پاک چین دوستی اور چینی صدر کا دورۂ پاکستان

پاک چین دوستی اور چینی صدر کا دورۂ پاکستان
پاک چین دوستی اور چینی صدر کا دورۂ پاکستان

  

چین کے صدر شی چن پنگ اپنے وفد کے ہمراہ 20اپریل کو دو روزہ دورہ پر پاکستان پہنچے جہاں ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا اور اس موقع پر صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف مع وفاقی کابینہ کے اراکین ، چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تینوں مسلح افواج کے سربراہان وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ودیگر اعلی حکام اُن کے استقبال کے لئے نور خان ایربیس پر موجود تھے۔ چینی صدر کا طیارہ جب پاکستان کی حدود میں داخل ہوا تو پاک فضائیہ کے آٹھ جے ایف 17تھنڈر طیاروں نے سلامی دی اور معزز مہمان کے طیارے کو اپنے محفوظ حصارمیں لے لیا، جس شاندار پیمانے پر چینی صدر کا استقبال کیا گیا وہ دنیا بھر کے معروف ذرائع ابلا غ پر نشر کیا گیا۔ یہ پُرجوش استقبال اِس حقیقت کا غماز ہے کہ پاک چین دوستی واقعی ہمالیہ سے اونچی سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے پاکستان اور چائنہ دودوست ہمسایہ ممالک ہیں جن کی دوستی کی بنیاد عشروں پُرانی ہے اور ہر مشکل اور آزمائش کی گھڑی میں اِن دونوں ملکوں نے اپنی دوستی کو نبھایا ہے۔ چینی صدر کا حالیہ دورۂ پاکستان اور اِس دوران طے پانے والے 50سے زائد معاہدے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور پاکستان کے لئے تقویت کا باعث ہیں۔

چینی صدر کے دورہ کے دوران 46 ارب ڈالر سے زائد منصوبوں کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ اِن منصوبوں میں سب سے اہم کا شغر سے گوادر تک اقتصادی راہداری کا منصوبہ ہے جس کے تحت خنجراب سرحد سے لے کر گوادر کی بندر گاہ تک سڑکوں اور ریلوے لائن کی تعمیر ، بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، مری میں ٹرانسمیشن لائن کی اپ گریڈیشن کراچی لاہو رموٹر وے منصوبے شامل ہیں۔وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان اور چین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم نوازشریف نے کی جبکہ چینی وفد کی قیادت صدر شی چن پنگ نے کی۔ اِن مذاکرات کے بعد ہونے والی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف اور صدر شی چن پنگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے آٹھ منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا، جبکہ چھ منصوبوں پر پہلے ہی سے کام شروع ہو چکا ہے۔ اِن منصوبوں میں 1320میگا واٹ کا پورٹ قاسِم کول پاور پلانٹ 660میگا واٹ کا حبکو کول پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ کا ایس ای سی تھر کول پاور پلانٹ، 660 میگاواٹ کا اینگرو تھر کول پاور پلانٹ، 870 میگاواٹ کا سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، 720میگاواٹ کا کروٹ ہائیڈ رو پراجیکٹ، 100میگا واٹ کا یوای بی ونڈ پراجیکٹ 50میگاواٹ کا سچل ونڈ پراجیکٹ ، 1000 میگاواٹ کا قائداعظم سولر پارک 1320 میگا واٹ کا ساہیوال کول پاور پلانٹ اور 300میگاواٹ کا سالٹ رینج کول پاور پلانٹ شامل ہیں۔

چائنہ کی پریس، ریڈیو، فلم اور ٹیلی ویژن کی سٹیٹ ایڈمنسٹریشن اور وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان میں باہمی تعاون کے معاہدے کئے گئے۔اس کے علاوہ گوادر نواب شاہ ایل این جی ٹرمینل، پائپ لائن پراجیکٹ کے معاہدوں پر بھی دستخط کئے گئے۔باہمی تعاون کے معاہدوں میں چائنہ ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور حبیب بینک لمیٹڈ کے پی سی ای سی اور واپڈا پی پی آئی بی اور چائنہ تھری گورج کارپوریشن کے درمیان ہائیڈرو پروجیکٹ اور سلک روڈ فنڈکے ترقیاتی اور پرائیویٹ ہائیڈرو پروجیکٹ کے منصوبوں پر بھی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔پاک چائنہ اکنامک کاریڈور کے تحت ورلڈ کلاس بندرگاہ،ایئرپورٹ،ہائی ویز، ریلویز، فائبر آپٹک کیبل، آئل اور گیس پائپ لائن کے پراجیکٹ وجود میں آئیں گے۔

پاک چائنہ اکنامک کاریڈور کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تین سال میں 20بلین ڈالر کی باہمی تجارت بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔دونوں ممالک کے درمیان پاک چائنہ فری ٹریڈ کے معاہدے پر بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ دونوں ممالک نے آپس میں ملکی دفاع کے ساتھ ساتھ نیو کلیئر انرجی کے شعبے میں بھی تعاون جاری رکھنے کا عزم کیا۔چائنہ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بھی سراہا اور اس کے خاتمے کی کوششوں کے لئے مدد کی بھی یقین دہانی کرائی۔

گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اِس خطے میں جو سانحات وقوع پذیر ہوئے انہوں نے پاکستان کی ترقی کے عمل کو بہُت برُی طرح متاثر کیا اور پاکستان کو معاشی، اقتصادی اومعاشرتی مسائل سے دو چار کیا۔ اِن مسائل میں معاشی بدحالی، توانائی کا بحران اور دہشت گردی کے مسائل سرفہرست ہیں۔ پاکستان اِن تمام مسائل سے نمٹنے کی حتی المقدو رسعی کر رہا ہے۔ اِن حالات میں پاکستان کو جہاں اور دوسرے دوست ممالک کا تعاون حاصل ہے اُن میں چین کا تعاون قابل ذکر اور قابل تعریف ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے اکثر معاہدے توانائی کے بحران کو دور کرنے کے لئے ہیں۔ برقی توانائی کی فراوانی معاشی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ثابت ہو گی۔

چینی صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ۔ اِس خطاب میں اور باتوں کے علاوہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے موثر کردار کو سراہا اور پاکستان کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو ناصرف تسلیم کیا، بلکہ عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اِن قربانیوں کو تسلیم کریں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چینی صدر کی جانب سے کی جانے والی حمایت پاکستان کے لئے بلاشبہ تقویت کا باعث ہے۔ اِس علاقے کے مسائل پر پاکستان کے موقف کو چینی صدر نے اپنا موقف قرار دیا۔ اِس خطے کی خو شحالی یہاں کے امن سے وابستہ ہے اور امن تب ہی بحال ہو سکتا ہے جب دھمکی آمیز رویہ رکھنے والوں کو امن کی طرف آنے پر مجبور کر دیا جائے اِس ہدف کو حاصِل کرنے کے لئے پاک، چین دوستی ایک یقینی جز و ہے۔ جو بشکر اللہ ہمیں حاصل ہیں۔

مزید :

کالم -