موٹی کو بھی موٹا نہ کہو

موٹی کو بھی موٹا نہ کہو
موٹی کو بھی موٹا نہ کہو

  

نیو یارک(نیوز ڈیسک) آپ عام طور پر سنتے ہوں گے کہ والدین، شوہر بیوی، دوست یا  ہم جماعت دوسروں کو  'موٹا' بولتے ہوں؟ اب ایسا  بولنے سے پہلے ذرا ایک بار سوچ لیں کیونکہ سائنس کے مطابق نوجوان لڑکیوں کو موٹا بولنے سے وہ مزید  موٹی ہو جاتی ہیں.ایک مقالے  کے مطابق، اگر  کسی  لڑکی کو  10 سال  کی عمر میں  بہت زیادہ موٹا کہا جائے  ہے تو  19 سال کی عمر میں اس کے موٹا ہونے کے امکانات میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے. کیلیفورنیا یونیورسٹی، لاس اینجلس کی ماہر  نفسیات پروفیسر جینٹ ٹومیاما کا کہنا ہے  کہ ریسرچ نے ثابت کیا ہے کسی پر بھی موٹے ہو نے کا لیبل لگانے  سے دہائیوں بعد اس کا برا اثر دکھائی دیتا ہے.انہوں نے کہا، 'اگر ہم حقیقی وزن، آمدنی اور نسل  کے اعداد و شمار کو ہٹا بھی دیتے ہیں تو بھی جوانی میں بچپن کے طعنوں کا  اثر جوں کا توں رہتا ہے.' تحقیق   میں 1،213 افریقی ، امریکی لڑکیوں اور 1،166 سفید لڑکیوں سے سوالات کیے گئے ، اس تحقیق میں ثابت ہوا کہ جن لڑکیوں پر بچپن میں  گھر کے افراد کی جانب سے موٹاپے کا لیبل لگایا جائے  ان کے بڑے ہو کر موٹا ہونے کے امکانات 1.62  گنا زیادہ ہوتے ہیں جبکہ جن لڑکیوں کو گھر کے لوگوں کے علاوہ لوگ موٹا کہہ کر بلائیں ، ان کے موٹا ہونے کے امکانات عام لڑکیوں کے مقابلے میں 1.4 گنا زیادہ ہوتے ہیں.  ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ جن لڑکیوں میں بچپن میں موٹاپے کے اثرات نظر آئیں انہیں موٹا کہہ کر بلانے کی بجائے صحت اور صحت مند غذا کے موضوع پر بات کی جانی چاہیے .

مزید : ڈیلی بائیٹس