قائیمہ کمیٹی کااستاتذہ کو8 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر اظہار تشویش

قائیمہ کمیٹی کااستاتذہ کو8 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر اظہار تشویش

                  اسلام آباد(آئی این پی )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت ہائر ایجوکیشن نے غیر رسمی سکولوں کے اساتذہ کو 8 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے اور ماہانہ تنخواہ 8 ہزار سے 5 ہزار کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے پر متفقہ طور پر قومی اسمبلی میں توجہ دلاﺅ نوٹس لانے کا فیصلہ کر لیا ‘ کمیٹی نے اساتذہ کی تنخواہ 5 ہزار مقرر کرنے کے حکومتی فیصلے کو اساتذہ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت غیر رسمی سکولز کے اساتذہ کی تنخواہ میں کٹوتی کے فیصلہ پر نظر ثانی کرے ‘ کمیٹی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے سب کیمپس بنانے پر سرگودھا ‘ گجرات اور بہاولپور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ سیکرٹری وزارت تعلیم و تربیت نے کمیٹی کو بتایا کہ اساتذہ کو انسداد پولیو اور الیکشن مہم میں لگانے سے ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ جب تک تعلیمی شعبہ میں حقیقی معنوں میں اصلاحات نہیں ہونگی تب تک سکول سے باہر کروڑوں بچوں کو تعلیم جیسے زیور سے آاستہ کرنا ایک خواب ہی رہے گا جبکہ چیئرمین ایچ ای سی نے کمیٹی کو بتایا کہ صدر مملکت کی ہدایت پر ایچ ای سی وفاقی اردو یونیورسٹی میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر 4 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ۔ پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس گلفراز خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی سیکرٹری وزارت تعلیم و تربیت محمد احسن راجہ ‘ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد سمیت وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت نے وزارت کے امور اور رواں مالی سال کے جاری منصو بوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں حکومتوں نے تعلیم پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے ملک میں کروروں کی تعداد میں بچے سکول سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انقلابی انداز میں تعلیمی شعبہ کی اصلاحات نہیں کی جائیں گی تب تک سکولوں سے غیر حاضری بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ایک خواب ہی رہے گا۔ وزارت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں 12 ہزار 2014ءغیر رسمی سکولوں کے ذریعے 5 لاکھ 75 ہزار بچوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے جبکہ غیر رسمی سکولوں میں پڑھانے والے ٹیچرز کو گزشتہ 8 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ جبکہ حکومت کی جانب سے ٹیچرز کی تنخواہ میں 3 ہزار روپے تک کی کمی کر دیی ہے۔ جس پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو ملک میں کروڑوں بچے سکول سے باہر ہیں اگر غیر رسمی سکول کے ذریعے بچوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے تو اس میں ٹیچرز کو تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ کمیٹی نے ٹیچرز کی تنخواہیں 8 ہزار سے کم کر کے 5 ہزار کرنے پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنخواہ اساتذہ کے شعبہ کی توہین ہے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر اس معاملہ پر ایوان میں توجہ دلاﺅ نوٹس لانے کا فیصلہ کیا۔ سیکرٹری وزارت محمد حسن راجہ نے کہا کہ ملک بھرمیں پولیو اور الیکشن مہم سمیت دیگر معاملات میں حکومتیں اساتذہ کی خدمات حاصل کرتی ہین جس سے اساتذہ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ کمیٹی نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ‘ ‘ یونیورسٹی آف گجرات اور سرگودھا یونیورسٹی میں پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے ذریعے ذیلی کیمپس بنانے کی رپورٹس پر تینوں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 4 سے 6 سالوں سے وزارت خزانہ کی جانب سے ایچ ای سی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کردہ فنڈز جاری نہیں ہوئے اور اب بھی 22 ارب سے زائد کی خطیر رقم زیر التواءہے۔ جس کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ موجودہ حکومت ایچ ای سی کے بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے معاملہ پر صدر مملکت کی ہدایت پر 4 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ وہ سکالرز جو ایچ ای سی کی اسکالر شپس پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے اور واپس ہیں آئے ان کو واپس لانے کے لئے ایچ ای سی سے اقدامات کر رہی ہے

 

مزید : علاقائی