دو خوشیاں، ٹیسٹ میں فتح اور بِگ تھری کا خاتمہ!

دو خوشیاں، ٹیسٹ میں فتح اور بِگ تھری کا خاتمہ!

  

ویسٹ انڈیز (جزائر غرب الہند) کی کرکٹ ٹیم (کمزور ہی سہی) سے پہلا ٹیسٹ میچ جیت لینے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی خبر دہری خوشی کا باعث بن گئی ہے۔ ویسٹ انڈیز میں پاکستان کے باؤلنگ اٹیک کا ردھم میں آ جانا بڑی اہم بات ہے کہ جیت سے پہلے تک چیف کوچ بھی محمد عامر اور وہاب ریاض کے بارے میں مایوسی کا اظہار کر چکے تھے، جبکہ یاسر شاہ کے لئے یہ دورہ اُن کے کیریئر کے لئے بہت اہم تھا۔ یہ بہتر ہُوا کہ محمد عامر اور یاسر شاہ کا ردھم واپس آیا اور اُن کی گیندوں میں سوئنگ اور بریک ہی اچھی اور قابلِ تعریف نہیں ہوئی، بلکہ خود اُن کی طرف سے بھی لائن و لینتھ کا بہت خیال رکھا گیا۔اُدھر آئی سی سی کے اجلاس میں بھارت کی تمام کوشش اور سازش ناکام ہوگئی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر شہریار خان کی سفارتی مہارت کام آ گئی،جنہوں نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ساتھ ملا کر لابنگ کی اور اجلاس میں بِگ تھری کا خاتمہ کر کے بھارت کو شکستِ فاش سے دوچار کیا کہ اجلاس میں مالی امور میں تبدیلیوں کے علاوہ آئین میں تبدیلی کے لئے رائے شماری پر بھی بھارتی موقف کو ہار کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں فیصلوں میں بھارت اکیلا نظر آیا،صرف ایک ترمیم میں سری لنکا نے ساتھ دیا،جس میں8-2 سے شکست ہوئی، جبکہ دوسری رائے شماری میں اسے9-1 سے خفت کا سامنا کرنا پڑا اور یوں اب کرکٹ پر بھارتی اجارہ داری ختم ہو گئی۔ جون میں فیصلوں کی توثیق کے بعد عملدرآمد شروع ہو جائے گا، بھارت نے ماضی میں لابنگ کر کے ٹیسٹ کرکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کروایا اور بِگ تھری کے تحت آسٹریلیا اور انگلینڈ کے علاوہ خود کو درجہ اول قرار دیا تھا، باقی ممالک درجہ دوم میں شمار ہو گئے، پاکستان اِس کی مخالفت کرتا چلا آ رہا تھا، اب آسٹریلیا اور انگلینڈ نے جو خود بھی بِگ تھری کا حصہ ہیں ، نے ساتھ دیا اور یوں ایک زبردست کامیابی ملی۔ اب بھارت کو 280 ملین ڈالرز کا نقصان ہو گا، جبکہ دوسرے ممالک بہتر طور پر مستفید ہوں گے۔ بِگ تھری کی صورت میں بھارت کو570ملین ڈالرز ملنا تھے،لیکن اب293ملین ڈالر ملیں گے۔

یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ والے تِلمِلا رہے ہیں، حتیٰ کہ آئی سی سی کے بھارتی چیئرمین بھی بوکھلا گئے ہیں، بھارتی نمائندے کے مطابق وہ یہ معاملہ اپنے بورڈ کی جنرل کونسل میں لے کر جائیں گے اور بھارت جون میں ہونے والے چیمپئن ٹرافی کے میچوں کا بائیکاٹ بھی کر سکتا ہے۔ بھارتی زعماء اب جو بھی کہیں یا جتنا بھی غصہ کریں، فیصلہ ہونا تھا ہو گیا اور اب بھارت کی اجارہ داری نہیں رہی،اِس لئے اسے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرنا ہو گا کہ یہی اصول ہے پاکستان بورڈ نے بھی تو بِگ تھری کا فیصلہ مان کر مالی نقصان اٹھایا، کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا ہی مفید ہے اور بھارت کو اب بھی عقل کرنا چاہئے ورنہ اکیلا تو رہ گیا ہے بالکل ہی تنہا ہو جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان، کرکٹ کے شائقین اور قوم مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ایک مُنتقم مزاج اور سازشی مُلک کے بورڈ کو شکست ہوئی۔ اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو پالیسیاں مزید بہتر بنانا ہوں گی۔

مزید :

اداریہ -