سید علی گیلانی کی رہائشگاہ وصدر دفتر سب جیل قرار دے دیئے گئے

سید علی گیلانی کی رہائشگاہ وصدر دفتر سب جیل قرار دے دیئے گئے

سرینگر(کے پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی رہائش گاہ اور صدر دفتر کو سب جیل قرار دینے کے بعد پولیس نے ان کے ٹیلیفون اور موبائیل فون کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی اور دفتر میں قیدی بنائے گئے حریت راہنماوں اور آفس عملے کے باہر رابطہ کرنے پر سختی کے ساتھ قدغن لگادی گئی۔ پولیس اہلکاروں نے دوبارہ دفتر کی تلاشی لی اور مطلع کیا کہ یہاں غیر معینہ عرصے تک تمام ضوابط اور پابندیاں لاگو رہیں گی، جو ایک عام جیل میں لاگو ہوتی ہیں اور اگلے احکامات تک یہاں کوئی بھی فرد بشر اندر سے باہر یا باہر سے اندر نہیں آجاسکتا ہے۔ حریت ترجمان ایاز اکبر نے کہا کہ ہمہامہ پولیس تھانے کے ایس ایچ او اتوار کی صبح اپنے عملے کے ساتھ حریت دفتر پر آئے اور گیلانی کی رہائش گاہ اور صدر دفاتر کو سب جیل قرار دئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تا حکم ثانی یہاں ٹیلیفون کے استعمال پر بھی پابندی عائد رہے گی اور یہاں قیدی بنائے گئے لوگ باہر کی دنیا کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ رکھ سکیں گے اور نہ وہ کسی ذاتی ضرورت کے لئے بھی دفتر سے باہر قدم رکھ سکتے ہیں۔ بیان کے مطابق صدر دفاتر میں حریت ترجمان ایاز اکبر، تحریک حریت راہنماوں پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین اور محمد یوسف مجاہد کے علاوہ ایک درجن کے لگ بھگ آفس عملے کو قید کرلیا گیا ہے اور ان کے نقل وحمل پر مکمل طور پابندی لگادی گئی ہے جبکہ گیلانی کے ساتھ ملاقات کی غرض سے آئے کسی بھی شخص کو دفتر کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، یہاں تک کہ ان کے قریبی رشتہ داروں پر بھی اسطرح کی پابندی لگادی گئی ہے۔

مزید : عالمی منظر