حکومت اور فوج کا اتفاق سے آگے بڑھنے کا فیصلہ درست ہے ،سیاستدان

حکومت اور فوج کا اتفاق سے آگے بڑھنے کا فیصلہ درست ہے ،سیاستدان

لاہور( انوسٹی گیشن سیل) شدت پسندوں کیخلاف کاروائی ضرورہونی چاہیے لیکن امن کے حامیوں سے بات چیت کا سلسلہ منقطع نہیں کرنا چاہیے۔ قوم کو سول اور عسکری قیادت کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیں اور سنجیدہ فیصلے اور درست سمت کا تعین کرتے ہوئے حکومت اور فوج کا اتفاق سے آگے بڑھنے کا فیصلہ درست ہے۔مسلم لیگ (ن)کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے کہاکہ حکومت اور فوج ملک کو بحرانوںسے نکالنے میں سنجیدہ ہے۔دہشتگردی کے خاتمے کےلئے سول اور ملٹری قیادت جو بھی فیصلے کر رہی ہے وہ ملکی مفاد میں ہیں ۔تمام کام وقت پر کئے جا رہے ہیں کیونکہ سوچ سمجھ کر اتفاق سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے کہاکہ شدت پسندوں کیخلاف آپریشن اور امن پسندوں کے ساتھ بات چیت ختم نہیں کرنی چاہیے۔سول اور عسکری قیادت ملک کو بحرانوں سے نکالنے کےلئے بہتر پالیسیاں لا سکتی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما رائے حسن نواز نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات میں تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کو مینڈیٹ دیا ہے اب اعتراض درست نہیں بنتا۔فوج اور حکومت کا اتفاق سے آگے بڑھنا خوش آئند ہے اور جو لوگ امن کے خلاف ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما ناہید خان نے کہا کہ قیام امن کے حوالے سے افواج پاکستان کا تمام تر حکمت عملی میں بھر پو کردار ہونا چاہیے کیونکہ جب تک فوج اور حکومت ایک صفحے پر نہیں ہو ںگی قیام امن کو کوششیں خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہونگی۔سول اور عسکری قیادت نے مل کر جو فیصلہ کیا ہے قوم کو ساتھ دینا چاہیے۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات امیرالعظیم نے کہاکہ لڑائی مسائل کا حل نہیں ،مذاکرات کو جاری رکھنا چاہیے۔آپریشن سے مزید حالات خراب ہو سکتے ہیں بات چیت ملک میںامن کی ضامن ہو سکتی ہے۔

سیاستدان

مزید : صفحہ آخر