وی آئی پی حضرات کی سیکیورٹی کا مسئلہ

وی آئی پی حضرات کی سیکیورٹی کا مسئلہ

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ کے نگران وزیراعلیٰ نے اپنی نصف سیکیورٹی اور وفاقی وزیر اطلاعات عارف نظامی نے اپنی تمام سیکیورٹی فورس واپس کردی ہے تاکہ ان اہل کاروں سے دوسری اہم ڈیوٹیاں لی جا سکیں۔

وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ جذبہ قابل تعریف ہے دیکھا گیا ہے کہ وی آئی پی سیکیورٹی ڈیوٹی پر اتنے زیادہ اہل کار متعین کر دیئے جاتے ہیں کہ امن و امان قائم رکھنے کے لئے ضروری فورس نہیں بچتی، یہ حضرات وی آئی پی ڈیوٹی پر مصروف رہتے ہیں تو جرائم پیشہ لوگ اس خلا سے فائدہ اٹھا کر امن دشمن کارروائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور یوں عام لوگ عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں، بڑے شہروں میں جرائم کی عام وارداتیں بھی بہت ہوتی ہیں، لیکن کراچی ،کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں تو دہشت گردی کی وارداتیں عام ہیں۔ روزانہ کسی نہ کسی جگہ دھماکے بھی ہو جاتے ہیں، جس میں شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عام شہریوں میں سیکیورٹی کا احساس پختہ کرنے کے لئے فورس بڑھائی جائے۔ وی آئی پی ڈیوٹیوں پر جو سیکیورٹی فورس متعین رہتی ہے اسے بھی کم کیا جاسکتا ہے جیسا کہ وزیراعلیٰ نے از خود اپنی سیکیورٹی فورس کم کردی ہے اور وزیر اطلاعات نے تو اس کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی ، اس فضا میں بعض سابق وفاقی وزیروں نے پچھلے دنوں یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان کی جانوں کو خطرہ ہے اس لئے ان کی سیکیورٹی بڑھائی جائے، عجیب بات ہے کہ اگر سابق وزیروں مشیروں کو بھی سیکیورٹی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ موجودہ وزیروں کو ہے تو یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا، ماشا اللہ سابق حکومتوں میں کل ملا کر وزیروں مشیروں کی تعداد سینکڑوں میں تھی، اگر یہ سب لوگ سیکیورٹی کے محتاج ہیں تو پھر اتنی سیکیورٹی فورس کہاں سے آئے گی ؟جو بیک وقت عوام، حکمرانوں اور سابق حکمرانوں کے سیکیورٹی کے امور دیکھے، دنیا بھر میں حکمران کم سے کم سیکیورٹی رکھتے ہیں، اور سابق حکمران تو اس کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں کرتے لیکن ہمارے ہاں لگتا ہے کہ سیکیورٹی کا معاملہ ضرورت سے زیادہ ”سٹیٹس سمبل“بن کررہ گیاہے،حکمران لوگ ہٹو بچو کی فضا میں گردن اکڑا کر چلنے کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ جب ان کے پاس سیکیورٹی نہیں ہوتی تو وہ خود کو نفسیاتی طورپرغیر محفوظ تصور کرنے لگتے ہیں،ان حالات میں ہوتا یہ ہے کہ عوام کو تو جرائم پیشہ لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور وی آئی پی حضرات سیکیورٹی کے حصار میں چلتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ چندحضرات کی سیکیورٹی کی بجائے سیکیورٹی کا ماحول بہتر بنایا جائے تاکہ کیا وی آئی پی اور کیا عام لوگ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کریں۔ امید ہے وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیراطلاعات کے اس جذبے کو سراہا جائیگا اور اس سے مثبت سبق سیکھا جائے گا۔     ٭

مزید : اداریہ