اتنی تیزی نہ دکھائیں

اتنی تیزی نہ دکھائیں
اتنی تیزی نہ دکھائیں

  

اس عنوان سے قطعی گھبرانے کی ضرورت نہیں ،کیونکہ آج کے حالات اور ماضی کے حالات میں بہت فرق ہے۔ جس زمانے میں فیلڈ مارشل ایوب خان پاکستان کے صدر مملکت تھے۔ اس زمانے میں روزنامہ کوہستان راولپنڈی میں یہ خاکسار اُن کی کنونشن لیگ کے اخبار کوہستان کا چیف رپورٹر تھا۔ اخبار کے چیئرمین مردان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر تجارت جناب عبدالغفور ہوتی تھے ، جنہیں ان دنوں چینی کی کمی اور مہنگائی کی بدولت اسمبلی میں اپوزیشن کی تنقید کا سامنا تھا اور ٹھیک اس وقت وَن یونٹ کو توڑ کرچار صوبے پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو الگ صوبوں کا درجہ دے کر فیڈریشن چلانے کی تحریک بھی جاری تھی اور اس کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی گول میز کانفرنس بھی اسلام آباد میں جاری تھی۔ نواب زادہ نصراللہ خان اپوزیشن کی طرف سے کافی اہمیت کے حامل تھے ، ان کا کردار کلیدی حیثیت کا تھا۔کئی اجلاس ہوئے، نوابزادہ شیر علی خاں آف پٹودی اطلاعات ونشریات کے وزیر تھے۔ ہر اجلاس سے پہلے خبریں گرم ہو جاتیں کہ ون یونٹ ختم کیا جارہا ہے، یعنی اب مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان دو صوبوں کی بجائے پاکستان کے پانچ صوبے ہوں گے، میں بتاتا چلوں کہ اس وقت اخبارات کی تعداد کم تھی اور الیکٹرانک میڈیا میں سوائے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان، بی بی سی، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی، ریڈیو تہران مزید کچھ موجود نہ تھا۔ جہاں جہاں وسائل تھے، وہاں پر ہی ان خبررساں اداروں کی خبریں آتی تھیں اور پھر اخبارات کے ذریعہ بھی پہنچ جاتی تھیں، لیکن پاکستان جیسے پڑھائی لکھائی سے محروم ملک میں جہاں غربت کی انتہا تو یہ تھی کہ گندم امداد کے طور پر امریکہ سے آتی تھی ، وہاں عوام سیاسی طورپر قطعی اس شعور کے مالک نہیں تھے،جو آج 2017ء میں آپ کو دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذا میڈیا کو اس قدر اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔

ایک روز ایوان صدر میں ایوب خان کی زیر صدارت گول میز کانفرنس جاری تھی۔ اخبارات کی ٹیمیں مخصوص کی گئی جگہوں میں موجود تھیں۔ میرا تعلق مخصوص کی ایوان صدر کے اندر بھی آنے جانے والوں میں کوہستان اخبار کے سرکاری اخبار کی وجہ سے اور فیلڈ مارشل سے مسلم لیگ کنونشن کے لئے کام کرنے والوں کی وجہ سے تھا، اس لئے میں اندر اور باہر آتا جاتا رہتا تھا۔اسی دوران یہ خبر گرم ہوئی کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کسی صورت بھی ون یونٹ توڑنے پر آمادہ نہیں، جبکہ اس میٹنگ میں مشرقی پاکستان سے بطور ملزم جیل سے میٹنگ میں بلائے گئے، عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان اس پر ڈٹے ہوئے تھے کہ ون یونٹ توڑنا ہوگا ۔ وہاں پر موجود میں نے اپنے ایڈیٹر سے بات کی تو انہوں نے کہا رات زیادہ ہو گئی ہے۔ اخبار اب اشاعت کے لئے پریس میں جانے والا ہے، آپ اتنی خبر تو بھجوادیں تو وہاں پر موجود پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر راولپنڈی زیڈ اے سُلہری اور نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی نے مجھے ٹوکا اور کہا، ’’ینگ مین‘‘ تیزی مت دکھاؤ۔ پہاڑوں میں جب چھوٹے بچے کھیل کھیلتے ہیں تو خالی ڈبہ لڑھکاتے ہیں اور پھر اسے پکڑنے تیزی سے اس کے پیچھے بھاگتے ہیں۔اس کھیل میں زیادہ تیزی سے دوڑنے والا گہری کھائی میں گرتا ہے ، جبکہ اس کے پیچھے آنے والے بچ جاتے ہیں۔ چنانچہ ان سینئر حضرات کی یہ بات مان کر یہ خبر میں نے تو فائل نہ کی ، لیکن کسی اور نے کردی اور اس کا نقصان بھی اٹھایا، کیونکہ آدھی رات کے بہت بعد ختم ہونے والی اس گول میز کانفرنس میں جو فیصلہ ہوا، وہ مغربی پاکستان کا دن یونٹ توڑ کر چار صوبے بنانے کے اعلان یعنی فیصلے کا تھا اور یوں ان اخباروں کی وہ خبریں غلط ثابت ہوئیں،جو محض وقت بچانے اور جلدی میں فائل کی گئی تھیں۔

آج تقریباً نصف صدی گزرنے کے بعد جب ایک چینل پر رؤف کلاسرا کی یہ گفتگو سنی ،جو انہوں نے فاروق لغاری کے بیٹوں جمال لغاری، اویس لغاری کے بارے میں کی، تو مجھے وہ تیزی میں دکھائی دیئے۔ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ انہوں نے ماشااللہ جس قدر انگریزی، اُردو لِٹریچر اور تاریخی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہیں لندن کی اس لائبریری کا بھی ضرور دورہ کرنا چاہئے۔ جہاں پر ضلع نہیں تو تحصیل ڈیرہ غازی خان کے گزیٹر موجود ہیں۔ حتیٰ کہ ڈی سی ملتان کی فائلیں موجود ہیں جہاں اس خاندان کی تاریخ موجود ہے۔ جب وہ اس تاریخ کے حوالے سے بات کریں گے تو انہیں کم از کم کتے نہلانے کے بدلے زمین الاٹ کرنے کرانے کی بات ہی نہیں کرنا پڑے گی۔جناب مصطفی کھر جب صوبہ پنجاب کے گورنر بنے اور انہوں نے پنجاب کی تمام پولیس کو معطل کردیا تو اس وقت اس خادم نے(جوروزنامہ نوائے وقت میں رپورٹنگ سیکشن کا انچار ج تھا) موصوف کوکہا تھا کہ تیزی نہ دکھاؤ۔ پہاڑ سے کھائی میں جاگرو گے، لیکن مصطفی کھر نہیں مانے تھے۔ پھر وہ یہی مصطفی کھر تھے جنہوں نے ppp چھوڑ کر حنیف راے کے ہمراہ کوئی نئی جماعت بھی بنائی اور ایک نئی pppبھی بنائی اور آج پی ٹی آئی میں چلے گئے ہیں، لیکن اب خیر سے انگریزوں کے نہیں بلکہ اپنے ہی کتوں کو نہلانے میں ماہر ہیں۔ رؤف کلاسرا چونکہ بنیادی طور پر جستجو والی زندگی گزارنے کے عادی ہیں۔

شعور تو اس بات کا وہاں پیدا کرنا ہوگا کہ سندھ ہو یا پنجاب جن وڈیروں کے پاس لاکھ، دولاکھ ، تین لاکھ شناختی کارڈ اپنے ذاتی ملازمین، کارندوں، مزارعوں، زمینوں پر کام کرنے والوں کے ہیں، ان سے نجات کیسے ، کب اور کن حالات میں ممکن ہے۔ زرعی بینک تمام قرضے بھی اربوں روپے کے حساب سے انہی لاکھوں شناختی کارڈوں پر دینے کے پابند ہیں اور پھر ووٹ بھی رؤف کلاسرا کی تمام تر مخالفت کے باوجود اسی سسٹم میں ہی دیا جاتا ہے۔ جہاں تک جمال لغاری، اویس لغاری قماش کے لوگوں کا تعلق ہے، تو اسی قماش کے کھوسہ خاندان کے اسی سسٹم کے نوجوانوں سے بھی آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے، ان سے کون سی آپ نئی تبدیلی لے آئیں گے۔ رؤف کلاسرا یہ تیزی نہ دکھائیں تو زیادہ بہتر ہے، اگر پاکستان کے 20کروڑ عوام اور 9کروڑ ووٹروں کو یہی لوگ منظور ہیں ، تو انہیں اس سسٹم کی جوتی پر رکھیں اور پاکستان کی بقا کی اس جنگ کی فکر کریں، جہاں اس قسم کے کتے نہلانے والی تاریخ کے ہیروکسی مودی کے کتے نہلانے کی حامی نہ بھر لیں۔ ویسے رؤف کلاسرا ایک واقعہ کو شاید اتفاق کا نام دیں، لیکن واقعہ میں یہاں لکھ رہا ہوں۔ جس عرصہ کے دوران میں 1996-1993ء محترمہ بے نظیر وزیر اعظم اورسردار فاروق احمد لغاری پاکستان کے صدر تھے، ان دنوں نوکری کے سلسلہ میں میری پوسٹنگ بنگلہ دیش سفارت خانہ میں بطور پریس منسٹر ڈھاکہ میں تھی۔

ڈھاکہ کے ایک صحافی دوست حسن شہریار نے سلہٹ کے شہر مولوی بازار آنے کی دعوت دی ، جہاں کے چیئرمین میونسپل کمیٹی (یامیئر ضلع کونسل) برادر محسن نے ایک تقریب منعقد کی۔ شہر کے ہال میں منعقدہ اس تقریب میں ایک مقرر نے جناب سردار فاروق احمد لغاری کے بارے میں بتایا کہ جب موصوف نے سی ایس پی کا امتحان پاس کیا، تو ٹرینگ کے بعد بطور ایس ڈی ایم یا شاید اسسٹنٹ کمشنر پہلی پوسٹنگ مشرقی پاکستان کے اسی شہر مولوی بازار میں ہوئی۔ موصوف کو سرکاری گھر بھی ملا ہوا تھا۔ وہ لاہور سے فوکر جہاز چارٹر کرکے اپنے کتوں سمیت مشرقی پاکستان آتے انہیں اپنے ان کتو ں سے اس قدر پیار تھا کہ وہ خود انہیں نہلاتے تھے۔ اب یہاں رؤف کلاسرا ہی کوئی رائے دے سکتے ہیں کہ کیا ان کی یہ عادت ان کے پُرکھوں سے ملتی تھی یا ان کی جبلت INSTINCT کی بدولت تھی۔ مشرقی پاکستان میں نہ تو ملازموں کی کمی تھی اور نہ ہی سردار فاروق لغاری کو پیسوں کی کمی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ان کے کتے انگریزی زمانہ کے نسلی ہیں اور ان کتوں کا شجرہ نسب تین چار سو سال پرانا ہے۔ اب آگے کا حال تو لغاری خاندان کے پرانے بزرگ مرحومین محمد خان لغاری اور جعفر خان لغاری ہی جان سکتے ہیں۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

مزید :

کالم -