الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرے

الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرے

الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے بنائے جانے والے پولنگ سٹیشنوں سے متعلق معلومات ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہیں۔پنجاب کی طرف سے بھیجی گئی معلومات بھی ابھی تک نامکمل ہیں۔ ان میں بھی پولنگ سٹیشنوں کے محل وقوع کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔ قانون کے مطابق یہ ضروری ہے کہ ضلعی ریٹرننگ افسر اپنے علاقے کے پولنگ سٹیشنوں کی فہرست پولنگ سے کم از کم پندرہ روز قبل گزٹ میں شائع کریں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ابھی تک صرف پنجاب سے اِس سلسلے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں جو کہ کمیشن کی ویب سائٹ پر دے دی گئی ہیں۔ اِس فہرست میں حلقہ وار پولنگ سٹیشنوں، بوتھس اور سٹاف کی تعداد بتائی گئی ہے لیکن پولنگ سٹیشنوں کا پتہ نہیں بتایاگیا۔ الیکشن کمیشن نے یہ انتظام کیا ہے کہ ووٹرزاپنے موبائل فون سے ”8300“ پر ایک ایس ایم ایس کر کے اپنا شناختی کار ڈ نمبر بھیجیں تو انہیں اپنا ووٹ نمبر اور پولنگ سٹیشن کا ایڈریس بتا دیا جاتا ہے، لیکن ضلعی ریٹرننگ افسروں کی طرف سے ابھی تک یہ معلومات نہ بھیجے جانے کی وجہ سے الیکشن کمیشن ووٹروں کو اس ایڈریس سے یہ معلومات فراہم کرنے سے معذو رہے۔

  الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کے غلط مقامات پر پولنگ سٹیشن بنائے جانے کی شکایات بھی موصول ہورہی ہیں۔ یہ شکایات صوبائی الیکشن کمشنروں کو بھجوا دی گئی ہیںاور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسروںسے پولنگ سٹیشنوں کی فہرستیں جلد تیارکرائی جائیں۔اِس سے قبل سپریم کورٹ یہ احکام جاری کر چکی ہے کہ پولنگ سٹیشن اس طرح بنائے جائیں کہ کسی ووٹر کو اپناووٹ دینے کے لئے دو کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ نہ طے کرنا پڑے۔ الیکشن کمیشن کے ایک اعلامیہ کے مطابق 11 مئی2013ءکو ووٹ ڈالنے کا وقت صبح 8 بجے سے شام5 بجے تک ہو گا اور اس دوران کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن کو بلوچستان میں بھی اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے چیلنج کا سامنا ہے۔ 11 اضلاع کے سکول ٹیچروںنے عسکریت پسندوں کی دھمکیوں اور کارروائیوں کے پیش نظر الیکشن ڈیوٹی سے انکار کردیا ہے۔ صوبائی حکومت ان اضلاع کو حساس علاقے قرار دے چکی ہے۔ان میںچاغی، نوشکی ، مستونگ، قلات،خضدار، اوارانگ،خاران،واشوک، پنجگور،کچ اور گوادر کے اضلاع شامل ہیں۔ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ان اضلاع میں خواتین ٹیچرز سمیت کل 18461 سرکاری ٹیچر کام کررہے ہیں،جو دہشت گردوں کی طرف سے سنگین دھمکیوں کے بعدانتخابات میں ڈیوٹی دینے پر تیار نہیں۔اِس سلسلے میںایسوسی ایشن نے الیکشن کمیشن آف پاکستان، وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ٹیچرز دوسرے 19 اضلاع میں ڈیوٹی دینے کے لئے تیار ہیں،جن صوبوں میں وہ کام کرنے کے لئے تیار ہیں وہاں حکومت کوان کی زندگی کے تحفظ کا پورا انتظام کرنا چاہئے۔ بلوچستان کے صوبے میں کل 50ہزار کے قریب ٹیچرز سرکاری سکولوں میں ملازم ہیں۔ سیکرٹری تعلیم نے بتایا ہے کہ وہ الیکشن ڈیوٹی سے متعلق ٹیچرز کی مختلف ایسوسی ایشنز سے مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے الیکشن ڈیوٹی کے لئے متبادل انتظام بھی کر رکھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پولنگ سٹیشنوں پر سٹاف کی سیکیورٹی کے انتظامات کر رکھے ہیں۔ ایف سی کے علاوہ ریزرو پولیس کی ڈیوٹی بھی لگائی جائے گی۔

ان حالات میں جہاں ملک امن و امان کے مسائل سے دو چار ہے۔ سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امیدواروں کے جلسوں اور انتخابی دفاتر پر مسلسل دہشت گرد حملوں میں جانی نقصان ہو رہا ہے۔یہ امر افسوسناک ہے کہ الیکشن کمیشن بھی اپنے فرائض بطریق احسن ادا نہیں کر پا رہا۔ امیدواروں میں سے نااہل لوگ فیصلے نہ ہونے کی بناءپر انتخابات میںحصہ لے رہے ہیں ۔ اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کا جو اجلاس منگل کو ہو رہا ہے اس میں بھی ریٹرننگ افسروں اور اپنے دوسرے ملازمین کے کرنے والے کام کو نظراندازکرکے الیکشن کمیشن اپنے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی میں بعض سیاستدانوں کی طرف سے اپنے مخالفین کے خلاف کہی ہوئی باتوں کے سلسلے میں ملنے والی شکایات کا جائزہ لے گا اور ان رہنماﺅں کی تقریروں کی ویڈیو دیکھے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ الیکشن کمیشن اپنے اس اجلاس میں پولنگ سٹیشنوں سے متعلق گزٹ قانونی وقت گزر جانے کے باوجو د جاری نہ ہونے اور یہ ساری معلومات بروقت فراہم نہ کئے جانے کا بھی نوٹس لے اور بلوچستان میں پولنگ کے روز کام کرنے والے عملے کے معاملات کو بھی حتمی شکل دے تاکہ بلوچستان میں بھی اِس سلسلے میں بے یقینی کی صورت حال کا خاتمہ ہو سکے۔

ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان میں یکم مئی سے فوجی اور ایف سی کا عملہ حساس مقامات پر اپنی ڈیوٹی سنبھال لے گا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے امن و امان کی صورت حال پر ظاہر کی گئی تشویش کے پیش نظر آئندہ چند روز میں وفاقی اور صوبائی نگران حکومتوں کا ایک اجلاس بھی ہو رہا ہے، جس میں انتخابات سے قبل امن و امان بحال کرنے کے لئے ضروری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ بہت سے لوگوں کی طرف سے اس رائے کا اظہار کیا گیا ہے کہ امیدواروں کو عوام سے رابطے کا پورا موقع بھی ملنا چاہئے، جس طرح ملک کی دو تین اہم سیاسی جماعتوں کے انتخابی جلسے اور دفاتر بار بار دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں اس کے بعد ان کا یہ احساس عام ہو گیا ہے کہ انہیں انتخابی عمل سے باہر کرنے یا صرف انہی کے ساتھ دہشت گردوں کی تمام تر مخاصمت کا سلسلہ شروع ہے، لیکن اپنے اپنے منشور اور موقف کی وضاحت کے لئے اس موقع پر عوام سے رابطے کا حق تمام جماعتوں کو ہے۔ جن جماعتوں پر دہشت گردوں کی خاص توجہ ہے ان کی سیکیورٹی کے لئے بھی خاص انتظامات کئے جانے ضروری ہیں۔ بہت سے سیاست دانوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ صرف پولنگ کے دن ہی نہیں ،بلکہ تمام خفیہ اداروں ایف سی اور فوج کو کم از کم پولنگ سے دس روز قبل تمام ملک میں تعینات کیا جائے اور سیکیورٹی کا ذمہ دار ہر ادارہ ان دنوں میں پوری مستعدی اور سرگرمی سے دہشت گردوں کا پیچھا کرے ۔ تمام مشکوک لوگوںپر نظر رکھی جائے اور کسی طرح کی سیاسی پشت پناہی کی پرواہ نہ کی جائے۔ کراچی اور کوئٹہ کے عوام بار بار ان شہروں میں امن و امان کے لئے فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ آرمی کی طرف سے بھی متعدد بار سول انتظامیہ کی ہر طرح سے معاونت کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، لیکن سیاسی حکومتیں اپنے مخصوص شکوک و شبہات اور مفادات کے پیش نظر فوج کی مدد لینے سے اجتناب کرتی رہی ہیں، لیکن اب ایسا وقت ہے کہ ہمیں اپنی بہادر فوج کی مدد اور اعانت حاصل کرنا ہوگی۔ اس وقت بیرونی کے بجائے ہمیں اندرونی خطرات زیادہ لاحق ہیں۔ افواج پاکستان بھی اس چیزکابخوبی احساس رکھتی ہیں ، ان کی طرف سے اس امر کا بھی بار بار اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں بروقت اور شفاف انتخابات ملکی سلامتی اور استحکام کے لئے ضروری ہیں اس کے بعد حالات کو سنبھالنے کے لئے اور انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لئے انہی دنوں سے فوج کا تعاون قوم و ملک کے لئے ضروری ہو گا ۔ خالی خولی غور وفکر کرنے سے آج تک ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ اب بھی درست فیصلے نہ کئے گئے تو پھر قوم کو کسی بڑے نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ نگران حکومتوں کے نمائندے اپنے اجلاس میں درست فیصلے کرکے ملکی ماحول کو پُرامن اور انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔

مزید : اداریہ