ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ملازمین کے لئے گھر

ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ملازمین کے لئے گھر
 ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ملازمین کے لئے گھر

  


دوستو!سنائیں کیسے ہیں ،امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔ دوستو! آپ کو پتہ ہے کہ آج کل ہم ویلے مصروف ہیں ،جی ہاں سوچا تھا الیکشن لڑ کر چلو کچھ تو عوام کی خدمت کر لیں ،لیکن الیکشن ملتوی ہونے سے ہم ہی کیا بہت سے امیدوار ویلے ہوگئے ہیں اور اب اس بات کا انتظار کرتے رہتے ہیں، کب اللہ بھلا کرے اور حکومت ان کے دل کی بات سن سکے اور بلدیاتی الیکشن کا انعقاد کروا سکے ،بہرحال اب جبکہ الیکشن سے فراغت ہے ،اس لئے فارغ رہ رہ کر بوریت سی چھانے لگی، تو سوچا کہ چلو گھر سے باہر نکل کر دیکھ لیں کہ بہت سے شور مچا رہے ہیں کہ پنجاب حکومت کچھ نہیں کر رہی تو ہم نے سوچا کہ چلو کسی نہ کسی ادارے میں چکر لگالیا جائے۔ حافظ مستنصر کو ہمراہ لئے ہم گھومتے گھامتے ایک ایسے سرکاری ادار ے میں پہنچ گئے جہاں ہر طرف سکون اور امن و شانتی کا دور دورہ تھا ،

ہمیں حیرانی ہوئی کہ کیا ماجرا ہے عوام کے کام دھڑا دھڑ ہو رہے ہیں ۔اسی عالم میں ہمیں ادار ے کے ڈی جی صاحب سے ملنے کا شوق بھی پیدا ہو گیا کہ ہم بھی تو ملیں ذرا ڈی جی صاحب سے اور پوچھیں کہ سر جی آپ کے دفتر میں تو ہر طرف امن ہی امن ہے ۔ بالآ خر ہم نے ڈی جی صاحب سے ملنے کا ارادہ کیا اور اپنے اسسٹنٹ حافظ مسنصر کو کہا ڈی جی صاحب کے سیکر ٹری صاحب سے انٹرو یو کا ٹائم لے لیں، ہمیں دو تین دن کے بعد کا وقت دیا گیا ۔مَیں نے ڈی جی صاحب کے سیکرٹری سے ادارے کا کتابچہ لے لیا تھا جس میں ادارے کا نام پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے لفظ نمایاں طور پر رقم تھے ،ہم نے سرسری سی نظر کتابچے پر ڈالی اور ہاتھ میں پکڑ لیا ،پھرطے شدہ وقت کے مطابق ہم پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے دفتر پہنچ گئے،جہاں ڈی جی صاحب کی سٹاف کے ساتھ معمول کی میٹنگ جاری تھی ۔

ہمیں تھوڑی دیر انتظار کرنے کا کہا گیا اور ہم سیکرٹری صاحب کے کمرے میں ہی صوفوں پر براجمان ہو گئے ، پھر پیغام موصول ہوا کہ ڈی جی صاحب یاد کر رہے ہیں ابھی ہم ڈی جی صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے ہی تھے تو ڈی جی صاحب کے ایک مہمان اور تشریف لے آئے،تاہم انٹرویو شروع کرنے سے پہلے ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی وہ مہمان جو سابق سیکرٹری تھے، نے موجودہ حالات پر صرف اتنا تبصرہ فرمایا کہ خدارا جو کچھ بھی کریں، پہلے ملکی سا لمیت کو مد نظر رکھیں۔ ہم نے چائے پینے کے بعد ڈی جی صاحب سے سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا ،جبکہ ڈی جی بڑے اطمینان سے ہمارے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس فاؤنڈیشن کے قیام کا بنیادی مقصد ریٹائر منٹ کے بعد سرکاری ملازمین کوگھر دینا ہے ۔

حکومت پنجاب ایسے ملازمین جو ریٹائر ہو جائیں،یعنی جب ملازم نوکری کرتے ہوں تو ان کی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی ہے جو ریٹائر منٹ کے بعد انہیں گھر یا پلاٹ کی صورت میں ملتی ہے۔اگرکوئی ملازم گھر بیچنا چاہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں ۔ ڈی جی صاحب سے یہی معلوم ہوا کہ گیارہ بڑے شہروں میں ہاؤسنگ سکیموں کے پراجیکٹ تقریباً مکمل ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ بورڈ بھی قائم ہے جس میں پندرہ افراد شامل ہیں۔ ہم نہ تو سفارش پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی کرپشن پر پنجاب ہاؤسنگ سکیموں کا آپ انٹرنیٹ پر تفصیل کے ساتھ معائنہ کر سکتے ہیں ۔یہ بات بھی خو ش آئند ہے کہ حکومت پنجاب کی خصوصی کاوشوں سے پنجاب بھر میں ہر ادارہ انٹرنیٹ پر اپ لنک منسلک ہے ۔ ڈی جی صاحب نے بتایا کہ ملازمین کی ریٹائر منٹ پر ازخود ہی ان کا نام الاٹمنٹ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے اور الاٹمنٹ لیٹر کے ساتھ ہی ہم قبضہ بھی ملازم کے حوالے کر دیتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اگر کسی کو کسی بھی قسم کی شکایت ہو تو بتائے ۔

ڈی جی صاحب کی پُر کشش شخصیت اور دلچسپ باتوں کے حصار میں ایسے الجھے کہ وقت گذرنے کا پتہ ہی نہ چلا ،ہم نے کافی دیر ڈی صاحب سے سیر حاصل گفتگو کرنے کے بعد اجازت لی اور وہاں سے رخصت ہو گئے۔ واپس آتے ہوئے دل یہی کہہ رہا تھا کہ پنجاب حکوت بھی اور وفاقی حکومت بھی عوامی مسائل کے بہترین حل کے لئے دن رات کوشاں ہیں ،اور ہمارے بہت سے دوست ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ باتوں کا کیا باتیں تو جتنی مرضی کر لیں ، اسی لئے کوئی کچھ بھی کہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ پنجاب حکومت نے عوام کے دل جیت لئے ہیں اسی لئے تو پنجاب کے عوام دن رات میاں برادران کی صحت و تندرستی کی دعائیں کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ بہر حال دوستو! فی الوقت اجازت چاہتے ہیں آپ سے ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد اللہ نگہبان رب راکھا ۔ *

مزید : کالم