’’آوازِ دوست‘‘ گم ہو گئی!

’’آوازِ دوست‘‘ گم ہو گئی!
’’آوازِ دوست‘‘ گم ہو گئی!

  

’’آوازِدوست‘‘گُم ہو گئی، کہیں مُوت کی عمیق وادیوں میں کھو گئی۔مختار مسعود چلے گئے!۔۔۔ایک صاحبِ طرز ادیب، ایک خوش اخلاق، خوش گفتار، خوش لباس، خوش اَطوار، خوش نُما،خوش نویس، معاملہ فہم، زیرک بیورو کریٹ سے شرافت ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئی۔ وہ شریف ابنِ شریف نہیں تھے، ادیب ابنِ ادیب تھے، دانشور ابنِ دانشور تھے۔ ان کے والدِ گرامی شیخ عطاء اللہ معاشیات کے لائق و فائق پروفیسر ہی نہیں، صاحبِ طرز ادیب بھی تھے، علیگ بھی تھے۔ علامہ اقبال ؒ کے قریب تھے، اِس قدرکہ اُنھوں نے1944ء میں حضرت علامہ اقبالؒ کو لکھے گئے388خطوط پر مَبنی دو کتابیں ترتیب دے کر چَھپوائیں۔ مختار مسعود اُنہی نامَور پروفیسر شیخ عطاء اللہ کے ہاں1926ء میں علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ وہیں پلے، بڑھے اور تعلیم و تربیت پائی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان آ کر مقابلے کا اعلیٰ امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔1949ء میں پاکستان کی سول سروس میں شامل ہونے والے تین عدد جوہرِ قابل میں سے ایک تھے۔سول سروس میں رہتے ہوئے ڈپٹی کمشنر، کمشنر، چیئرمین انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (آئل اینڈ گیس) بھی رہے۔

آر سی ڈی کے تحت قیام ایران کے دوران انقلابِ ایران کا بہ چشمِ خود مشاہدہ کِیا۔ اس مشاہدے اور مطالعے کے نتیجے میں ’’لَوحِ ایام‘‘ جیسی نادرہۂ روز گار تصنیف دی۔ اس سے قبل اُن کی دو کتابیں ’’آوازِ دوست‘‘ اور ’’سفر نصیب‘‘ ادب کی دُنیا میں دھومیں مچا چکی تھیں۔ پطرس بخاری کو اُن کی اکلوتی مختصر سی کتاب ’’پطرس کے مضامین‘‘ ہمیشگی عطا کر گئی اور وہ اور اُن کا کام لوحِ ادب پر ابد تک کے لئے محفوظ ہو گیا۔ اسی طرح مختار مسعود کی تینوں ہی مذکورہ کتابیں ناقابلِ فراموش قرار پائیں، ادب کا کوئی بھی سنجیدہ قاری ان کتابوں کو نظر انداز کر کے اپنی ہمہ دانی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔’’آوازِ دوست‘‘ وہ کتاب تھی جو پاکستان رائٹرز گلڈ کی وساطت سے ملنے والے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ ’’آدم جی ادبی ایوارڈ‘‘ سے محروم رہی، کیونکہ مقابلے میں شاعر، مزدور، ادیبِ بے نوا، سفارش اور ادبی لابی سے ماوراء حضرتِ احسان دانش کی آپ بیتی، جگ بیتی ’’جہانِ دانش‘‘ تھی۔۔۔ دونوں کتابیں اپنی اپنی جگہ ٹکر کی تھیں، بھاری پتھر تھیں، مگر چشمِ فلک نے پہلی اور آخری بار یہ منظر دیکھا کہ حاضر سروس، بہت بڑے بیورو کریٹ کی تصنیفِ لطیف ’’آوازِ دوست‘‘ ایک مزدور شاعر، ادیب کی کتاب ’’جہانِ دانش‘‘ سے مات کھا گئی اور اس مات کو حاضر سروس خوش گوار خوش اطوار بیورو کریٹ نے خوش دلی سے قبول بھی کیا اور احسان دانش کی ’’جہانِ دانش‘‘ کو سراہا۔ آج کے دَور میں کوئی چھوٹا موٹا، للو پنجو قسم کا ’’بیورو کریٹ‘‘ بھی یہ شکست گوارا کر سکتا ہے؟ اگر کر سکتا ہے تو سامنے آئے!

اب تو عالم یہ ہے کہ ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ کی ریوڑیاں بھی اندھے کی ریوڑیوں کی طرح اپنے اپنوں میں بانٹی جاتی ہیں، کام نہیں نام دیکھاجاتا ہے اور یہ بھی کہ اس ایوارڈ سے وابستہ نقد و نقد ’’دام‘‘ کا صحیح مستحق کون ہو گا ،جو زر خرید غلام کی طرح دام عطا کرانے والے کے ہمہ وقت کام آ سکے حتیٰ کہ مُٹھی چاپی بھی کر سکے۔۔۔ اگر کوئی باضمیر اس قسم کا ’’چماٹ‘‘ بننے کے واسطے اور ضمیر فروشی کے لئے آمادہ نہیں تو گھر بیٹھے خواہ وہ ہر عہد پر غالب مرزا غالب ہی کیوں نہ ہو۔۔۔!‘ مختار مسعود ہفتہ 15اپریل 2017ء کو 91برس کی عمر میں راہ�ئ مُلکِ عدم ہوئے، شادمان کے قبرستان میں سُپردِ خاک کر دیئے گئے بغیر اس قسم کے گِلے شِکوے کے کہ:

سُپردِخاک ہی کرنا تھا مجھ کو

تو پھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں

’’آوازِ دوست‘‘ وہ لازوال کتاب ہے، جس کے تناظر میں مجھ سے سینئر پروڈیوسر افضل رحمن نے ریڈیو پاکستان کے سنٹرل پروڈکشن یونٹ کے لئے یومِ پاکستان (23مارچ) کے حوالے سے ایک ایسا یادگار فیچر لکھوایا، جو سالہا سال سے ہر23مارچ کو قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے سے مختار مسعود کی شاہکار کتاب ’’آوازِ دوست‘‘ کی بدولت اِس خاکسار ناصِر زیدی اور افضل رحمن کا نام بھی زندہ ہے۔افضل رحمن جو کنٹرولر پی بی سی کی حیثیت سے ریٹائر ہو کر کسی اخبار میں بہت عمدہ کالم نگاری بھی کر رہے ہیں۔۔۔ آوازِ دوست‘‘ جیسی کتاب کے مصنف مختار مسعود کا ایک منفرد اعزاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے ریگل چوک پر مشہورِ زمانہ یاد گار ’’مسجدِ شہدا‘‘ کی بنیادوں میں شہرۂ آفاق ادبی مجلے ’’نقوش‘‘ کا ’’لاہور نمبر‘‘ بھی رکھوایا۔ مینارِ پاکستان پر لکھی گئی عبارتوں کی تدوین و تحقیق، مینا کاری اور پچی کاری کا کام بھی بحیثیت کمشنر لاہور مختار مسعود ہی نے اپنی نگرانی میں کروایا۔۔۔ اب ایسے ادب دوست،ادب نواز،کمشنر ڈپٹی کمشنر کیوں نہیں ہوتے؟اس فصل کو گُھن کیوں لگ گیا؟ کیا کوئی اورنج ٹرین، میٹرو بس کسی شاعر ادیب یا نقوش جیسے ادبی مجلے سے منسوب ہونے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔کیا اِن کی بنیادوں میں شہروں کے شہر، باغوں، بہاروں،کالجوں، یونیورسٹیوں کے شہر، شہر زندہ دلاں لاہور سے گزشتہ 82برس سے باقاعدہ تسلسل کے ساتھ شائع ہونے والے ’’ادبِ لطیف‘‘ کے کسی شمارے کو ’’نقوس‘‘ کے ’’لاہور نمبر‘‘ جیسی پذیرائی دینے والا کوئی پڑھا لکھا بیورو کریٹ اب دوا میں ڈالنے کو بھی دستیاب نہیں؟؟

اپنی آخری کتاب’’لَوحِ ایام‘‘۔۔۔ کا 9نومبر 1995ء کو مختار مسعود نے مختصر سا دیباچہ یُوں لکھا:’’اِس کتاب کو لکھنے میں اتنا وقت نہیں لگا جتنا یہ طَے کرنے میں کہ لِکھا جائے یا نہ لکھا جائے۔۔۔ اور اگر لکھا جائے تو اس کی حد بندی کیسے کی جائے وجہ معلوم کرنے کے لئے آپ کو کتاب پڑھنی ہو گی، اس کے بعد گریبان میں جھانکنا ہو گا۔اگر وہ سلامت نظر آیا تو گویا انقلاب کے موضوع پر لکھنے کا فیصلہ کچھ ایسا درست نہ تھا‘‘۔۔۔!انقلاب خواہ کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو، اس کی داستان ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ امید اور عمل، بیداری اور خود شناسی، جنوں اور لہو کی داستان بھی کہیں پرانی ہو سکتی ہے۔ زمانہ اس کو بار بار دوہراتا ہے، فرق صرف نام مقام اور وقت کا ہوتا ہے:

از انقلابِ زمانہ عجب مدار کہ چرخ

ازیں فسانہ و افسوں ہزار دارَد یاد

’’لَوحِ ایام‘‘۔۔۔ انقلابِ ایران کی داستان ہے۔ مختار مسعود لکھتے ہیں:۔۔۔’’مَیں نے ایران میں انقلاب کو بہ چشمِ خود دیکھا ہے۔تفصیل اور تصریح کے ساتھ دیکھا ہے۔ مَیں نے ایران میں انقلاب کے معنی پڑھے اور سُنے نہیں، بلکہ دیکھے ہیں۔اب مَیں یہ لفظ اور معنی۔خیال اور عمل۔مجاز اور حقیقت کا فرق جانتا ہوں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ میرے لئے انقلاب پہلے صرف ایک لفظ تھا، لفظ مضمون بن گیا۔ مضمون علم میں ڈھل گیا، علم کا عمل سے واسطہ پڑا۔ بات جم گئی۔ وہ جو محض ایک لفظ تھا اب ایک بیش بہا تجربہ ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ تجربہ ہی نہیں، بلکہ ایک عہد بھی ہے:

جس میں نہ ہو، انقلاب موت ہے وہ زندگی

رُوحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب

مزید :

کالم -