نہ نگہ بلند ، نہ سخن دلنواز

نہ نگہ بلند ، نہ سخن دلنواز
نہ نگہ بلند ، نہ سخن دلنواز

  

مَیں آج کل انتخابات کے سمندر میں گم ہوں، ہو سکتا ہے کہ شہر، صوبے اور پورے ملک میں انتخابات کا اتنا جوش و خروش نہ ہو مگر میرے ارد گرد صرف اور صرف انتخابات ہی ہیں، نعرے لگائے اور جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ لاہور میں بیٹھ کر بھی میں انتخابات کے سمندر میں بہنے والے خون کی بو سونگھ اور ذائقہ محسوس کرسکتا ہوں حالانکہ یہ بہتا ہوا خون مجھ سے سینکڑوں میل دور ہے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں بلاخوف تردید کہوں گا کہ یہ زخم ہم نے خود اپنے بدن پر لگائے ہیں جن سے اب خون رس رہا ہے۔ یہ زخم مارشل لاو¿ںکے دوران عاقبت نااندیشوں کی اختیار کی ہوئی پالیسیوں نے دئیے، ایک مارشل لاءنے سوویت یونین کو ختم کرنے کی سوچ دی تو دوسرے نے ہمیں اپنے ہی تراشے ہووں کے سامنے کھڑا کر دیا۔ دونوں انتہا پسندانہ سوچیں تھیں اور آج جب میں اپنے کچھ ٹیسٹ ٹیوب سیاستدانوں کو دیکھتا ہوں جنہیں عشروں کی سیاست بھی میچور نہیں کر سکی تو افسوس سے ہاتھ ملنے لگتا ہوں، وہ آج بھی انتہاپسندی کی سیاست کر رہے ہیں، گالیاں دے رہے اور جواب میں گالیاں سننے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ وہ جو مولاجٹ بن رہے ہیںکیا انہیں اندازہ نہیں کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے اگر وہ مولاجٹ بنیں گے تو جواب میں کوئی نوری نت بن جائے گا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود، حضور اکرمﷺ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے....آنحضورﷺ نے کعبہ شریف کی طرف نگا ہ کی اور فرمایا .... ” اے کعبہ .... تو کتنا مقدس، مکرم اور معظم ہے“.... پھر حضرت عبداللہ سے فرمایا.... ” اے عبداللہ کیا تمہیںمعلوم ہے ۔ ایک مسلمان کی جان و مال اور آبرو کا تقدس کعبے سے بھی زیادہ محترم ہے ۔ کسی دوسرے کی جان و مال اور آبرو پر حملہ آور ہونا کعبے کو ڈھا دینے سے بھی بڑا جرم ہے “ ۔ میں ذاتی طور پر سمجھتاہوں کہ اگر جمہوری عمل چلتا رہتا تو ہم سب مکالمے ، ایک دوسرے کی بات سننے اور ایک دوسرے کو اپنی بات سمجھانے کے عادی ہوچکے ہوتے، مگر مارشل لاﺅں میں جنم لینے والی نسلیں صرف اپنے مو¿قف کو ہی درست سمجھتی ہیں، جنہیں دلیل کا احترام کرنا چاہئے وہ صرف ڈنڈے اور بندوق سے ڈرتی ہیں۔ میں مسلم لیگ نون، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے روزانہ سینکڑوں، ہزاروں کارکنوں کا سامنا کر رہا ہوں، مَیں نے دےکھا ہے کہ جس کی قیادت جتنی زیادہ منہ پھٹ اور بدتمیز ہے ،اس کا کارکن بھی اتنا ہی زیادہ” بہادر“ بننے کی ایکٹنگ کر رہا ہے۔ ہم دلیل سے دور اورتعصب کے اتنے قریب ہیں کہ میرے سامنے جب مسلم لیگ نون کا کوئی امیدوار اپنی حکومت کی کارکردگی بیان کرتا ہے تو تحریک انصاف کے کارکن بغیر بات سنے جھوٹا، جھوٹا کے نعرے لگانے لگ جاتے ہیں اور اسی طرح جب تحریک انصاف کا لیڈر بات کرنے لگتا ہے تو مخالف اس کا کریکٹر دیکھے جانے بغیر ہی لوٹا ، لوٹا کا شور مچا دیتے ہیں، یہی کام اس وقت ہوتا ہے، جب پیپلزپارٹی کا امیدوار اپنا اور اپنی پارٹی کا مو¿قف بیان کرنے لگتا ہے تو ڈاکو، ڈاکو کا شور مچ جاتا ہے ، جس روز ان کے قائدین کواتفاق رائے اور مک مکا میں فرق کی سمجھ آ گئی، یہ کارکن بھی سمجھ دار ہوجائیں گے۔

شیخ سعدی ”گلستان“ میں بیان کرتے ہیں کہ شہنشاہ نوشیرواں ایک جگہ شکار کھیلنے گیا ، شکار کے بعد ایک جگہ ٹھہرے اور حکم ہوا کہ گوشت کے کباب بنائے جائیں ، نوشیرواں نے ایک غلام سے کہا کہ جاﺅ کسی قریبی گاﺅں سے نمک لے آﺅ اور ساتھ ہی ہدایت کر دی کہ نمک کی قیمت ضرور ادا کر دینا تاکہ میرے نام پر مفت نمک لانے سے لوگوں کا حق مارنے کی رسم ہی نہ پڑ جائے اور دیہات ویران ہوجائیں ۔ غلام کی سوچ بھی ہمارے بعض رہنماﺅں کی طرح بہت محدود تھی ، اس نے کہا کہ حضور تھوڑا سا نمک کسی سے مفت لے آنے میں کیا خرابی ہے کہ اس سے دیہات ویران ہوجائیںگے۔ نوشیرواں نے جواب دیا کہ ظلم، یعنی بے انصافی کا آغاز دنیا میں معمولی سی بے انصافی سے ہی ہوا تھا، پھر جو کوئی آیا، اس روایت پر چلتا رہا۔اس طرح شیخ سعدی کے قلم سے علم و حکمت کے گوہر جھڑتے ہیں، وہ لکھتے ہیں ”اگر آقا کسی کے باغ سے ایک سیب توڑ کے کھاجائے تو اس کے غلام سارا باغ ہی ویران کر دیں گے اور اگر بادشاہ کہے کہ جاو¿ کسی سے پانچ انڈے چھین لاﺅ تواس کے غلاموں کی فوج ہزاروں مرغیاں چھین کے بھون کھائے گی۔میں اس انتخابی مہم کے دوران تقریریں سنتا اور پڑھتا ہوں تو شیخ سعدی یاد آتے ہیں ، جب اول درجے کا ایک لیڈر کسی بھی دوسرے لیڈر کو اوئے کہہ کے بلائے گا تو لازمی طور پراس کا تیسرے ، چوتھے درجے کا عہدے داریا دسویں نمبر پر آنے والا کارکن بھی اپنے لیڈر کو آئیڈیلائز کرتے ہوئے صرف بدتمیز ی اور گالم گلوچ ہی نہیںکرے گا، بلکہ مخالفین کے لئے جوتے اور ڈنڈے بھی اٹھا لے گا۔ مَیں تو اتنا جانتا ہوں کہ جسے اس کے والدین تمیز سے بات کرنا نہیں سکھاتے، اسے زمانہ سکھا دیتا ہے اور الیکشن کمیشن بھی اسی زمانے کا ایک حصہ ہے جس نے ” رہنماﺅں “کی بدکلامی کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں مہذب زبان استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تو بہ ، توبہ.... کیا زمانہ آگیا ہے کہ وہ لوگ جنہیں ہم جیسے عامیوںکو سکھانا چاہئے، اب ان کو تمیز سے بات کرنا سکھایا جائے گا۔ یہ تو حضرت اقبال کا یہ شعر ہی غلط ثابت کر رہے ہیں ” نگہ بلند ، سخن دل نواز ، جان پرسوز، یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے“۔ ان کی نگاہ تو اپنے پیٹ سے آگے ہی نہیںجا رہی، مجھے بہت زیادہ مقبول ہونے کی دعوے دار جماعت کے ایک امیدوار نے شاہدرہ میں کہا کہ اگر اس کی جماعت پاکستان میں برسراقتدار نہیں آئی تو پاکستان نہیں بچے گا، یہ ختم ہوجائے گا۔ مَیں نے دل میں کہا کہ تمہارے منہ میں خاک اور زبان سے اخلاقیات کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اس فاسد خیال سے نجات دلانے کی کوشش کی، مَیں نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت کو کسی ایک سیاسی جماعت کی کامیابی سے مشروط نہ کیجئے ہاں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی آپ کی کامیابی سے مشروط ہے مگر وہ جاہل اور متعصب شخص اپنی بات پر اڑا رہا اور منہ سے کف اڑاتے ہوئے مجھے یاد دلانے لگا کہ آج سے بیالیس سال پہلے بھی تو پاکستان ٹوٹ گیا تھا۔میرا دل چاہا کہ اسے مشورہ دوں کہ پھر تم اس لیڈر کا ساتھ دو جس پر بلوچ اور سندھی علیحدگی پسندوں کی اکثریت اعتماد کر رہی ہو، مگر یہ میرا منصب نہیں کہ مَیں سیاسی جماعتوں کی وکالت کرتا پھروں، مگر مَیں اپنے ملک کی وکالت سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ اسلام کے نام اور جمہوریت کے ذریعے وجود میں آنے والا میرا ملک انہی دو راستوں پر چل کے ہی سلامت رہے گا، اس کی سلامتی کسی ایک جماعت کی کامیابی سے مشروط نہیں کی جا سکتی۔

مَیں نے پڑھا ہے کہ پرانے زمانوںمیں ادب، آداب کی تربیت کے لئے بڑے بڑے نواب گھرانوں کے فرزند طوائفوں کے کوٹھوں پر بھیجے جاتے تھے مگر ہمارے جو لیڈر اوئے طوئے کر کے باتیں کر رہے ہیں ان کو وہاں بھیجنے کا رسک بھی نہیں لیا جا سکتا۔ کچھ لوگ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ معاشرے میں انتہاپسندی کا بیچ بو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے سے مکالمے کی ثقافت رخصت ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی معاشرے میں صدارتی امیدوار آپس میں مباحثہ کرتے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں فی الحال اس کا تصور ہی احمقانہ لگتا ہے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ جب نواز شریف ، آصف علی زرداری سے ملنے سے انکار کر دیتے ہیں چاہے وہ عباس شریف کی تعزیت کے لئے ہی کیوں نہ آنا چاہ رہے ہوں اور اس وقت بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے، جب عمران خان کسی تقریب میں نواز شریف کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بچنے کے لئے تقریب سے ہی رخصت ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ لوگ ہاتھ ملانے کی سنت سے بھی بچیں گے تو ان کے سیاسی فوجیوں کے ہاتھ تو ایک دوسرے کے گریبان تک پہنچ جائیں گے۔ یہ ایک دوسرے کی جان، مال اور آبرو کے تقدس کو پامال کرکے کعبے کو ڈھانے سے بھی زیادہ بڑا گناہ کریں گے تو ان کے پیرو کار تو دنیا ہی فنا ، قیامت ہی برپا کر دیں گے۔ تنقید کیجئے، مگر توہین نہ کیجئے، طنز کیجئے، مگر گالی نہ دیجئے کہ یہ لوٹ کر آپ کے پاس آ جائے گی۔

مزید : کالم