آزادی¿ صحافت کی قدر کریں

آزادی¿ صحافت کی قدر کریں
آزادی¿ صحافت کی قدر کریں

  

ایک ایسے وقت میں حکومت، فوج اور ذرائع ابلاغ ایک تنازعہ میں گھرے ہیں، جب ملک ایک ایسی ان دیکھی چو مکھی جنگ کا شکار ہے، جس کے دشمنوں کے بارے میں علم تو ہے، لیکن اعلانیہ جنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے اندر بھی جگہ جگہ ریمنڈ ڈیوس موجود ہیں اور اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ نظریات، عقیدے، اظہار رائے کے حوالے سے قتل کے بعد قتل ہو رہے ہیں ، دھماکوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اپنی جگہ تحقیقات میں مصروف رہتے ہیں، کبھی نتیجہ فوری طور پر سامنے آجاتا ہے ،کبھی تاخیر کی حد ہوجاتی ہے۔ طوالت متاثرہ فریق کے لئے عدم اطمینان کا باعث بن جاتی ہے۔ بہر حال اسی پس منظر میں ایک نجی چینل جیو کے اینکر حامد میر پر کراچی میں ایئر پورٹ سے اپنے دفتر جاتے ہوئے حملہ ہوگیا ۔ نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے، ہسپتال پہنچ گئے۔ علاج ہو رہا ہے اور وہ روبصحت ہیں۔حامد میر پر حملے کے بعد ان کے بھائی عامر میرکا جو خود بھی معروف صحافی ہیں اور صحافت کے اخلاقی پہلوﺅں سے بخوبی واقف ہیں، ایک بیان چینل پر چلا۔ اس بیان میں حملے کی ذمہ داری پاکستان کی اہم ترین خفیہ ایجنسی اور لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے سربراہ پر عائد کی گئی۔ یہ بیان شد و مد کے ساتھ بار بار نشر کیا گیا، جس کے بعد تنازعہ اور کشیدگی تو پیدا ہونا ہی تھی،سو ہوئی۔ نواز شریف حکومت کے وزراءایسے تقسیم ہوئے کہ آج تک تقسیم ہیں۔ بعض نے چونکہ اور چنانچہ کی راہ داریوں میں پناہ لی اور بعض نے اگر مگر کی پگڈنڈیوں پر چلنے میں ہی عافیت جانی۔ ایک طرف ذرائع ابلاغ ہو اور دوسری طرف ملک کا اہم ترین محکمہ ہو، تو قدم تو سوچ سمجھ کر اٹھا نا ہی پڑتا ہے۔” پہلے تول پھر بول“ پر عمل کرنا ہی عقلمندی ہوتی ہے۔ سیاستدانوں میں سے بعض نے کسی مصلحت کے بغیر چینل یا ایجنسی کی طرف داری شروع کر دی۔ اسی اثناءمیں حکومت نے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن قائم بھی کروا دیا۔ وزارت دفاع نے پاکستان میں الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پیمرا میں چینل کے خلاف کارروائی کے لئے درخواست دائر کردی۔

کمیشن کے قیام اور پیمرا میں درخواست کے بعد چینلوں میں گفتگو، اخبارات میں خبروں اور سڑکوں پر مظاہروں پر از خود پابندی ہونی چاہئے تھی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس تنازعہ کو سڑکوں پر طے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کسی تنازعہ یا جھگڑے کو ٹھنڈا کرنے کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ فریقین اور ان کے حامی از خود خاموشی اختیار کر لیتے ہیں،اگر ایسا نہیں ہوتا تو عدالت انہیں تبصرے کرنے، رائے دینے سے روک دیتی ہے، لیکن اس معاملے میں ذرائع ابلاغ پر بات آئی ہے تو سب ہی بولنا چاہتے ہیں۔ کوئی حمایت میں، کوئی مخالفت میں اور کوئی بین بین۔ یہ اتنا نقصان دہ پہلو ہے جو ملک اور افواج کے لئے کسی طور پر فائدہ مندثابت نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت سے کون واقف نہیں۔ امریکہ کی ضروریات کیا ہیں اور بھارت کی خواہشات کیا ہیں، ان سے تو چینل اور اخبارات کے بڑوں کو اچھی طرح واقف ہونا چاہئے۔ بھارت کو تو پاکستان کی اس ایجنسی کے خلاف کوئی موقع ملے، وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

آئی ایس آئی اپنی مہارت کی وجہ سے بھارت کی خفیہ ایجنسی را جس کی ذمہ داری صرف پاکستان میں مداخلت اور کامیاب کارروائیاں کرنا ہے، کی آنکھوں میں ہمیشہ کانٹے کی طرح کھٹکتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینل کی خبروں کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ نے خوشی کے شادیانے بجائے اور آئی ایس آئی کے خلاف محاذ کو دوبارہ گرم کر دیا۔ پاکستانی اخبارات عموماً بھارتی ایجنسی کے خلاف اس طرح متحرک نہیں ہوتے ہیں، جیسے بھارتی اخبارت آئی ایس آئی کے خلاف متحرک ہوئے ہیں۔ چینل پر نشر ہونے والے بیان میں کہاں تک صداقت ہے اور کہاں تک قیاس ہے، اس کی اور حملے کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم ہے۔ پیمرا میں دی جانے والی درخواست پر چینل کو اظہار وجہ کا نوٹس جاری ہوچکا ہے، وہاں وضاحتیں کی جاسکتی ہیں ،بجائے اس کے کہ ملک کے اندر اپنی ہی ایجنسی کے خلاف محاذ کھول دیا جائے۔ جب اندرون ملک ایجنسی کو نشانہ بنایا جائے گا تو ایجنسی بیرون ملک پاکستان دشمنوں کو کس طرح نشانہ بنا سکے گی۔ بلوچستان کے بارے میں وہاں موجود فرنٹیئر کانسٹبلری کے سابق سربراہ میجر جنرل عبید اللہ خٹک تو سپریم کورٹ میں بلوچستان کے انتشار کے حوالے سے اپنے بیان میں وہ سب کہہ چکے ہیں، جسے چینلوں یا اخبارات نے تفصیل سے نشر اور شائع نہیں کیا تھا۔

پاکستان میں آج جو بھی اظہار رائے کی آزادی ہے، صحافت کو آزادی میسر ہے، وہ ماضی میں صحافیوں کی دی جانے والی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ صحافی ایک جانب اپنی تنخواہوں اور سہولتوں کے لئے لڑتے رہے ہیں تو دوسری جانب آزادی¿ اظہار کے لئے ان کی جدو جہد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ آزادی کی اس جدو جہد میں اخبارات کے مالکان نے کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔ ماسوائے ان عامل صحافیوں کے جو بعد میں اخبارات کے مالک بھی بن گئے۔ چینلوں کے مالکان نے اگر کوئی قربانی دی ہو اور کسی کو یاد ہو تو از راہِ مہربانی میری معلومات میں اضافہ کریں۔ پاکستان میں آزادی¿ صحافت یا اظہار کی موجودگی کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، ہر اس اقدام سے اجتناب برتا جائے جو میسر آزادی پر کسی قسم کی قدغن کا سبب بنے۔ کیا امریکہ میں سی آئی اے کو امریکی اخبارات اسی طرح نشانہ بناتے ہیں، جیسے ہمارے ملک میں چینل اور سیاست دان ہر معاملے کو اپنی ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔

کیا بھارت میں وہاں کے ذرائع ابلاغ اپنے خفیہ اداروں کی کارروائیوں کو اسی طرح نشانہ بناتے ہیں ۔ اس میں حکومت بھی اس طرح پوری ذمہ دار ہے کہ کسی بھی واقعہ کی تحقیقات کے بعد اسے داخل دفتر کر دیا گیا اور ذرائع ابلاغ کے حوالے نہیں کیا گیا۔ اگر ایسا کیا جاتا رہا ہوتا تو عوام اور خواص کے ذہنوں میں موجود بہت سارے سوالات کے جواب انہیں میسر ہوجاتے۔ اس ملک میں سازشوں کی تھیوریوں پر کام کرنے والے ہوں یا یقین رکھنے والے، وہ ہر معاملے میں سازش ڈھونڈ لیتے ہیں اور اپنے تئیں، جسے چاہتے ہیں ملوث کر دیتے ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو پاکستان میں امریکہ اور بھارت خصوصیت کے ساتھ چاہتے ہیں۔ ایک ایسا ذہنی انتشار اور خلفشار جس کے نتیجے میں عوام اور حکومت، عوام اور ملک کا دفاع کرنے والی قوتوں ، عوام اور عدلیہ کے درمیان فاصلے پیدا ہو جائیں، تاکہ بوقت ضرورت انہیں کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ جنگوں کا یہ پہلا اصول ہوتا ہے۔

جیو اور آئی ایس آئی کے درمیان تنازعہ کا اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھے گا، لیکن اس کا ایک فائدہ ضرور ہوگا کہ چینلوں کے مالکان اپنی پالیسیوں میں تبدیلی ضرور لائیں گے، حالانکہ مالکان تو سرمایہ کار ہیں، جیسے فلم میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے پاکستانی فلموں کو ڈھیر کر دیا، انہیں غرض نہیں کہ معاشرہ کہاں سے کہاں چلا جائے گا، وہ تو زیادہ سے زیادہ اشتہار چاہتے ہیں۔ پاکستان میں جس طرح چینلوں پر ہر شام ایک عدالت لگائی جاتی ہے ، جس میں زیادہ سے زیادہ ریٹنگ حاصل کرنے کی جستجو میں صحافتی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے اکثر اینکر جو زبان ، بیان ، لہجہ، رویہ اور گفتگو اختیار کرتے ہیں ،اس نے پورے معاشرے کو بھونچال زدہ کر دیا ہے۔ پھر مارننگ شو کے نام پر جس طرح فیشن کے نام پر عریانیت کو فروغ دینا، بھارتی چینلوں پر نشر ہونے والے بعض پروگراموں کا باقاعدگی کے ساتھ نشر ہونا ، غیر اخلاقی اور معیوب اشتہار کا نشر کیا جانا، جو بہن بھائی ایک ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے ، کے سلسلے میں مالکان چینل ٹھنڈے دل و دماغ سے غور ضرور کریں گے، انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ ان پروگراموں کے نتیجے میں پاکستان کے لوگ آزاد خیال تو کیا خاک ہوں گے، بلکہ معاشرہ ایک ایسے خلفشار کا شکار ہو جائے گا جو خاندانوں کو بھسم کرنے کا سبب بنے گا۔ خود پیمرا جو اب تک صرف ایک ایسا محکمہ بنا ہوا ہے، جہاں چینل اور ایف ایم ریڈیو کے لائسنس فروخت کئے جاتے ہیں، اپنے بنائے ہوئے قوانین اور ضابطہ اخلاق پر بھی عمل در آمد کرا سکے گا۔ مالکان کو بھی غور کرنا چاہئے کہ جس آزادی¿ صحافت کا وہ پرچار کر رہے ہیں، اس کی قدر بھی تو کریں۔ یہ سب کچھ کرنا اس لئے نہایت ضروری ہوگاکہ ملک کو اندرونی خلفشار، لا قانونیت اور بے راہ روی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اور سب سے بڑھ کر کسی بھی موقع پر ممکنہ casualties سے بچا جائے۔ ایک لطیفہ ہے کہ سکولوں کے بچوں نے ڈرائیوروں سے کہا کہ گاڑی احتیاط سے چلایا کریں، کیونکہ بچے سڑک سے گزرتے ہیں، بے احتیاطی کی صورت میں اساتذہ کا انتظار کیا کریں۔ کہیں وہ وقت نہ آجائے کہ عامل صحافی بھی چیخ رہے ہوں کہ کارروائی کے لئے مالکان کا انتظار کرو۔  ٭

مزید : کالم