشت گردی میں برابر کے شریک ہیں۔ہماری جدوجہد کو جبر وتشدد سے روکنا کسی کے بس میں نہیں۔ پرامن شہریوں کو جب بھی حکمرانوں نے ہتھکڑےاں پہنائی ہیں،ان کے اقتدار کا سورج ہمیشہ غروب ہوا ہے۔ اب بھی ان شاءاللہ ان کا ےوم حساب قریب آگیا ہے۔‘اسیرانِ روشن خیالی صفحہ36-35 مطبوعہ ادارہ معارف اسلامی، لاہور)

آج پرویز مشرف کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ لمحات یاد آتے ہیں، جب وہ ہاتھ لہرا لہرا کر کہتا تھا: ”میں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں“.... اپنے گھر میں نظر بند ہے، خدمت کے لئے دو خدمت گار بھی فراہم کئے گئے ہیں، اس کے باوجود ایک رنگ آتا ہے، ایک جاتا ہے۔ مقتولین بلوچستان، شہدائے لال مسجد و جامعہ حفصہ، شہدائے قبائلی علاقہ جات اور افغانستان میں جامِ شہادت نوش کرنے والے تمام مسلمانوں کا خون مطالبہ کر رہا ہے کہ اس قاتل کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ ملک کا دستور بار بار پامال کیا گیا اور امریکی غلامی پر فخر کا ااظہار ہوتا رہا۔ آج مظلومین کی داد رسی کا پوری قوم کو انتظار ہے۔ مظلومین میں دستور پاکستان بھی شامل ہے۔    ٭

مزید : کالم