اسلام کا معاشی نظام

اسلام کا معاشی نظام
اسلام کا معاشی نظام
کیپشن: alsyed alam zedi

  

اسلام کا نظریہ معیشت فطرت سے ہم آہنگ اور تمام معاشی مشکلات کا واحد حل ہے، اس لئے کہ یہ نظام نہ تجربات کا مرہون منت ہے اور نہ اقتصادی ماہرین کی ذہنی کاوش کا نتیجہ،بلکہ یہ معاشی نظام پروردگار نے تجویز کیا اور پیغمبر اسلام نے پیش کیا، اس لئے یہ نظام ہی وہ واحد نظام معیشت ہے جو اگر تمام عالم پر چھا جائے تو دنیا میں صرف معاشی سکون ہی سکون ہو، اس لئے کہ یہ مالک حقیقی نے بنایا ہے وہ ہم سب کا رب ہے، لہٰذا اس کی ربوبیت کا سایہ بھی سب پر یکساں ہے، اس میں اجتماعی مفاد ہی ملحوظ ہے، شخصی یا گروہی مفاد کا شائبہ تک نہیں۔ اسلامی نقطہ ¿ نظر سے حقیقی مالک صرف اللہ ہے، ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز اس کی ملکیت میں داخل ہے، چنانچہ اُس نے مال کی نسبت اپنی ذات کی طرف دیتے ہوئے فرمایا:”خدا کے مال میں سے جو اُس نے تمہیں دیا ہے، اُن کو بھی دو“۔

اللہ کے مال میں بنیادی طور پر تمام انسانوں کو یکساں حق تصرف حاصل ہے، تمام چیزیں جو زمین سے نکلتی ہیں یا دنیا میں پائی جاتی ہیں، سب کی سب بنی نوع انسان کی نفع رسائی کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔اسلام نے معاشی آزادی کے ساتھ انفرادی ملکیت کا بھی حق دیا ہے، اس لئے کہ انفرادی ملکیت ایک ایسا جذبہ ہے جو فطرت انسانی ہے اور اسلام اپنے تمام شعبہ ہائے حیات میں فطرت کا ہمنوا ہے، چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا جاﺅ اور نہ حاکموں کو بطور رشوت دو تاکہ لوگوں کے مال میں سے جو کچھ ہاتھ لگے خورد بُرد کرنے لگ جاﺅ، حالانکہ تم جانتے ہو“.... اسلام نے ملکیت کے تحفظ و احترام پر بھی زور دیا ہے، چنانچہ غصب، خیانت اور چوری ڈکیتی پر سزا لازم قرار دی ہے۔ اسلام کا عدل پسند مزاج یہ گوارا نہیں کرتا کہ کسی کا مال اس کے مالک کی رضا مندی کے بغیر استعمال کیا جائے۔ ارشاد رسول اکرم ہے: ”کسی شخص کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر جائز نہیں“۔

اسلام نے اگرچہ شخصی ملکیت کا حق دیا ہے، مگر وسائل معیشت پر ایسے قیود عائد کر دیئے ہیں کہ بے قید سرمایہ داری کا انسداد اور اُس سے پیدا ہونے والے مفاسد کا تدارک ہو جاتا ہے، چنانچہ جائز و ناجائز، حلال و حرام کی تفریق قائم کر کے دولت کو متوازن حد سے آگے نہیں بڑھنے دیا اور اندھا دھند دولت حاصل کر کے اس کی اجارہ داری کے آگے ایک بند خودبخود بندھ جاتا ہے، اس بے قید سرمایہ داری کا ایک بڑا سبب سودی کاروبار ہے۔ اسلام سود کو حرام قرار دیتا ہے تاکہ سرمایہ داری کو تقویت حاصل نہ ہو۔ اسی طرح جواءلاٹری اور سٹہ بھی حرام ہے، ان چیزوں میں دوسرے کا مال بغیر معاوضے کے ہتھیا لیا جاتا ہے، جس سے ہارنے والے کا دل مال جیتنے والے کی طرف سے خراب ہو جاتا ہے اور فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے، جو امن عامہ کو خراب کرتا ہے، اسی لئے قرآن مجید میں اس کو عمل شیطان قرار دیا گیا ہے۔ ”جب اللہ کسی چیز کو حرام بتاتا ہے تو اس کے معاوضے میں حاصل ہونے والا مال بھی حرام قرار دیتا ہے“.... یعنی ایک شخص اپنا مکان کرائے پر دیتا ہے، وہاں شراب فروخت ہوتی ہے، تو وہ رقم جو کرایہ کی صورت میں حاصل ہو وہ قطعی حرام ہے۔

معاشی نظام کی اصلاح میں میانہ روی کو بڑا دخل ہے۔ اگر خرچ کو آمدن سے بڑھنے نہ دیا جائے، تو ذہنی و معاشی پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ ارشاد رب العزت ہے کہ: بے موقع و بے ضرورت مال ضائع کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اس بے ضرورت صرف سے روکنے کا مقصد یہ ہے کہ غریب اور نادار لوگوں میں احساس محرومی پیدا نہ ہو اور اگر کوئی شخص مالدار ہے، تو اس کو چاہئے کہ اپنے غریب بھائی کی مدد کرے تاکہ دولت کے انبار جمع نہ ہوں اور سب مسلمان اچھی اور بہتر زندگی بسر کریں، یعنی اسلام یہ چاہتا ہے کہ سونا چاندی جمع کرنے کے بجائے گردش میں رکھا جائے، تو صاحب مال کے مال میں بھی وسعت ہو گی اور دوسرے اس گردش زر سے فائدہ اُٹھا کر بے روز گاری سے بچیں گے۔ اگر ہم عہد امیر المومنین کے معاشی نظام کا جائزہ لیں تو بالکل روشن ہو جائے گا کہ کاروباری آزادی کے ساتھ پیداواری وسائل عوام کی ملکیت تھے، ہر شخص معیشت کے مختلف ذرائع زراعت، تجارت، دستکاری وغیرہ اختیار کرنے میں آزاد تھا، جس کے نتیجے میں ہر شخص مطمئن ہو کر جدوجہد میں لگا ہوا تھا اور معاشرے میں سکون تھا۔

ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی قلت اور گرانی پیدا کرنا ایک معاشرتی جرم ہے۔ حضرت علی ؓ نے اس کی روک تھام کے لئے عام اعلان کر دیا تھا کہ کوئی شخص ذخیرہ اندوزی نہ کرے، ورنہ وہ مناسب سزا کا مستحق ہو گا۔ معاشی نظام میں توازن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب اسراف، یعنی ضرورت سے زیادہ خرچ نہ کیا جائے، یعنی آپ فرماتے ہیں کہ:میانہ روی اختیار کرتے ہوئے فضول خرچی سے باز آﺅ، آج کے دن کل کو بھول نہ جاﺅ اور بغیر ضرورت چیزوں کو سمیٹنے کے بارے میں فرمایا، جس چیز کی ضرورت نہ ہو، اُسے چھوڑ دو اور اُسی چیز کو حاصل کرو، جس کی ضرورت ہو۔ اگر ہم دنیا میں اسلامی نظام معیشت کو رائج کرنا چاہتے ہیں، تو درج بالا باتوں پر غور کریں انشا اللہ ایک مستحکم معاشی نظام قائم ہو جائے گا۔  ٭

مزید :

کالم -