تذکرہ دس ارب روپے کی پیشکش کا!

تذکرہ دس ارب روپے کی پیشکش کا!
تذکرہ دس ارب روپے کی پیشکش کا!

  

شکوک و شبہات اور الزامات کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ شک کی فضا میں چھوٹا سا الزام بھی ایک بڑے دھماکے کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جبکہ عام حالات میں بڑے بڑے الزامات بھی اپنا کوئی اثر نہیں چھوڑتے۔اس وقت پاکستان کی سیاسی فضا بری طرح الزامات کی زد میں ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں۔ عمران خان نے پاناما کیس سے دستبردار ہونے کے لئے دس ارب روپے کی جس پیشکش کا ذکر کیا ہے، عام حالات میں اسے دیکھا جاتا تو بآسانی بے پرکی اڑانا کے مصداق اسے نظر انداز کیا جاسکتا تھا، مگر اس وقت چونکہ شکوک و شبہات کی پوری طرح بادشاہی چل رہی ہے، اس لئے اس الزام کے سامنے آتے ہی ایک ہلچل سی مچ گئی ہے۔ شریف خاندان نے اسے اس قدر سنجیدگی سے لیا ہے کہ عمران خان کو عدالت میں لے جانے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایسے الزامات کی کیا حیثیت ہوتی ہے؟ یہاں تو ملک دشمنی کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو غداری تک کے طعنے دے دیئے جاتے ہیں ، پھر ایسے الزامات کو اتنی سنجیدگی سے کیوں لیا جارہا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ملک میں شکوک و شبہات کی سیاست اور الزامات کی بوچھاڑ بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور شریف فیملی کے افراد عمران خان کے اس الزام کو اس لئے بھی سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ پاناما کیس کے بعد ایک مذموم سازش کے تحت عدالتِ عظمیٰ کے ججوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ تک کہا گیا کہ آخر میں کسی جج نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔ اس فضا میں جب عمران خان نے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں پاناما کیس سے دستبردار ہونے کے لئے دس ارب روپے کی پیشکش کی گئی تو یقیناًیہ بہت بڑا الزام ہے اور شریف فیملی کے لئے اسے آسانی سے ہضم کرنا ممکن نہیں تھا، اس لئے اس کا جواب بڑے زور دار انداز میں دیا جارہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی اس معاملے کو عدالت میں لے جایا جاتا ہے یا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔

پاکستان میں سیاست روز مرہ ایشوز کی بنیاد پر چلتی ہے۔ یہاں کوئی مستقل مسئلہ سیاست کا باعث نہیں بنتا۔ پاکستان کے جو بنیادی مسائل ہیں، مثلاً غربت، بے روزگاری، کرپٹ دفتری نظام، پینے کا صاف پانی، تعلیم و صحت کی ناکافی سہولتیں اور سب سے بڑی خرابی عدل و انصاف کا ظالمانہ نظام ہیں۔۔۔ چونکہ ان پر ہماری سیاست توجہ ہی نہیں دیتی اور تمام سیاسی جماعتوں نے مشترکہ طور پر ان مسائل سے آنکھوں چرا رکھی ہیں، اس لئے وہ روزانہ کی بنیاد پر کوئی ایشو بناتی ہیں اور اپنی سیاست کا الوسیدھا کرتی رہتی ہیں۔ اب بھلا یہ کوئی بات ہے کہ عمران خان کے بیان پر خورشید شاہ یہ کہیں کہ انہوں نے پیشکش کرنے والے کا نام نہ بتایا تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔۔۔ یا بلاول بھٹو اور اسفند یارولی کو سب کام چھوڑ کر یہ مطالبہ داغ دینا چاہئے کہ عمران خان پیشکش کرنے والے کانام بتائیں۔۔۔ شریف فیملی کا تو حق بنتا ہے کہ وہ عمران خان کے الزام کی تردید بھی کرے اور انہیں عدالت لے جانے کی دھمکی بھی دے، باقی ساری سیاست کیوں اس مسئلے کے گرد گھومنے لگی ہے؟ بعض دعوے ایسے ہوتے ہیں، جن کے اندر ایسی حقیقتیں چھپی ہوتی ہیں کہ وہ خود بخود دم توڑ دیتے ہیں۔ عمران خان کا یہ دعویٰ بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ ایسے دعوؤں کو عدالت میں لے جانا بال کی کھال اتارنے کے مترادف ہوتا ہے، کیونکہ عدالتوں میں تو اور بہت سی چیزیں سامنے لانا پڑتی ہیں۔ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ عمران خان یہ کیوں کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے پیشکش کرنے والے کا نام بتا دیا تو وہ پھنس جائے گا۔ ہاں وہ جھوٹا ہوگا تو ضرور پھنسے گا، لیکن اگر اسے واقعی شہبازشریف نے بھیجا تھا تو پھر انہیں تو پتہ ہی ہے کہ کون پیشکش لے کر گیا تھا، وہ اگر اس کے خلاف کچھ کرنا چاہیں تو اب بھی کر سکتے ہیں۔د وسری طرف پی ٹی آئی کے ایک رہنما مجھے کہہ رہے تھے کہ جب ڈان لیکس کے حوالے سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ سرل المائڈہ کوخبر کا ذریعہ بتانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا تو پھر عمران خان کو کیوں کہا جا رہا ہے کہ وہ دس ارب کی آفر لانے والے کا نام بتائیں۔۔۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب بہت سی چیزیں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گئی ہوں تو ہر شخص کے پاس اپنے مطلب کے دلائل موجود ہوتے ہیں۔

میں نے آغاز میں ذکر کیا تھا کہ شکوک و شبہات اور الزامات کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس فضا میں جب بھارتی صنعت کار سجن جندال کی آمد ہوئی اور مری میں وزیراعظم نوازشریف سے ان کی چند گھنٹے ملاقات رہی تو ہر طرف ایک نئے موضوع کا شور و غل شروع ہو گیا۔ سوالات ہیں کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آرہے۔ سجن جندال اچانک افغانستان سے پاکستان کیوں آئے؟ چند گھنٹے قیام کا مقصد کیا تھا؟ ایک ایسی فضا میں جب پاکستان میں کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور اسی دن بھارتی ہائی کمشنر نے اس کی رہائی کے لئے درخواست بھی دائر کی، جب سجن جندال پاکستان آئے،نیز مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی واضح نظر آتی شکست اور خود کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کا یہ استدلال کہ بھارت فوراً پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرے، وگرنہ کشمیر ہاتھ سے نکل جائے گا، جیسے حالات ایسے سوالات کو ضرور جنم دیتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کے معتمدِ خاص کا دورۂ پاکستان کس لئے تھا؟ کیا یہ کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی تھی یا پھر یہ صرف ایک ذاتی دوستی کے حوالے سے رونما ہونے والا واقعہ تھا۔ اب ایسی فضا میں اپوزیشن جو چاہے کہہ سکتی ہے، جو الزام لگانا چاہے لگا سکتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اتنے بڑے اور متحرک میڈیا کے باوجود یہ خیال کیا جاتا ہے کہ معاملات کو خفیہ رکھا جا سکے گا،حالانکہ یہ انتہائی احمقانہ بات ہے۔ حکومت صرف وہی نہیں ہوتی جو بظاہر نظر آ رہی ہوتی ہے، ریاست کے اور بھی بہت سے اسٹیک ہولڈرز ہوتے ہیں جو اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔۔۔ جو لوگ سجن جندال کو جاری ہونے والے ویزے کی فوٹو حاصل کر سکتے ہیں، وہ دورے کے اصل مقاصد تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ بھارتی صنعتکار کی آمد کے حوالے سے باقاعدہ ایک پریس ریلیز جاری کیا جاتا۔مریم نواز شریف کے ٹویٹ سے اگر حقائق سامنے آئیں گے، تو ان پر شکوک و شبہات کے سائے پڑنا تو عین فطری بات ہے۔ بھلے سجن جندال فیملی فرینڈ کی حیثیت سے نجی دورے پر آئے ہوں، لیکن ان کا پس منظر، بھارت سے ان کا تعلق اور پھر وزیر اعظم سے ان کی ملاقات ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے اس دورے کو خفیہ رکھنا خوامخواہ شکوک و شبہات کو جنم دینے کے مترادف تھا۔

جانے وہ دن کب آئے گا جب ہماری سیاست شکوک و شبہات اور الزامات کی اس فضا سے نکلے گی جس نے سیاست کو اس کے حقیقی اہداف سے دور کررکھا ہے۔ یہ آج کی بات نہیں، بلکہ ستر برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور میں سیاستدانوں نے حقیقی مسائل پر تو جہ دینے کی بجائے ایک دوسرے کو غدار، کرپٹ اور ملک دشمن ثابت کرنے کے لئے ذاتی حملے کئے ہیں۔ کبھی یہاں یہ نعرے لگتے رہے۔۔۔’’ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘‘ اور کبھی ’’بھارتی ایجنٹ مردہ باد‘‘ کے نعروں سے دوسرے کو غداری کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا رہا۔ ایک تیسرا عنصر بھی ہمیشہ سے سیاست میں موجود رہا ہے جو دوسروں پر کفر کے فتوے جاری کرتا ہے۔ کرپشن کا الزام تو اب اتناپٹ چکا ہے کہ بہت سے سیاستدانوں کا تکیہ کلام بن کر رہ گیا ہے۔ لطیفے پر لطیفہ یہ ہو رہا ہے کہ جو کل کے معروف سیاسی کرپٹ تھے، وہ آج یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ حکمرانوں کے پیٹ پھاڑ کرلوٹی ہوئی دولت نکالیں گے۔ سیاست کے ان دائمی اجزائے ترکیسی کی موجودگی میں پاناما کیس کے فیصلے نے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ اس کی اپنی اپنی تعبیریں ہو رہی ہیں اور اپنے اپنے مطالب نکالے جارہے ہیں۔ خیال تھا کہ اس سے کسی خاص سمت کا تعین ہو جائے گا ، مگر یہاں تو رہی سہی سمت بھی گم ہو گئی ہے۔ ایسی گھمبیر فضا میں عمران خان نے اگر دس ارب روپے کی پیشکش کا ذکر کیا ہے ، تو اسے سنجیدہ لینے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔ ویسے خان صاحب کو بھی سوچنا چاہئے کہ جہاں ڈاکٹر عاصم حسین پر 472 ارب کی کرپشن کے الزامات لگتے ہوں، شرجیل میمن جیسے معمولی سے رہنما پر بھی اربوں روپے کی کرپشن کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہو، وہاں ان جیسے ملک کے ایک بڑے، ایماندار اور مقبول رہنما کو صرف دس ارب روپے کی پیشکش کیوں کی گئی؟ کہیں یہ ان کے ساتھ سنگین مذاق تو نہیں تھا؟

مزید :

کالم -