حکومت بدل گئی لیکن بجلی نہ آئی

حکومت بدل گئی لیکن بجلی نہ آئی
حکومت بدل گئی لیکن بجلی نہ آئی

  

الیکشن سے پہلے ن لیگ کہا کرتی تھی کہ چھ ماہ میں بجلی آجائے گی لیکن حکومت کو بدلے بھی ایک سال گزر گیا لیکن بجلی نہ آئی۔ پاکستان یوں تو بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے جن میں دہشت گردی اور توانائی کا بحران پیش پیش ہیں جبکہ یہ مسائل حکومت کی اولین ترجیحات میں بھی شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن نے اقتدار میں آنے کے بعد جہاں بجلی کے نئے منصوبوں کا آغاز کیا ہے وہیں بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف کارروائیاں بھی زور و شور سے جاری ہیں اور ملک بھر میں نادہندگان کے کنکشن منقطع کئے جا رہے ہیں۔

وزیر مملکت عابد شیر علی کی ہدایات پر تازہ ترین کارروائیوں کے دوران بڑے بڑے ادارے ’ننگے‘ ہو گئے ہیں اور انکشاف ہوا ہے کہ پارلیمینٹ لاجز، سپریم کورٹ سمیت تقریباً تمام سرکاری وزارتیں نادہندہ ہیں۔ بات یہیں پر ہی ختم نہیں ہو جاتی بلکہ بجلی چوری اور نادہندگان کا شور مچانے والے عابد شیر علی کی وزارت بھی نادہندگان میں شامل ہے جس پر اس کے متعدد دفاتر کی بجلی بھی منقطع کر دی گئی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے کارروائی کے دوران جہاں سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاﺅس، چیف جسٹس پاکستان کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ لاجز، صدر سیکریٹریٹ، پی ڈبلیو ڈی، صدر سیکریٹریٹ، سندھ ہاﺅس، موٹروے پولیس، وزارت پٹرولیم اور الیکشن کمیشن 67 وفاقی اداروں کے بجلی کے کنکشن منقطع کئے ہیں وہیں عابد شیر علی کی وزارت سے بھی بجلی کے کنکشن منقطع کر دیئے ہیں۔

حکومت کا یہ اقدام قابل ستائش ہے اور بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف یہ کارروائیاں بھی بلا امتیاز اور بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہنی چاہئیں اور کسی بھی ادارے کو اس میں رکاٹ نہیں بننا چاہئے۔ حالیہ کارروائیوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ بجلی کا بل نہیں ادا کرتا تھا جبکہ عوام سے بجلی کے بل ’بمعہ ٹیکس‘ باقاعدگی سے وصول کئے جاتے رہے ہیں اور کئے جا رہے ہیں۔ وہ سرکاری ادارے جہاں لوڈشیڈنگ کا ’جن‘ بھول کر بھی نہیں بھٹکتا اور بجلی اپنی پوری رفتار سے رواں دواں رہتی ہے، سب کے سب نادہندہ ہیں۔

غریب عوام جنہیں 24گھنٹوں میں سے بمشکل 12 گھنٹے بجلی دیکھنا نصیب ہوتی ہے ان سے بل بھی باقاعدگی سے وصول کئے جاتے ہیں اور ایسے ایسے ٹیکس بھی عائد کئے جاتے ہیں جن کے بارے میں کوئی عام آدمی شائد ہی جانتا ہو، بجلی آئے نہ آئے، استعمال ہو نہ ہو لیکن بل ہر ماہ باقاعدگی سے ’رخت سفر‘ باندھتا ہے اور مکمل تیاری کے ساتھ عوام کے ہاں پہنچ جاتا ہے کیونکہ بجلی کا بل ادا کرنا بہرحال ہر ’شہری‘ کی ذمہ داری ہے۔

گرمیوں کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے جو آنے والے دنوں میں ممکنہ طور پر مزید بڑھ سکتا ہے، ایسی صورتحال میں جہاں شارٹ فال میں اضافہ ہو گا وہیں مظاہروں اور ریلیوں سے بھی سڑکوں کی رونقیں بڑھیں گی لیکن اس کے باوجود نہ تو لوڈشیڈنگ میں کمی ہو گی اور نہ ہی بجلی کی قیمتوں میں لیکن عوام کو بل ہر صورت ادا کرنا ہو گا کیونکہ بل ادا کرنا بہرحال ہر ’شہری‘ کی ذمہ داری ہے۔

یہاں ’شہری‘ سے مراد صرف اور صرف وہ لوگ ہیں جن کا نہ تو کسی سیاسی گھرانے سے تعلق ہے اور نہ ہی بیوروکریسی سے بلکہ یہ وہ غریب عوام ہیں جو دو وقت کی روٹی بھی بمشکل پوری کرتے ہیں کیونکہ وزارت پانی و بجلی کی حالیہ کارروائیوں سے یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ حکمرانوں کو جہاں بہت سی چیزوں سے استثنیٰ حاصل ہے وہیں وہ بجلی کے بل ادا کرنے سے بھی ’مستثنیٰ‘ ہو گئے ہیں اس لئے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے لائن لاسز کو کم کرنے اور توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے ’عوام‘ کو بل ضرور ادا کرنا ہو گا کیونکہ بجلی آئے یا نہ آئے، بل ادا کرنا ہر ’شہری‘ کی ذمہ داری ہے۔

مزید :

بلاگ -