شہبازشریف کا پرجوش اور مدلل خطاب ، ضرب الامثال کے حوالے اور اشعار بھی پڑھے

شہبازشریف کا پرجوش اور مدلل خطاب ، ضرب الامثال کے حوالے اور اشعار بھی پڑھے

لاہور(پ ر)وزےراعلیٰ محمدشہبازشرےف نے پہلے اووسیز پاکستانی کنونشن کے شرکاءسے پرجوش او ر مدلل انداز میں خطاب کیا-انہوںنے اپنے بیرون ملک قیام کے دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہاکہ جب وہ کینسر کے علاج کے لئے امریکہ میں مقیم تھے تو بیرون ملک پاکستانیوں نے انہیں گھر جیسا ماحول فراہم کیا- وزیراعلیٰ نے اپنے کینسر کے مرض کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ2003میں امریکہ کے شہر نیویارک میں میری سرجری ہوئی-اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صحت یاب ہوا - اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ شاید اﷲ تعالیٰ نے پاکستانی عوام کی خدمت کے لئے نئی زندگی عطا کی ہے اور جب 2010 میں جنوبی پنجاب کے اضلاع میں بد ترین سیلاب آیا تو اس خادم نے دن رات اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی خدمت کی جس سے میرا ےہ یقین مزید پختہ ہوگیا کہ میری زندگی صرف اور صرف عوام کی خدمت کے لئے وقف ہے- اسی طرح ڈینگی کے بدترین حملے کے دوران بھی آپ کا ےہ خادم اور پنجاب کی تمام مشینری نے شب و روز ایک کر کے اس وباءکو شکست دی حالانکہ جس دن سری لنکن ماہرین نے مجھے ےہ بتایا کہ ڈینگی حملے میں مرنے والوں کی تعداد 20ہزار تک ہو سکتی ہے تو میں اس رات سو نہیں سکا- لیکن اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم اور ہماری محنت سے ڈینگی پر موثر انداز سے قابو پایا گیا-انہوںنے کہاکہ غریب اور یتیم بچوں کے لئے دانش سکولوں جیسے اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں کا قیام ہویا 11ماہ کی قلیل مدت میں میٹروبس پراجیکٹ کی تکمیل ،ےہ سب عوام کی خدمت کی مثالیں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے نئی زندگی اسی عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے دی ہے اور جب تک جان میں جان ہے میری زندگی عوام کے لئے ہی وقف رہے گی-وزیراعلیٰ نے توانائی بحران اور نندی پور پاو رپراجیکٹ پر بد ترین مجرمانہ غفلت پر سابق حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق دور میں قومی اہمیت کے اس اہم منصوبے کو لالچ اور کرپشن کی نذر کر دیا گیاتھا لیکن ہماری حکومت نے آتے ہی اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا-اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ےہ شعر پڑھا:

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

     وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں مختلف ضرب الامثال کے حوالے دئےے اور اشعار بھی پڑھے جس پر ہال میں موجود لوگوں نے بھرپور تالیاں بجائیں-وزیراعلیٰ نے ملک میں دھونس دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اب ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ والا معاملہ چل رہاہے-ایٹمی طاقت اور کشکول کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کہا کہ کبھی ”آگ اور پانی بھی اکٹھے ہوئے ہیں“ ےا ”شیر اور بکری نے ایک گھاٹ پر پانی پیا ہے“ -لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن مینجمنٹ سسٹم کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے پٹواریوں اور تحصیلداروں کی کرپشن کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ” ڈنڈا پیر اے وگڑیاں تگڑیاں دا“-انہوںنے پاکستان کو عظیم ملک بنانے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ےہ اشعار پڑھے:

جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا

وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

ایک موقع پر وزیراعلیٰ نے ےہ اشعار بھی پڑھے:-

خوشبوﺅں کا اک نگر آباد ہونا چاہیئے

اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہیئے

ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم

جگنوﺅں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئیے

 

مزید : علاقائی