انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے، کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑیں گے: متحدہ ، پی پی اور اے این پی کا اعلان

انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے، کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑیں گے: ...
 انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے، کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑیں گے: متحدہ ، پی پی اور اے این پی کا اعلان

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) دہشت گردی کا شکار تین لبرل سیاسی جماعتوں نے انتخابی دفاتر، امیدواروں اور کارکنان پر بم حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے مگر ہم کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑیں گے اور انتخابات میں ہر صورت حصہ لیں گے ۔ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنماءتاج حیدر نے کہا کہ ہمیں قوت اور دہشت گردی کے زور پر انتخابی مہم چلانے سے روکا جا رہا ہے، دہشت گرد بعض جماعتوں کو اپنا ضامن کہتے ہیں اور وہی جماعتیں بلاروک ٹوک اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں دائیں بازو کی جماعتوں کا عسکری ونگ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی، لیاری میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف نہیں بے گناہ افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، بے گناہوں کے خلاف کارروائی کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ رائے عامہ کو خلاف جاتا دیکھ کر دائیں بازو کی ایک جماعت نے بھی مذمت کی ۔ ہم انتہاءپسندی اور دہشت گردی کے خلاف نبرآزما رہے ہیں، اسی لئے ہمیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو پوری دنیا کے سامنے لائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے انتخابی مہم چلانے سے روکا جا رہا ہے اور حکومت نے دہشت گرد گروپوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ۔ تاج حیدر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی سب کے سامنے ہے جس نے 55 دہشت گردوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ضیاءالحق کا مقابلہ کیا تھا اس کی باقیات کا بھی کریں گے ۔ اے این پی کے رہنماءبشیر جان نے کہا کہ کراچی میں بعض لوگوں کو کچھ بھی کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، ہم نے اپنے دور حکومت میں اداروں کو اختیارات دیئے اور آج اسی وجہ سے ہم پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اپنے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد نہیں کروا پا رہی، ایک صوبے کو چھوڑ کر باقی کسی صوبے میں انتخابی مہم نہیں چل رہی، تمام سیاسی قوتوں کو یکساں سیاسی میدان فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے ہم کسی صورت میں میدان خالی نہیں چھوڑیں گے اور ہر صورت انتخابات میں حصہ لیں گے ۔ ایم کیو ایم کے رہنماءحیدر عباس رضوی نے کہا کہ پاکستان کی وہ سیاسی جماعتیں جو لبرل، ماڈرن اور سیکولر ایجنڈا رکھتی ہیں آج دہشت گردی کی زد پر ہیں اور انتہاءپسند عناصر پاکستان کے تین صوبوں میں کھلے عام اور آزادانہ طور پر پاکستان کی جمہوری، اعتدال پسند اور روشن خیال جماعتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے دفاتر پر بم حملے کئے جا رہے ہیں، کارکنان کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، امیدواران کو بم حملوں میں اڑایا جا رہا ہے، ریلیوں میں دھماکے کئے جا رہے ہیں اور ان کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ان مذہبی جنونیوں اور انتہاءپسندوں کو کھلی چھوٹ دے دی گی ہے جو ایم کیو ایم ، اے این پی اور پیپلزپارٹی پر آزادانہ حملے کر رے ہیں، نا نگران حکومت کی جانب سے کچھ کیا گیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں متحدہ قومی موومنٹ، اے این پی ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے دفاتر، امیدواروں اور کارکنان پر دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حملوں میں شہید ہونے والے بے گناہ شہریوں اور جماعتوں کے سیاسی کارکنان کی شہادت پر اللہ تعالی سے ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعاگو ہیں۔ ہم ملک میں کی جانے والی دہشت گردی اور مذہبی انتہاءپسندی کے رجحانات کے انتہائی مخالف ہیں اور اتحاد بین المسلمین اور اتفاق بین المذاہب پر کلی ایمان رکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم ، اے این پی اور پیپلز پارٹی نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان دہشت گردی کے واقعات اور بم دھماکوں سے کسی قیمت پر بھی خوفزدہ نہیں ہوں گے اور مردانہ وار مقابلہ کریں گے ، ہم پر یہ صورتحال نئی نہیں ، اس سے پہلے بھی بدترین ادوار دیکھ رکھے ہیں، نہ پہلے سر جھکایا اور نہ اب جھکائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں پر یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم کسی سے لڑائی نہیں چاہتے ہم قربانیاں د ے رہے ہیں، پہلی مارچ سے لے کر آج تک ایم کیو ایم کے 65 کارکنان دہشت گردی کا نشانہ بنے مگر اس کے باوجود یہ باور کرا دینا چاہتے ہیں کہ چاہے اقوام متحدہ کا چارٹر ہو یا انسانی معاشرتی اصول یا اسلامی تعلیمات ہم تینوں جماعتیں عوام کی تائید و حمایت کے ساتھ اپنا حق دفاع بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ہم یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہتے کہ 2014ءمیں افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلاءہے اور یہ بھی ہمارے ذہن میں ہے کہ انہوں نے اسی راستے سے گزر کر واپس جانا ہے، ماضی میں جب افغانستان کو چھوڑ کر جایا جا رہا تھا تو عجلت میں ایسے فیصلے کئے گئے جن کی وجہ سے ایک پرامن دنیا کو نائن الیون اور سیون سیون جیسے سانحات سے گزرنا پڑا، ہم یہ باور کرا دینا چاہتے ہیں کہ عجلت میں کئے گئے فیصلے سب کیلئے ہولناک ثابت ہوتے ہیں، ایسی صورتحال پھر کہیں رونماءہو، عجلت میں کسی طور پر بھی فیصلے نہ کئے جائیں، ہم پاکستان میں ایک معتدل، اعتدال پسند ریاست کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں، دائیں بازو کی جماعتوں کو کھلے عام سپورٹ کیا جا رہا ہے۔

مزید : کراچی