مَیں کیا سمجھاﺅں، حکمران خود سمجھ دار ہیں

مَیں کیا سمجھاﺅں، حکمران خود سمجھ دار ہیں
مَیں کیا سمجھاﺅں، حکمران خود سمجھ دار ہیں

  

شیدا ریڑھی والا اکثر مجھے کہتا ہے کہ مَیں حکمرانوں کو سمجھاﺅں۔مَیں اس کی یہ بات سن کر اندر ہی اندر مسکراتا ہوں۔کتنا بھولا آدمی ہے۔سمجھتا ہے شائد حکمران میرے سمجھانے کا انتظار کررہے ہیں، کب مَیں ان کے پاس جاﺅں اور انہیں سمجھاﺅں کہ شیدے ریڑھی والے جیسے عوام کیا سوچ رہے ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔یہ بھی بتاﺅں کہ ان کی بات سننا کتنا ضروری ہے اور اقتدار میں رہنے کا سب سے آزمودہ نسخہ بھی یہی ہے کہ ایسے عوام کو اپنا حامی اور گرویدہ بنائے رکھو۔شیدے ریڑھی والے جیسے عوام کو کیا پتہ کہ حکمران جب اقتدار کی غلام گردشوں میں ہوں تو انہیں کوئی ایسی بات اچھی نہیں لگتی تو جو ان کے فائدے میں نہ ہو۔کوئی ایسا مشورہ بھی پسند نہیں آتا، جس میں انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ انہیں اچھی حکمرانی کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے، مگر اس کے ساتھ میرا دھیان ایک اور طرف چلا جاتا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ حکمران بے خبر ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی خوش فہمی ہے۔مَیں جب وزیراعلیٰ شہبازشریف کے بیانات پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ جب انہیں حالات کااس قدر ادراک ہے تو وہ اپنے بڑے بھائی سے مل کر اس ملک کے حالات کو ٹھیک کیوں نہیں کرتے۔عوام کو انصاف ،صحت، روزگار اور بنیادی ضرورتوں کی فراہمی میں ریلیف کیوں نہیں دیتے، مثلاً ابھی چند روز پہلے ہی انہوں نے کہا ہے کہ نظام کو تبدیل نہ کیا گیا تو بہت بڑا عوامی انقلاب آئے گا، جو سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جائے گا، جو بات اپوزیشن کو کرنی چاہیے، وہ جب حکمران کرتے ہیں تو کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔عقل دنگ رہ جاتی ہے اور دماغ سائیں سائیں کرنے لگتا ہے۔عوام یہ سوچتے ہیں کہ سب کچھ تو حکمرانوں کو معلوم ہے، پھر وہ کچھ کرتے کیوں نہیں، کیوں صرف بیان بازی تک محدود رہتے ہیں۔

اس وقت قومی حالات کی جو کھچڑی پک رہی ہے، اسے بغور دیکھنے کی ضرورت ہے۔آج اپوزیشن کی طرف سے یہ بیانات تواتر کے ساتھ آ رہے ہیں کہ حکومت اپنے ایک سال کے دوران مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔عمران خان نے تو گیارہ مئی سے انتخابات میں دھاندلی اور حکومتی کارکردگی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری بھی اسی تاریخ کو احتجاج کرنے کی خبر دے چکے ہیں۔یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے، اس بارے میں جتنے منہ اتنے جواب دیئے جا سکتے ہیں، مگر اس سے قطع نظر یہ سوال اہم ہے کہ آخر ایسے حالات کیوں پیدا ہو چکے ہیں کہ حکومت مخالف جماعتیں انہیں احتجاجی تحریک کے لئے سازگار سمجھتی ہیں۔ آج لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ سڑکوں پر پاک فوج اور آئی ایس آئی کے حق میں جلوس نکل رہے ہیں، نعرے لگ رہے ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے ماحول کسی اور طرف جا رہا ہے۔ایک واقعہ کی بنیاد پر اتنی بڑی مشق کیوں کی جا رہی ہے۔اس کے پس پردہ محرکات کیا ہیں۔اس شو کے ہوتے ہوئے اب عمران خان بھی ایک بڑا شو کرنے جا رہے ہیں اور ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی لنگر لنگوٹ کس لئے ہیں۔گویا اب سڑکوں پر سیاست نے دھماچوکڑی جمانی ہے۔ بھرپور لوڈشیڈنگ، کمر توڑ مہنگائی، جان لیوا بدامنی، کرپشن و ناانصافی کی بہتی ہوئی گنگا ، یہ سب ایسے عوامل ہیں، جو عوام کو سڑکوں پر لا سکتے ہیں۔ان کا توڑ کرنے کے لئے حکومت نے کیا حکمت عملی اختیار کی ہے، اس کا فی الوقت تو کچھ پتہ نہیں، البتہ بقول وزیراعلیٰ اگر نظام کو تبدیل نہ کیا گیا تو انقلاب آئے گا۔

 یہ کہنا نامناسب نہیں کہ حکمرانوں کو احساس ہے کہ حالات خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔عطاءالحق قاسمی نے آج ہی اپنے کالم میں لکھا ہے کہ حکمرانوں کے مشیروں میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں، جو حالات کو بہتر نہیں ہونے دے رہے۔مَیں ان کی اس بات کو بنیاد بنا کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ وزیراعظم محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہبازشریف حالات کی نزاکتوں کو سمجھتے ضرور ہیں، مگر اپنے اردگرد موجود مصاحبین کے ہاتھوں مجبور ہیں۔کوئی خوش آئند بات نہیں، جس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفے اور ڈیڑھ ارب ڈالر تھری جی فور جی کی نیلامی سے حاصل ہونے کا فائدہ اگر عوام کو نہیں پہنچتا تو پھر یہ ساری مشق حکمرانوں کے شوقِ حکمرانی کے سوا کچھ نہیں، اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حکومتی وزراءکی بڑھکوں سے اگر عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملتا تو یہ سارا ڈرامہ جمہوریت اور حکومت کو زیادہ دیر ہوائے مخالف سے نہیں بچا سکتا۔وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی کی بڑھکیں صرف مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے ہیں۔ان کی اس ساری مہم سے عوام کو کیا مل رہا ہے، اُلٹا بجلی مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور لائن لاسز بڑھ رہے ہیں۔بجلی کے مسئلے پر صوبائی منافرت علیحدہ پھیل رہی ہے، دو صوبوں کی اسمبلیوں میں ان کے خلاف قرارداد مذمت پاس ہو چکی ہے، صرف اس لئے کہ انہوں نے ایکشن کی بجائے کردارکشی پر زیادہ ضرور دے رکھا ہے۔

ہماری قومی تاریخ بتاتی ہے کہ جمہوریت کو کسی فارمولے کے تحت مضبوط نہیںکیا جا سکتا، یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ اسمبلیوں میں اپنی اکثریت، فوج میں اپنی حمایت، بیورو کریسی پر اپنی گرفت اور سیاسی سطح پر کچھ لو اور کچھ دو کے طریقہ ءکار کو اختیار کرکے جمہوریت کو مضبوط سمجھیں، ایسا پہلے بھی کئی بار ناکام ہو چکا ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔بدقسمتی سے ہماری جمہوریت ایک مخصوص ہابی کلب سے آگے بڑھ ہی نہیں سکی۔یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ظالمانہ استحصالی نظام کی گاڈ فادر بن جاتی ہے۔وہ نظام جس کی طرف وزیراعلیٰ شہبازشریف نے بھی اشارہ کیا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہماری جمہوریت عوام کے مسائل سے لاتعلق ہو کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہے۔ کوئی ایسی سڑکچرل تبدیلی نہیں لائی جا رہی، جس کی وجہ سے عوام کو ایک استحصالی و بدبودار دفتری و سرکاری نظام سے نجات ملے۔معاشرہ اس نظام کی وجہ سے انارکی کا شکار ہے۔ہر طرف مسائل ہی مسائل نظر آتے ہیں، ان کا حل کسی کے پاس نہیں۔

یہ اس قدر ظالمانہ اور بے حس نظام ہے کہ جب تک وزیراعلیٰ خود دادرسی کے لئے موقع پر نہ پہنچے، مظلوم کو انصاف نہیں ملتا۔اس میں حکمرانوں کو اس بات کی بھی کوئی خبر نہیں ہوتی کہ مخلوقِ خدا کو دو وقت کی روٹی بھی مل رہی ہے یا نہیں۔وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس طرح بے لگامی کے ساتھ قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے نزدیک مضبوط معیشت وہ ہے جو آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا اترے اور قرضہ دلانے میں ان کی مدد کرے، حالانکہ ایک عام آدمی کو بھی اس حقیقت کا علم ہے کہ جب تک عوام کی معاشی حالت اور قوتِ خرید بہتر نہیں ہوتی، کوئی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔یہاں اسحاق ڈار کا فارمولا اُلٹا چلتا ہے۔وہ عوام کا لہو نچوڑ کے خواص کو خوشحالی کے درجہ کمال تک لے جانا چاہتے ہیں۔ایک ایسی معیشت جس میں آبادی کا ایک بڑا حصہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہو، وہاں سے ہر طرح کی حکومتی سبسڈی ختم کر دینا ایک ایسا ظلم ہے، جس کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ اگر ایسے فیصلوں کے بعد لوگوں میں خودکشیوں اور خود سوزیوں کا رجحان بڑھ گیا ہے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔ہمارے حکمران جنوبی کوریا کے وزیراعظم جیسے تو ہیں نہیں کہ جہاز ڈوبنے پر مرنے والوں کی ذمہ داری قبول کرکے مستعفی ہو جائیں، حالانکہ وہ اس اسلامی تاریخ کے وارث ہیں، جس میں خلیفہ ءوقت نے کہا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمرؓ کیا جواب دے گا؟

مَیں جمہوریت کا دل سے حامی ہوں، مگر ایسی جمہوریت پر دکھ ہوتا ہے، جو استحصال،بے انصافی، طبقاتی آمریت اور سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ دینے کے لئے عوام دشمن فیصلے کرتی ہے۔ایسی جمہوریت بہت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔اصل اور حقیقی جمہوریت عوام کے کاندھوں پر سفر کرتی ہے اور وہ خود اس کی حفاظت کرتے ہیں۔حکومت کو اپنی ایک سال کی کارکردگی پر بغلیں بجانے کے بجائے احتسابی نظر کے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ گزرے ہوئے اس ایک برس میں عوام کے لئے کون سے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں کہ جن کی بنیاد پر وہ اس جمہوریت کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیں۔سب کچھ اگر جوں کا توں ہے اور صرف چہرے بدلے ہیں تو پھر کسی ایسی انہونی کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ جس کی طرف خود وزیراعلیٰ شہبازشریف اپنے ایک بیان میں اشارہ کر چکے ہیں۔ ٭

مزید : کالم