پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کو تبدیل کرنے کی تیاریاں مکمل

پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کو تبدیل کرنے کی تیاریاں مکمل

                 کراچی ( آن لائن) ایک بار پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کو تبدیل کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں تاہم اس بار پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام اس آئین کو جمہوری انداز میں بنائیں گے، ملک بھر میں کھیل کے فروغ کیلیے ریجنز کو کلیدی کردار دیا جائے گا۔ چیئرمین کی نگرانی میں با اختیار کونسل کام کرے گی جس کے اراکین ریجن سے تعلق رکھیں گے، انگلش کاﺅنٹی کی طرز پر ریجن کی ٹیموں کو بورڈ اور اسپانسرز فنڈنگ کریں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکام کا دعویٰ ہے کہ نئے آئین میں ریجن کی ٹیمیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں گی۔2004 میں جاوید برکی ، 2007 میں ڈاکٹر نسیم اشرف اور 2013 میں زکا اشرف کے بعد اب نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کو تبدیل کررہے ہیں۔ تین سابق ادوار میں بھی نیا مسودہ سامنے لایا گیا تھا۔ پاکستان کے دو مشہور قانون دان اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) جمشید علی شاہ اور جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے مسودے کی تیاری کا کام کررہے ہیں اور امکان ہے کہ مسودے کو اگلے دو سے تین ہفتے میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔ اس سال کے آغاز میں سابق چیئرمین ذکاء اشرف نے جس آئین کا مسودہ تیار کیا تھا اور اس کے تحت ذکا ء اشرف چار سال کے لئے چیئر مین بنے تھے اس مسودے کو جمہوری انداز میں لایا جارہا ہے اور نئے آئین میں ملک کے تمام ریجنز کا کرکٹ کے فروغ میں کلیدی کردار ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ آپریشنل معاملات کو خود دیکھ رہا ہے تاہم ہر فیصلے کو لیگل کور دیا جا رہا ہے۔ پی سی بی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس جمشید علی شاہ خود فرسٹ کلاس کرکٹر رہ چکے ہیں تاہم دو نوں قانونی ماہرین کو پی سی بی نے فری ہینڈ دیا ہوا ہے۔ دونوں سابق جج صاحبان نے سب سے پہلے پاکستان کرکٹ کے ڈھانچے کو سمجھا اور پی سی بی سے بریفنگ لے کر نئے آئین کو تیار کیا جارہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ جب آئین کو منظور کر لے گا تو اسے حتمی منظور کے لئے پی سی بی کے سر پر ست اعلی اور وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کیا جائے گا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی