امریکہ کی بمباری نے بھارت کا پردہ چاک کر دیا

امریکہ کی بمباری نے بھارت کا پردہ چاک کر دیا

  

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا ہے ، افغانستان میں امریکہ کے طاقتور ترین بم حملے میں ’’را‘‘کے 13ایجنٹوں کی ہلاکت بھارت کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت ہے،عالمی برادری بھارت کی تخریبی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کا نوٹس لے۔کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے رضا کارانہ طور پر خود کو فورسز کے حوالے کیا ہے اس نے بھی افغانستان میں ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی موجودگی، دہشت گردوں کی سرپرستی اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی ثابت ہو چکی ہے۔ افغان سرزمین سے بھارتی ایجنٹوں کی پاکستان کے اندر مداخلت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا، بھارتی ہندو دہشت گرد تنظیم نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے، بین الاقوامی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف مظالم سے روکے۔ بھارت میں مذہبی تہواروں پر ہونے والی پندرہ تعطیلات کی منسوخی اقلیتوں کی جانب ناروا سلوک کی غّماز ہے،دہشت گرد خالد خراسانی نے بھارت میں علاج کرایا۔

امریکہ نے حال ہی میں افغانستان پر طاقتور ترین بم پھینکا جسے بموں کی ماں کہا گیا اس میں اگر ’’را‘‘ کے13ایجنٹ ہلاک ہوئے ہیں تو یہ سوال بہت بروقت ہے کہ بم تو دہشت گردوں کے ٹھکانے پر پھینکا گیا تھا،جن کے بارے میں امریکہ کو اطلاعات تھیں کہ وہ افغانستان میں نیٹو فورسز اور افغان نیشنل آرمی کے افراد کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے تھے،لیکن دہشت گردوں کے اِس کیمپ میں بھارتی ایجنٹوں کی موجودگی بہت سے سوال کھڑے کر دیتی ہے، پہلا سوال تو یہی ہے کہ ’’را‘‘ کے اِن ایجنٹوں کا افغانستان میں مشن کیا تھا، افغانستان کے ساتھ تو بھارت دوستی کا دم بھرتا ہے، دکھاوے اور نمائش کے لئے وہاں بہت سے ایسے فلاحی منصوبے بھی شروع کئے گئے ہیں، جنہیں دیکھ کر سادہ لوح افغان عوام یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے عوام کے ساتھ بھارت کو بڑی محبت ہے، افغان طلباء کو بھارتی تعلیمی اداروں میں داخلہ بھی دیا جاتا ہے۔اِس وقت افغان حکومت میں جو لوگ بھارتی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں انہوں نے بھارت ہی میں تعلیم پائی ہے۔

اتنے اچھے تعلقات کی وجہ سے یہ تصور تو محال ہے کہ ’’را‘‘ کے ایجنٹ افغانستان میں کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہوں گے، جو افغانستان کے خلاف ہو گی، لامحالہ وہ کوئی نہ کوئی ایسا کام ہی کر رہے ہوں گے، جو کسی دوسرے مُلک کے خلاف ہو۔ یہ دوسرا مُلک پاکستان کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا، کیونکہ جو دہشت گرد افغان سرحد کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں وہ بھارت کے ہی تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔کالعدم طالبان تنظیم کے سابق ترجمان نے بھی اِس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اُس کے زخمیوں کا بھارت میں علاج کرایا جاتا ہے،مالی امداد بھی دی جاتی ہے، چونکہ افغان سرحد سے دہشت گردوں کو پاکستان بھیجنا آسان کام تھا، اِس لئے بھارت نے یہی روٹ اپنایا، اگر افغانستان پر حملے کی وجہ سے ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی ہلاکت نہ ہوتی تو اِس معاملے پر پردہ پڑا رہتا،لیکن اب بھارت کا پردہ چاک ہوا ہے تو پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ معاملہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ اٹھائے اور ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی ہلاکت کے معاملے کو بطورِ ثبوت پیش کرے!

پاک افغان سرحد پر آمدو رفت کو دستاویزی بنانے پر پاکستان اِسی لئے زور دیتا رہا ہے کہ اِسی علاقے سے دہشت گرد آتے جاتے تھے، بارڈر مینجمنٹ کی بہتری کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ دہشت گردوں کو چیک کرنے میں آسانی رہے گی، جن لوگوں کے پاس سفری دستاویزات ہوں گی اب وہی افغانستان آ جا سکیں گے، پاکستان افغانستان کو بھی یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ صرف پاکستان کے مفاد میں ہی نہیں، افغانستان کے بھی فائدے میں ہے، کیونکہ اگر پاکستان سے بھی مشکوک لوگ افغانستان جانے کی کوشش کریں گے تو پکڑے جائیں گے۔ سابق طالبان ترجمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان میں جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی تو وہ فرار ہو کر افغانستان چلے گئے تھے، اِس سلسلے کو روکنے اور اِس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی سربراہی میں افغانستان کا دورہ کر رہا ہے، وفد نے وزیر دفاع اورآرمی چیف سے ملاقاتیں کی ہیں اور مزار شریف حملے میں جانی نقصان پر تعزیت بھی کی ہے۔ وفد نے افغان حکام کو زخمیوں کے پاکستان میں علاج کی پیشکش بھی کی ہے۔ فوجی وفد نے افغان حکام کو بتایا کہ سرحد کی اپنی طرف بھرپور کنٹرول حاصل کر لیاگیاہے۔ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں اُنہیں ضرور شکست دیں گے۔ افغان حکام اگر پاکستان کے ساتھ تعاون کریں تو دونوں ملک مل کر سرحد کی بہتر مینجمنٹ کر سکتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سرحد سے متصل علاقوں میں ہیں یہاں بھی اگر مشترکہ کارروائی کی جائے تو اِس سے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں،دونوں مُلکوں کو دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے زبردست نقصان اٹھانا پڑتا ہے اگر انٹیلی جنس شیئرنگ کے بعد مشترکہ آپریشن کیا جائے تو اس کا لازماً مثبت نتیجہ نکلے گا۔

مزید :

اداریہ -