محکمہ زراعت کی پنجاب میں کپاس کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کی کوششیں

محکمہ زراعت کی پنجاب میں کپاس کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کی کوششیں

  

لاہور(کامرس رپورٹر )محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق اس سال پنجاب میں 60 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کے ہدف1کروڑ گانٹھ کے حصول کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ملکی برآمدات کا سالانہ تقریباً 51 فیصد زرمبادلہ کپاس سے حاصل ہوتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ کپاس کی اچھی پیداوار کیلئے زرخیز میرا زمین کا انتخاب کیا جائے اور اس مقصد کے لئے ایسی میرازمین بہتر رہتی ہے جو تیاری کے بعد بھربھری اور دانے دار ہو جائے۔ اس میں نامیاتی مادہ کی مقداربھی بہترہونی چاہئے تاکہ اس میں پانی زیادہ جذب کرنے اور دیر تک وتر قائم رکھنے کی صلاحیت بھی موجودہو۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ زمین کی نچلی سطح سخت نہ ہو تا کہ پودے کی جڑوں کو نیچے اوراطراف میں پھیلنے میں دشواری نہ آئے۔ اس لیے زمین کی تیا ر ی کے لئے گہر ا ہل چلائیں۔

اور زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر لیولر کریں تا کہ پودے کی جڑ یںآ سا نی سے گہرا ئی تک جا سکیں اور وتر دیر تک قائم رہے۔پچھلی فصلات کی باقیات زمین میں اچھی طرح مل جانی چاہئیں۔ اس مقصد کے لئے روٹا ویٹر، ڈسک ہیرو یا مٹی پلٹنے والا ہل استعمال کریں تاکہ بوائی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ سبز کھا د کے طور پر استعما ل ہونے والی فصلا ت کو 30 دن پہلے وتر زمین میں دبا دیا جائے اور کھیت میں دبانے کے 10دن کے اندراندرپانی لگا دیا جائے تاکہ سبز کھاد اچھی طرح گل سڑ جائے۔گلنے کے عمل کو تیز کرنے کے لئے فصل کو زمین میں دباتے وقت1/2بوری یوریا فی ایکڑ ڈالیں۔ زمین کی تیاری کرتے وقت کھیت کی ہمواری کا خاص خیال رکھا جائے۔ کاشت سے قبل محکمہ زراعت کی ضلعی مٹی اور پانی کے تجزیہ کی لیبارٹریوں سے کرایا جائے۔ پانی اور اجزائے خوراک کی یکساں تقسیم اور پانی کی بچت کیلئے لیزر لینڈ لیولر کا استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ ہر تین سال بعد گہرا ہل چلایا جائے تاکہ کپاس کی فصل کی جڑوں کا نظام مضبوط ہوسکے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔

مزید :

کامرس -